Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

غاصب ہے۔چنانچہ جو ضابطہ میں نے بیان کیا ہے معاملہ اسی پر منحصر ہوا۔الله تعالٰی کے لئے ہی حمد ہے۔اسے محفوظ کرلو کہ اس کو تو ان سطور میں کے غیرمیں نہ پائیگا۔اور مسلسل وافر نعمتوں کی عطا پر تمام تعریفیں الله تعالٰی کے لئے ہیں۔(ت)

پھر جہاں نوٹ پر مرابحہ منع ہے اس کے یہ معنٰی ہیں کہ ملك اول کے لحاظ سے نفع مقرر نہیں کرسکتا ابتدائے بیع بے لحاظ سابق کرے جسے مساومہ کہتے ہیں۔تو اختیار ہے جنتے کو چاہے بیچے اگر چہ دس کا نوٹ ہزار کو۔بحرمیں ہے:

قید بقولہ لم یرابح لانہ یصح مساومۃ لان منع المرابحۃ انماھی للشبہۃ فی حق العباد لافی حق الشرع وتمامہ فی البنایۃ [1]۔

 ماتن نے یہ قید لگائی کہ وہ بیع مرابحہ نہیں کرسکتا کیونکہ بیع مساومہ اس میں صحیح ہے اس لئے کہ مرابحہ کی ممانعت حقوق العباد میں شبہ کی وجہ سے ہے نہ کہ حق شرعی میں ۔اس کی پوری بحث بنایہ میں ہے۔(ت)

اورجہاں مرابحہ جائز ہے اور یوں مرابحہ کیا جس طرح سوال میں مزکور ہے کہ لکھی ہوئی رقم سے مثلا فی روپیہ ایك آنہ زیادہ لوں گا تو اس کے لئے ضرورہے کہ مشتری کو بھی اس کی رقم معلوم ہو اور جانے کہ مجموع یہ ہوااورنہ اگر کسی ناخواندہ کے ہاتھ بیچا ہے معلوم نہیں کہ یہ نوٹ کتنے کا ہے اس صورت میں اگر اسی جلسہ بیع میں اسے علم ہوگیا کہ یہ مثلا سوروپے کا ہے اور مجھے ایك سو چھ روپے چارآنے میں دیا جاتاہے تو بعد علم اسے اختیار ہے کہ خریداری پر قائم رہے یا انکار کردے اور اگر ختم جلسہ بیع تك اسے علم نہ ہو توبیع فاسد وحرام و واجب الفسخ ہوگئی اگرچہ بعد کو اسے علم ہوجائے۔ردالمحتارمیں ہے:

قال فی النہر لو کان البدل مثلیا فباعہ بہ وبعشرہ ای بعشر ذٰلك المثلی فان کان المشتری یعلم جملۃ ذٰلك صح والا فان علم فی المجلس خیر والافسد [2]۔

نہر میں کہا کہ اگر بدل مثلی ہے اور اس نے اس مثلی بدل اور مزید اس کے عشر یعنی اس مثل کے دسویں حصہ کے عوض بیع کی،اس صورت میں اگر مشتری کو اس تمام کا علم ہے تو بیع صحیح ہے اور اگر علم نہیں تھا مگر اسی مجلس میں اس کو معلوم ہوگیا تو اسے اختیار ہے ورنہ فاسد ہوگی۔(ت)

ہدایہ باب المرابحہ میں ہے:

اذ احصل العلم فی المجلس جعل کابتداء العقد وصار کتاخیر القبول الی اٰخر المجلس وبعد الافتراق قد تقرر فلا یقبل الاصلاح ونظیرہ بیع الشیئ برقمہ [3]۔واللہ تعالٰی اعلم۔

جب مشتری کو مجلس کے اندر ثمن کا علم ہوگیا تو اس کی ابتداء عقد کی طرح قراردیا جائے گا اور یہ آخر مجلس تك قبول کومؤخر کرنے کی مثل ہوگیا اور جدائی(تبدیلی مجلس)کے بعد اگر علم ہوا تو اب چونکہ فساد مستحکم ہوچکا ہے لہذایہ بیع اصلاح کو قبول نہیں کرے گی اورا س کی نظیر کسی شے کو اس کی لکھی ہوئی قیمت کے عوض فروخت کرنا ہے۔اور الله تعالٰی خوب جانتا ہے۔ت)

___________________

باب التصرف فی المبیع والثمن

(مبیع اورثمن میں تصرف کرنے کا بیان)

مسئلہ ۱۰۵: از بڑودہ پائگاہ قام حالہ مرسلہ سیدہ میاں حالہ ۱۹ ربیع الاخر شریف ۱۳۱۰ھ

قدوۃ العلماء عمدۃ الفضلاء اس مسئلہ کبیر میں کیا ارشاد فرماتے ہیں ایك شخص نے ایك عورت سے نکاح کیا۔چند روز کے بعد عورت نے اپنا مہر طلب کیا،خاوند اس کا کہنے لگا کچھ روپیہ اس وقت نقد مجھ سے وصول کرلے باقی روپیہ جو رہا مکان اور زمین نرخ بازار سے خرید لے اور جو اس سے بھی باقی رہے قسط بقسط ماہ بماہ دیتارہوں گا تیرا مہر بہرحال ادا کردوں گا۔عورت اس بات پر راضی ہوئی،شرع شریف میں یہ جائز ہے یا ناجائز ہے؟ مع مہر،سند کتاب عبارت عربی وترجمہ اردو خلاصہ تحریر فرمائے گا اس کا صلہ آپ کو اللہ تعالٰی جل شانہ،عطا کرے گا فقط۔ راقم سید ومیاں حالہ از بڑودہ۔

الجواب:

یہاں تین باتیں ہیں :۱بعض مہر کا بالفعل زر نقد سے ادا کرنا۔۲بعض کے عوض مکان وزمین نرخ بازار پر دینا۔باقی ماندہ کی قسط بندی ہونا،یہ تینوں امر شرعا جائز ہیں۔۱اول تو خود ظاہر ہے اگرچہ شرعاخواہ عرفا مہرمؤجل عدت وطلاق یا ایسی اجل پر موعود ہو جو ہنوز نہ آئی مثلا دس برس بعد دینا ٹھہرا تھا اس نے کُل یا بعض ابھی دے دیا عورت کو جبرا لینا ہوگا کہ اجل حق مدیون ہے۔ اور اسے س کے ساقط کرنے کااختیار،

فی الزیلعی والخانیۃ والنہایۃ ثم الاشباہ ثم العقود الدریۃ الدین المؤجل اذا قضاہ قبل حول الاجل یجبرا الطالب علی تسلیمہ لان الاجل حق المدیون فلہ ان یسقطہ [4]۔

زیلعی،خانیہ،نہایہ پھر اشباہ پھر عقود الدریہ میں ہے کہ مدیون اگر دین مؤجل کی ادائیگی اجل گزرنے سے پہلے کرے تو طالب(قرض خواہ)پر اس کی وصولی کے لئے جبر کیا جائے گا کیونکہ اجل مدیون کا حق ہے جسے ساقط کرنے کا اسے اختیار ہے۔(ت)

 



[1]                      البحرالرائق کتاب البیوع باب المرابحۃ والتولیۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶/ ۱۱۱

[2]                      ردالمحتار کتاب البیوع باب المرابحۃ والتولیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۵۴

[3]                      الہدایہ کتاب البیوع باب المرابحۃ والتولیۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۷۷۔۷۶

[4]                      الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب المدانیات ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ /۴۸



Total Pages: 247

Go To