Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

مسئلہ ۹۴: از ضلع فریدپور مرسلہ حافظ عنایت علی وکفایت علی ۲۵ صفر ۱۳۱۹ھ

جناب مولانا احمد رضاخاں صاحب بعد سلام علیکم مزاج شریف،احوال یہ ہے کہ ایك شخص گندم مبلغ بیس ۲۰ روپے کے ساڑھے نوسیر کے وعدہ پر چھ ماہ کو طلب کرتاہے اور گندم کانرخ بازار میں ساڑھے گیارہ سیر وبارہ سیرہے،جوشخص گندم لیتاہے اپنی ضرورت کو بازار میں ساڑھے گیارہ سیر وبارہ سیر فروخت کرکے اپنا کام نکال لیتاہے اورجو شخص گندم ادھار دیتاہے اس کے مکان پر گندم نہیں بازار سے خرید کردیتاہے،دوسرا شخص مبلغ دس روپے کے گندم آٹھ سیر کے بھاؤ سے مانگتا ہے اور مبلغ دس روپے نقد طلب کرتاہے اسے جو دس روپے دئے جائیں گے اس روپیہ کو دس کے دس لئے جائیں گے جیسا کچھ ارشاد فرمائیں۔

الجواب:

یہ صورتیں حرام نہیں گناہ نہیں پھر بھی مکروہ ہیں ان سے بچنا بہترہے،کما فی الفتح وردالمحتار(جیسا کہ فتح اور رد المحتار میں ہے۔ت)

__________________

باب بیع الفضولی
(فضولی کی بیع کے احکام)

مسئلہ ۹۵:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے زیور اپنی زوجہ ہندہ کا کہ اسے جہیز میں ملاتھا بلااجازت ہندہ بیع کیا اور اپنے صرف میں لایا،آیا یہ بیع نافذ اور ہندہ کو زید سے اختیار مطالبہ حاصل ہے یانہیں ؟ اور زیور وظروف وغیرہ اسباب جہیز جو والدین ہندہ نے خاص واسطے صرف ہندہ کے دیا ہے ملك ہندہ کی ہے یا زید کی؟ بینوا توجروا۔

الجواب:

زیور وظروف وغیرہ اسباب جہیز کہ والدین ہندہ نے خاص واسطے صرف ہندہ کے دیا بلاوجہ ملك ہندہ ہے زید کو اس میں کچھ حق نہیں۔

فی الدرالمختار جھز ابنتہ بجھاز وسلمہا ذٰلك لیس لہ الاسترداد منہا،ولالورثتہ بعدہ ان سلمہا ذلك فی صحتہ بل تختص بہ،وبہ یفتی [1]۔ درمختارمیں ہے کہ باپ نے بیٹی کو جہز دیا اور بیٹی کے قبضہ میں دے دیا تو اب نہ تو وہ خود واپس لے سکتاہے نہ ہی اس کے مرنے کے بعد اس کے ورثاء واپس لے سکتے ہیں جب کہ اس نے یہ جہیز حالت صحت میں دیا ہو بلکہ اس جہیز کی ملکیت بیٹی کے ساتھ مختص ہے اور اسی پر فتوٰی ہے۔(ت)

پس وہ بیع کہ زید نے کی بلااجازت ہندہ نافذ نہیں ہوسکتی،اور اگر ہندہ مطالبہ کرے تو وہ زیور مشتری سے پھر سکتاہے،والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۹۶:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنے مرض موت میں ایك مکان اور ایك دکان کہ قریب سولہ سو روپے کے قیمت کے تھے چھ سوروپے کو اپنے شوہر اور دختر کے ہاتھ بیع کئے،بعد پندرہ روزکے بعد ہندہ مرگئی،اس صورت میں یہ بیع جائز ہے یانہیں ؟ بینوا توجروا

الجواب:

صورت مسئولہ میں بیع صحیح نہیں کہ بیع مرض موت میں کم قیمت کو باتفاق امام اعظم وصاحبین رحمہم الله تعالٰی ناجائز ہے اور وارث کے ہاتھ تو برابر قیمت کوبھی بے اجازت دیگر ورثہ امام اعظم کےنزدیك جائز نہیں

فی التلویح لوباع من احد الورثۃ عینا من اعیان الترکۃ بمثل القیمۃ فلایجوز عند ابی حنیفۃ [2]  اھ ملخصاواللہ تعالٰی اعلم۔

تلویح میں ہے اگر اشیاء ترکہ میں سے کوئی خاص شئی کسی نے اپنے وراث کے ہاتھ برابر قیمت پر فروخت کی تو امام ابوحنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے نزدیك جائز نہیں ہے اھ ملخصا، والله تعالٰی اعلم۔(ت)

مسئلہ ۹۷:

مثلا زید یك مکان بلااجازت عمرو خریدہ بیعنامہ آں بنام عمرو برادر خود تحریر کنایندہ گرفت وزرثمن آں نیز خود دادہ اقرارہم کردہ ماند کہ ایں مکان عمرو ست بعد ازاں عمرو کہ وقت خرید مکان درسفر بود درانجا فوت کرد ورثہ عمرو مکان مذکورہ باعانت حاکم از زید بوجہ بیعنامہ واقرار مذکور در خواستند وزیر بحکم حاکم تفویض وتسلیم

 مثال کے طور پر زید نے ایك مکان اپنے بھائی عمرو کی اجازت کے بغیر خرید کر اس کا بیعنامہ عمرو کے نام لکھوادیا اور اس کا زرثمن بھی خود ہی دے کر اقرار کیا کہ یہ مکان عمرو کا ہے،بعد میں جب عمرو جو مکان کی خریداری کے وقت سفرپر تھا وہیں فوت ہوگیا تو عمروکے وارثوں نے بیعنامہ اور اقرار مذکورہ کی وجہ سے حاکم کی مدد کے ذریعے زید سے مکان کامطالبہ کیا اور زید حاکم کے حکم پر ایشاں کردپس الحال زید مستحق یافتن زرثمن کہ درعدالت دادن زید ثابت گردید از ورثاء عمرو ہست یا بوجہ اقرار برملکیت عمرو بسبب مکان مذکور اقراربریں امر ہم گردید کہ روپیہ دادہ شدہ زرثمن مکان ازاں عمرو ست،بینوا توجرواوہ مکان ان کے حوالے کردیا،توکیا اب زید وہ زرثمن عمروکے وارثوں سے پانے کا حقدار ہے جس کی زید کی طرف سے عدالت میں ادائیگی ثابت ہے یامکان مذکور پر عمرو کی ملکیت کااقرار کرنے کی وجہ سے اس بات کا بھی اقرار ہوگیا کہ مکان کہ زرثمن میں دیا گیا روپیہ بھی اسی عمرو کی طرف سے ہے، بیان کرو اجرپاؤ گے۔(ت)

الجواب:

 



[1]                      درمختار کتاب النکاح باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۲۰۳

[2]                      التلویح مع التوضیح فصل فی الامور المعترضۃ علی الاھلیۃ منہا المرض نورانی کتب خانہ قصہ خانی پشاور ص۶۶۳



Total Pages: 247

Go To