Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

انقروی میں ہےکسی وارث نے دعوٰی کیا کہ کہ مورث نے اپنی کوئی معین شے اس کو ہبہ کی اور مورث کی حالت صحت میں اس وارث نے موہوب شیئ پر قبضہ کرلیا تھا جبکہ باقی ورثاء کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ مرض الموت میں ہوا تو باقی وارثوں کا قول معتبر ہوگا اوراگر وہ گواہ پیش کریں تو گواہ اس کے معتبر ہوں گے جو حالت صحت کا دعوٰی کرنیوالا ہے۔(ت)

پس صورت سوال میں یارمحمد کو حاجت گواہان نہ تھی بلکہ مشتری سے گواہ لئے جائیں اگر وہ گواہان عادلہ ثقہ متقی سے ثابت کردے کہ یہ بیع ہشام نے اپنی تندرستی میں کی یا اس بیع کے بعد وہ تندرست ہوگیا تھا،یا وہ گواہ نہ دے سکے اور یارمحمد سے قسم چاہے،اور یارمحمدپنچوں کے سامنے قسم کھانے سے انکار کرے تو ان دونوں صورتوں میں ثابت ہوجائے گا کہ ہشام نے جو بیع اپنی زوجہ و دختر کے ہاتھ کی ضرور صحیح ونافذ تھی عورتیں اس مکان کی مالك مستقل ہوگئیں اور اگر بیع میں تفصیل حصص نہ تھی تو دونوں نصفا نصفٖ کی مالك ہوئیں،پھر جب دختر نے انتقال کیا اور اس کی موت سے چھ مہینے کے اندر اس کا بھائی پیدا ہوا تو ظاہر ہوا کہ یہ بھی بہن کا وارث ہے،اب کہ زوجہ ہشام نے اپنے مرض میں کل مکان مشتری کے ہاتھ بیع کردیا،اگر یہ مشتری بائعہ کا وارث نہیں توبیع اس قدر میں صحیح ہوگئی جو ملك زوجہ مذکورہ تھا یعنی نصف مکان کہ بیع ہشام سے اس کی ملك ہوا اورنصف دیگر ملك دختر سے ایك ثلث جبکہ اسے ثلث سے کوئی حاجت نہ ہو،باقی دوثلث نصف یعنی کل مکان کا ایك ثلث حق برادرنو پیدا ہوا،اگر مادر وبرادر مذکور کے سوا دختر کا کوئی اور وارث نہ ہو،پھر جب لڑکا مرگیا اوریارمحمد کے سوا اس کاکوئی وارث نہ ہو تو وہ ثلث یارمحمد کا ہوا اس قدراسے واپس دے،اورگر مشتری گواہ نہ دے سکا یاگواہ عادل شرعی قابل قبول نہ تھے اور یارمحمد نے پنچوں کے سامنے بطلب مشتری حلف کرلیا کہ ہشام نے یہ بیع اپنے مرض موت میں کی تو اس صورت میں وہ بیع باطل ہوئی،پھر بعدموت ہشام اگر اس کے وارث یہی زن وپسر ودختر ہیں عورت کا ایك ثمن اور دختر کے ۲۴ / ۷ ہوئے ان میں سے بشرط مذکور ایك ثلث یعنی ۷/۷۲ پھر زوجہ ہشام کو پہنچے تو وقت بیع زوجہ ہشام صرف ۱۶/۷۲ یعنی ۲/۹ کی مالك تھی اسی قدر میں بیع قائم رہ سکتی ہے مشتری باقی مکان بشرط مذکور یعنی مکان کے ۹ حصوں سے ۷ حصے یارمحمد کو واپس دے،والله تعالٰی اعلم۔

___________________

باب الاقالۃ
(بیع اقالہ کا بیان)

