We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

 

 

 

 

 

کتاب الکفالۃ
(ضامن بننے کا بیان)

 

مسئلہ ۲۷۸:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی قدر قرض بکر کا ذمہ عمرو کے ہے،زید نے کہا اسے میں ادا کردوں گا،عمرونے بھی اسے قبول کرلیا،بکر نے کہا عمرو میرے مطالبہ سے بری ہوا میں تجھ سے لوں گا،اس صورت میں بکر کو زید سے اس قرضہ کے مطالبہ کااختیار ہے یانہیں ؟ بینوا توجروا

الجواب:

صورت مستفسرہ میں زید اس قرضہ بکر کا جس کے ادا کا اس نے وعدہ کیا اگر لفظ صرف اس قدر تھے کفیل نہ ہوا کہ یہ مجرد وعدہ ہے اور وعدہ بے تعلیق بشرط لازم نہیں ہوتا،اور بکر کا اس سے کہنا کہ عمرو میرے مطالبہ سے بری ہوا میں تجھ سے لوں گا اور زید کا اس پر سکوت کرنا اول تو سکوت قول نہیں اور ہو بھی تو اس کی غایت اس قدر کہ زید نے قول بکر قبول کیا گویا اس نے کہا تو مجھ سے لینا یہ بھی ایك امر ہے جس کا حاصل وعدہ ہے کہ میں دوں گا اور اس قدر سے کفالت ثابت نہیں ہوتی۔عالمگیری میں محیط سے ہے:

اذا قال انچہ ترابر فلان ست من بدہم فہذا وعد لا کفالۃ [1]۔

اگر کہا جو کچھ تمہارا فلاں پر لاز م ہے وہ میں دوں گا تو یہ وعدہ ہے کفالہ نہیں۔(ت)

 


 

 



[1] فتاوٰی ہندیہ کتاب الکفالۃ الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۲۵۶



Total Pages: 715

Go To