Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

ماتن کاقول کہ بیشك یہ شرط عقد کے ملائم ہے،اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ موجب عقد کو پکاکرتی ہے کیونکہ حوالہ عام طورپر صاحب ثروت اور بہتر ادائیگی کرنے والوں پرکیاجاتاہے،تویہ شرطِ جودت کی مثل ہوگیا،درر۔(ت)

ہاں اس شرط پر بیچنا کہ تو اس کی قیمت فلاں شہر میں مجھے دینا،یہ ناجائزہے۔ردالمحتارمیں ہے:

ومنہ(ای الشروط الفاسدۃ المفسدۃ للبیع)ان یدفع الثمن فی بلداٰخر او یھب البائع منہ کذا بخلاف ان یحط من ثمنہ کذا،لان الحط ملحق بما قبل العقد بحر[1] ۱ھ مختصراً۔

بیع کو فاسد کرنے والی شروط فاسدہ میں سے یہ ہے کہ شرط لگائی جائے کہ مشتری کسی دوسرے شہر میں ثمن ادا کرے گا یابائع ثمن میں سے اتنے مشتری کو ہبہ کرے گا بخلاف اس کے کہ بائع ثمن سے اتنے گھٹائے گا کیونکہ گھٹانا عقد کے ماقبل کو لاحق ہوتاہے،بحر۱ھ مختصراً(ت)

یہ فرق خوب یاد رہے کہ غلطی ہوکر حرام میں وقوع نہ ہوجائے واللہ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم۔

مسئلہ ۲۹۸: ازچتوڑگڑھ علاقہ اودے پورراجپوتانہ،مسئولہ عبدالکریم صاحب ۱۶ ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ شنبہ

زید نے پانچ سو روپے بکر کے پاس اس غرض سے جمع کئے کہ بذریعہ ہنڈی کے سالم کے نام بمبئ پہنچ جائے اور بکر نے ہنڈی کو سالم کے پاس بمبئ روانہ بھی کردیا اور سالم کو مل بھی گیا اور سالم اس ہنڈی کو خالد ساہوکار کے پاس لے گیا اور کہا کہ اس ہنڈی کے روپے دیجئے،خالد ساہوکار نے روپے دینے سے انکار کیا لہٰذا سالم نے ہنڈی مذکور کو واپس کیا اور واپس آنے میں پندرہ یوم کی دیربھی ہوئی،اور ساہوکاروں کاقاعدہ ہےکہ جتنے روز میں ہنڈی واپس آتی ہے اتنے روزکاہرجاجمع کنندہ کو دیاجاتاہے توآیا اس ہرجاکالیناجائزہے یا نہیں؟ اگرجائزنہیں ہے تو زید کو بہت نقصان پہنچے گا کیونکہ کافرتاجر مسلمان تاجر سے اپنے مذہب کے موافق ہرجانہ ضرور لے گا اور مسلمان اس سے بازرہے گا،اور ایسا ہونہیں سکتا کہ تمام مسلمان تجارت کو چھوڑ دیں،تجارت توکتاب وسنت سے ثابت ہے،علاوہ اس کے تمام علماء ودانشمند اہل اسلام اس وقت مسلمانوں کوتجارت کرنے پر زوردے رہے ہیں تو اگریہ ہرجانہ مذکور ناجائزہے رکھاجائے گا تومسلمانوں کو دوطرفہ نقصان ہوگا ایك تودینے کی وجہ سے اور دوسرے نہ لینے کی وجہ سے فقط۔

الجواب:

ہنڈی سرے سے خود ہی ناجائز ہے متون میں السفنجۃ حرام(ہنڈی حرام ہے۔ت)حدیث میں ہے:کل قرض جر منفعۃ فہو ربا[2](جوقرض نفع حاصل کرے وہ سود ہے۔ت)اور پھر اس پر جرمانہ دوسراناجائزہے مگریہ عمل اگرمحض کفار سے ہے کہ اس دکان میں اصالۃً یابالواسطہ کسی مسلمان کی شرکت نہیں تونہ بنیت اس عقد فاسد کے بلکہ اسی نیت سے کیہ یہی مسلمان سے لیتے ہیں اور غیرمسلم کابلاغدرملتاہے لینے میں حرج نہیں۔واللہ تعالٰی اعلم۔

________________

___________________________

نوٹ:

سترھویں جلد کتاب الحوالہ پر ختم ہوئی،

اٹھارھویں جلد کا آغاز کتاب الشھادۃ سے ہوگا۔

_______________________



[1]          ردالمحتار باب بیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۲۱

[2]          کنزالعمال فصل فی لواحق کتاب الدین حدیث ۱۵۵۱۶ موسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۲۳۸



Total Pages: 247

Go To