مسئلہ ۱۰۲: از مرادآباد محلہ باڑہ شاہ صفا مسئولہ حافظ عبدالمجید ۶شوال ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك جائداد عمرو کی چھ سو پچیس۶۲۵روپے پر اپنے دوست بکرکے ذریعہ خریدنے کے لئے طے کرائی،قیمت طے ہونے کے بعد سو روپیہ بطور بیعنامہ عمرو کو دے کررسید لکھوائی،رسید میں بکر نے دھوکے سے اپنا نام بھی تحریر کرالیا اوردعوٰی کردیا کہ جائداد تو میری اورتمھاری دونوں کی مشترك طے ہوئی،حالانکہ یہ بالکل غلط ہے،یہ قصہ پنچایت میں ڈالا گیا،پنچوں نے دونوں سے پچاس پچاس روپے لے کر جمع کرائے اور کہا جو شخص یہ روپیہ لے گا اسے جائداد نہیں ملے گی اور جو جائداد لے گا یہ روپیہ نہیں لے سکتا۔زید نے جائداد خریدنی منظور کی،بکر نے سوروپے اٹھالئے اور رسید لکھنی چاہی،ابھی لکھی نہ تھی کہ بکر کے محلہ والے جو زید سے بغض وعداوت رکھتے ہیں زید سے بولے کہ یہ رسید بیعنامہ عمرو کو واپس کردو ہم تم کو یہ جائداد خریدنے نہ دیں گے بلکہ اسے مسجد کی آمدنی کے لئے خریدیں گے،زید نے مجبوری رسید عمرو کو واپس کردی،اب بے اجازت زید آمدنی مسجد کے لئے یہ جائداد خریدیں یہ جائز ہے یانہیں ؟ بکرکے اہل محلہ یہ بھی کہتے ہیں کہ تمھارا اس میں کچھ دخل نہیں نہ تمھاری رضامندی کی ضرورت ہے۔بینوا توجروا

الجواب:

صورت مستفسرہ میں کہ زید نے بکر کو ایك شے معین خریدنے کا وکیل کیا اسے کوئی اختیار نہ تھا کہ غیبت زید میں اسے اپنے نفس کے لئے خریدے بلکہ اپنے نفس کےلئے خریدتا جب بھی زید موکل کے لئے ہو جب مخالفت نہ کی ہو،

ففی الدرالمختار لووکلہ بشراء شیئ بیعنہ لایشتریہ نفسہ ولولمؤکل اٰخربالاولی عند غیبتہ حیث لم یکن مخالفا دفعاللضرر فلو اشتراہ بغیر العقود او بخلاف ماسمی المؤکل لہ من الثمن وقع الشراء للوکیل لمخالفتہ امرہ وینعزل فی ضمن المخالفۃ عینی [1]۔

درمختارمیں ہے کسی نےکسی شخص کو کسی معین شے کی خریداری کا وکیل بنایا تو وکیل اس شے کو مؤکل کی غیر موجودگی میں اپنے لئے نہ خریدے اور دوسرے مؤکل کے لئے تو بدرجہ اولٰی نہ خریدے تاکہ دھوکہ دہی نہ ہو،یہ حکم تب ہےجب وکیل امر مؤکل کی مخالفت نہ کرے،اور اگر وکیل نے اس شیئ کو غیر نقود سے خریدا اس ثمن کے خلاف خریدا جو مؤکل نے اس کو بتایا تھا تو یہ خریداری امر مؤکل کی مخالفت کی وجہ سے خود وکیل سے ہوگی اور اس مخالفت کے سبب سے وہ وکالت سے معزول ہوجائے گا۔عینی(ت)

بکرنے کہ رسید بیعنامہ میں اپنا نام بھی لکھا لیا ظلم وفریب وجہل وحماقت تھا،پنچوں نے جو فریقین سے پچاس جمع کرائے اور وہ بے معنی فیصلہ قراردیا سخت باطل ومردود تھا وہ پچاس روپے بکر پر حرام ہیں اس پر فرض ہے کہ زید کو واپس کردے۔

قال اللہ تعالٰی "لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ "۔[2]

الله تعالٰی نے فرمایا:آپس میں ایك دوسرے کے مال باطل طریقے پر مت کھاؤ۔(ت)

عبارت سوال سے زید پر اہل محلہ بکر کی جانب سے کوئی اکراہ شرعی نہ ہونا نہیں نکلتا لوگوں کے اصرار سے عرفی مجبوری اکراہ شرعی نہیں اس صورت میں جبکہ زید نے بیعنامہ واپس کردیا اور عمرو نے قبول کرلیا بیع اگر نہ ہوئی تھی ہونے نہ پائی اور اگر ہو چکی تھی فسخ ہوگئی بہرضال زید کو اس جائداد سے کوئی تعلق نہ رہا اہل محلہ بکر اگر مسجد کے لئے خریدیں برضائے عمرو خریدکرسکتے ہیں رضائے زید کی کچھ حاجت نہیں،والله تعالٰی اعلم۔

 



[1]      درمختار کتاب الوکالۃ باب الوکالۃ بالبیع واالشراء مطبع مجتبائی دہلی ۲/۱۰۵

[2]       القرآن الکریم ۲/ ۱۸۸



Total Pages: 247

Go To