Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

ہندیہ میں محیط سے ہے:

وبہ اخذ جماعۃ من مشایخنا وبہ کان یفتی ابوعبداللہ البلخی وھکذا ذکر شیخ الاسلام [1]۔

اس کو اخذ کیا ہے ہمارے مشائخ کی ایك جماعت نے اور اس پر ابوعبدالله بلخی فتوٰی دیتے تھے شیخ الاسلام نے یونہی ذکر فرمایا ہے۔(ت)

نیز غیاثیہ میں ہے:قالوا اوالمختار ھذا[2] (مشائخ نے فرمایا یہی مختار ہے۔ت)ردالمحتار میں ہے:

قال فی الفتح والحق ان الاختلاف فیہ بناء علی الاختلاف فی انہ باطل اوفاسد وانك علمت ان ارتفاع المفسد فی الفاسد یردہ صحیا لان البیع قائم مع الفساد ومع البطلان لم یکن قائما بصفۃ البطلان بل معدوما،فوجہ البطلان عدم قدرۃ التسلیم، فوجہ البطلان عدم قدرۃ التسلیم،ووجہ الفساد قیام المالیۃ والملک،والوجہ عندی ان عدم القدرۃ علی التسلیم مفسد لا مبطل [3]۔

فتح میں فرمایا:حق یہ ہے کہ اس میں اختلاف اس اختلاف پر مبنی ہے کہ یہ بیع باطل ہے یا فاسد،اور بیشك توجانتا ہے کہ ازالہ مفسد سے بیع فاسد صحیح ہوجاتی ہے کیونکہ فساد کے باوجود بیع قائم رہتی ہے جبکہ بطلان کے ساتھ بسبب صفۃ بطلان کے بیع قائم نہیں رہتی بلکہ معدوم ہوجاتی ہے،پس بطلان کی وجہ قدرت تسلیم کا نہ ہونا ہے جبکہ فساد کی وجہ سے مالیت وملك کا قیام ہے اور میرے نزدیك اس کی وجہ یہ ہے کہ تسلیم مبیع پر قادرنہ ہونا بیع کو فاسد کرنے والا ہے نہ کہ باطل کرنے ولا۔ (ت)

ہندیہ میں محیط سے ہے:

وبہ اخذ الکرخی وجماعۃ من مشایخنا وھکذا ذکر القاضی الا سبیجابی فی شرحہ [4]۔

اور اسی کو اخذ کیا ہے کرخی اور ہمارے مشائخ کی ایك جماعت نے اور قاضی اسبیجابی نے اپنی شرح میں یوں ذکر فرمایا ہے۔(ت)

نیز اسی سے بحوالہ غیاثیہ گزرا:

ھو موقوف ھوالصحیح [5] اھ وھو تصحیح للقول بالفساد کما بینا علی ھامشہا ولاغرو جمع الفساد والتوقف ففی ردالمحتار عن البحر ان بیع المکرہ فاسد موقوف [6] الخ وتمامہ فیہ وبہ یحصل الجمع بین قول الخانیۃ فی مسالتنا لایجوز بیعہ وقول غیرہ موقوف،واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم عزشانہ احکم۔

وہ موقوف ہے یہی صحیح ہے اھ اور وہ قول فساد کی تصحیح ہے جیساکہ ہم نے اس کے حاشیہ پر بیان کیا اور فسادو توقف کے جمع ہونے میں کوئی تعجب نہیں،پس ردالمحتارمیں بحر کے حوالے سے ہے کہ مکرہ کی بیع فاسد موقوف ہے الخ اور اس کی مکمل بحث اس میں ہے اور اسی سے ہمارے مسئلہ میں خانیہ کے قول کہ بیع ناجائز ہے اور اس کے غیر کے قول کہ بیع موقوف ہے کے درمیان تطبیق حاصل ہوگئی،واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم عزشانہ احکم(ت)

مسئلہ ۳: ازشہر کہنہ ۲محرم الحرام ۱۳۱۶ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے ایك شے کو فروخت کیا اس شرط پر کہ نصف روپیہ خریداری مال لیا اور نصف روپیہ وقت جانے مال کے کہ جو پہلی مرتبہ جائے گا ہم اپنا آدمی بھیج کر منگالیں گے،زیدنے آدمی نہ بھیجا،خریدار نے وہ نصف روپیہ اپنے طور پر اپنے آدمی کے ہاتھ بھیج دیا،اب چونکہ نرخ اس مال کا بموجب فروخت حال کے دوچند ہوگیا لہٰذا زید کی اب یہ نیت ہے کہ یہ روپیہ جو نصف مال کی قیمت کاآیا ہے واپس کردے اور مال نہ دے،اور یہ بھی واضح ہو کہ جو مال زید سے لینا قرار پایا تھا وہ مال بھی نہ دیا اس سے کم قیمت کا دیا ہے۔بینوا توجروا

الجواب:

بیع ایجاب وقبول سے تمام ہوجاتی ہے،اور جب بیع صحیح شرع واقع ہولے تو اس کے بعد بائع یا مشتری کسی کو بے رضامندی دوسرے کے اس سے یوں پھر جانا روا نہیں،نہ اس کے پھر نے سے وہ معاہدہ جو مکمل ہوچکا ٹوٹ سکتا ہے،زید پر لازم ہے کہ مال فروخت شدہ تمام وکمال خریدار کو دے،ہدایہ میں ہے:

اذا حصل الایجاب والقبول لزم البیع والاخیار لو احد منہما الامن عیب وعدم رویۃ [7]۔

جب ایجاب وقبول حاصل ہوجائے تو بیع لازم ہوجاتی ہے اور بائع ومشتری میں سےکسی کو فسخ کا خیار حاصل نہیں ہوتا سوائے اس کےکہ مبیع میں کوئی عیب ظاہر ہو جائے یا مشتری نے بوقت بیع اس کودیکھا نہ ہو۔(ت)

مال ناقص جو خلاف قرار داد زید نے بھیجا مشتری اسے واپس پہنچا کر اپنی اصل خریداری کامال لے سکتا ہے جب کہ مشتری سے کوئی امر مانع واپسی نہ ہواہو مثلا اسے دیکھنے کے بعد وہ قول یا فعل جو اسی مال پرراضی ہوجانے کی دلیل ہو،درمختارمیں ہے:

 



         [1] فتاوٰی ہندیۃ کتاب البیوع الباب التاسع الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۱۱۲

         [2] الفتاوٰی الغیاثیہ کتاب البیوع الفصل الثانی مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۱۴۳

         [3] ردالمحتار کتاب البیوع باب بیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیعروت ۴/ ۱۱۳

         [4] فتاوٰی ہندیۃ الباب التاسع الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۱۱۲

         [5] فتاوٰی ہندیۃ الباب التاسع الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۱۱۱

[6]          ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۴

[7]          الہدایہ کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۲۵



Total Pages: 247

Go To