Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

 

 

 

 

بابُ القرض
(قرض کا بیان)

 

مسئلہ ۱۱۵:کیافر ماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین کہ ایك شخص نے مبلغ سو روپیہ اس شرط پر قرض لیا کہ پچیس روپے سالانہ منافع مقررہ بلا نقصان کے دیتارہوں گا اور جب جمع طلب کروگے تو تمہارا پورا روپیہ واپس کردوں گا،جس شخص نے اس شرط کو قبول کرکے روپیہ دے دیا اس پر خود سودخوری کا حکم ہے یانہیں ؟ اور اس کے پیچھے نمااز پڑھنا جائز ہوگی یا ناجائز؟ بینوا توجروا(بیان کرواجردئے جاؤگے۔ت)

الجواب:

قطعی سوداور یقینی حرام وگناہ کبیرہ خبیث ومردار ہے۔حدیث میں ہے:

قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کل قرض جر منفعۃً فہو ربٰو[1]۔

رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا جو قرض نفع کو کھینچے وہ سود ہے(ت)

ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنی سخت مکروہ ہے جس کے پھیرنے کا حکم ہے اور اسے امام کرنا گناہ،کما نص علیہ الامام الحلبی فی الغنیۃ [2](جیسا کہ سا پر امام حلبی نے غنیہ میں نص فرمائی ہے۔ت)واﷲتعالٰی اعلم


 

 



[1] کنز العمال حدیث ۱۵۵۱۶ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۲۳۸

[2] غنیۃ المستملی فصل فی الامامۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۴۔۵۱۳



Total Pages: 715

Go To