Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

کی نقل شامل عرضداشہ ہذا ہے اس کے ملاحظہ سے واضح ہے کہ عمرو نے ضمانت نہیں کی ہے بلکہ جائداد کو مکفول کرایاہے،

(۳)تیسرا مضمون سوال میں یہ غلط ظاہر کیا ہے کہ زید کا یہ عذر ہے کہ کفالت بالمال شرعا ناجائز ہے مجھ مدعا علیہ کا ہر گز عذر نہیں ہے بلکہ میرا عذر یہ ہے کہ کسی مطالبہ کی بابت جائداد کو مکفول کرانا شرعا ناجائز ہے یعنی ضمانت میں جائداد کا استغراق کرانا شرعا ناجائز ہے۔

(۴)چوتھا مضمون سوال میں یہ بھی خلاف درج کیا ہے کہ زید کی درخواست پر عمرو نے اس کی ضمانت مستاجری اپنی جائداد سے کی،یہ واقعہ بالکل غلط ہے،مفتی صاحب نے اس واقعہ کو ثابت شدہ نہیں قرار دیا ہے اس غلط اور غیر مطابق سوال کی بنیاد پر حضور نے یہ تجویز فرمایاہےکہ کفالت بالمال شرعا ناجائز ہے لہذا حضور والا ! میں نقول ہرسہ فتوٰی حضور جو سادہ کاغذ پر ہے اورنقل فیصلہ جناب مفتی صاحب دیوانی اورنقل فتوٰی آخر جو باضابطہ عدالت سے حاصل کیا گیا ہے اور نقل اقرار نامہ کفالت اور قانون آئین حامدیہ معطوفہ عرضہ داشت ہذا درگاہ والا میں پیش کرکے امیدوار ہوں کہ حضور ہر سہ فتوی سابق وفتوی مابعد نظر ثانی فرماکر اور فیصلہ مفتی صاحب دیوانی اور نقل اقرارنامہ کفالت ودفعہ ۷۷ لفایت ۷۹ قانون مذکورہ ملاحظہ فرماکر ارشاد فرمائیں کہ ہر سہ فتاوٰی سابق پیش کردہ انوار حسین مدعا علیہ مطابق نالش مدعی ہیں یا فتوٰی آخر پیش کردہ لچھمی نرائن مدعی متعلق مقدمہ ہے اور عذر مدعا علیہ کا شرعا قابل منظوری ہے یاعذر مدعی کا؟ زیادہ حد ادب

الجواب:

دارالافتادہ دارالقضاء نہیں یہاں کوئی تحقیق واقعہ نہیں ہوتی،صورت سوال پرجواب دیا جاتاہے،سوال اخیر کے حضور احمد خاں رامپوری ملازم کچہری بریلی منصرم نقل نے پیش کیا(جسے اس سوال حال و ملاحظہ تجویز مفتی صاحب ودیگر کاغذات مدخلہ سائل نے بتایا کہ ہندومدعی کا سوال تھا اوراسی مقدمہ سے متعلق جس کی نسبت کئی سوال منشی سید انوار حسین مدعی رامپوری نے بوساطت مرزا نظیر بیگ صاحب سابق نائب تحصیلدار بریلی دارالافتاءمیں پیش کئے اور ۹ ربیع الاخر ۱۳۳۶ھ کو جواب دئے گئے تھے)اس میں یہ تھاکہ زید وعمرو سے درخواست ضمانت کی اور عمرو نے اس کی درخواست پر اس کی ضمانت کی اور زید کفالت بالمال کو ناجائز کہتاہے اس میں حکم کیاہے،اس کا جواب یہی تھا کہ کفالت بالمال یقینا صحیح ہے اورجبکہ کفیل حسب درخواست مکفول عنہ ضامن ہوا تو بلا شبہ مطالبہ زر ادہ کردہ کرسکتاہے ہے اپنی جائداد سے دو لفظ سوال میں فضول تھاکہ جب عمرو زید کی درخواست پر ضامن ہوا یعنی اپنا ذمہ زید سے ضم کیا ضمانت مکمل ہوگئی خواہ زر نقد سے کی ہو یا جائداد سے یا صرف زبانی،تینوں طریقے رائج ہیں،اور اصل وہی ضم ذمہ ہے اس کے


 

 



Total Pages: 715

Go To