Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

او ریہ صاحب جو آپ کا لطف نامہ لائے ان کے بیان سے معلوم ہوا کہ مدعا علیہ مدت کے اندر ہی فرار ہوگئے اگر یہ حق ہے تو شرط متحقق ہولی،پس اگر مطالبہ سے مراد زردعوٰی تھا تو اس صورت میں فقیر کے نزدیك مال لازم ہو گیا اگرچہ بعد ۱۸ فروری کے کفالت نفس زائل ہوجائے اگرچہ یہاں اصل وہی تھی اور کفالت بالمال اس کی تابع وتاکید تھی کہ جب بوجہ وجود شرط مال لازم ہوگیا تواب اس کی سبیل ادا ہونا ہے یا طالب کی طرف سے معانی وگرہیچ

فی البزازیۃ کفل بنفسہ علی ان المکفول عنہ اذا غاب فالمال علیہ فغاب المکفول عنہم ثم رجع وسلمہ الی الداین لایبرأ لان المال بحلول المشروط لزمہ فلا یبرأ بالاداء اوالابراء [1]وا ﷲ تعالٰی اعلم۔

بزازیہ میں ہے کہ اگر کوئی شخص کفیل بالنفس بنا اس شرط پر کہ اگر مکفول عنہ غائب ہوگیا تو مال اس(کفیل)کے ذمے ہے بعد ازاں مکفول عنہ غائب ہوگیا پھر لوٹ آیا اور کفیل نے اس کو دائن کے حوالہ کردیا تب بھی بری نہ ہوگا کیونکہ مشروط کے پائے جانے سے مال اس پر لازم ہوگیا تو اب ادائیگی یاصاحب حق کی طرف سے معافی کے بغیر بری نہ ہوگا۔واللہ تعالٰی اعلم۔(ت)

مسئلہ۲۸۰: از ریاست رامپور متصل موتی مسجد مرسلہ منشی واحد علی صاحب پیشکار محکمہ مال غرہ محرم الحرام۱۳۱۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے زید پر محکمہ دیوانی میں الہ ما مہ عہ/ کی نالش کی،حاکم نے بغرض امتحان زید سے حاضری ضامنی طلب کی،خالد نے ۶ فروری ۱۸۹۹ء کو ضمانت نامہ بآں عبارت لکھ دیا جو کہ محمدی بیگم نے دعوی ال ماصہ عہ/ کابناسیدمحمد امیردائر عدالت کیا ہے اور ان سے ضمانت حاضری طلب ہے،لہذا اقرار کرتاہوں کہ ۱۸ فروری سنہ حال تك میں ان کا حاضرضامن ہوں ۱۸ تاریخ تك مدعاعلیہ شہر سے نہیں بھاگیں گے اگر بھاگ گئے تو مطالبہ مدعیہ کا میں ذمہ دارہوں،بنابراں یہ حاضر ضامنی لکھ دی کہ سند ہو،المرقوم ۶فروری ۱۸۹۹ء/ مگر جس وقت خالد نے زید کی ضمانت حاضر کی اور کفالت نامہ مذکور لکھا اور اس وقت نہ مدعیہ موجود تھی نہ اس کا کوئی وکیل نہ پیروکار بلکہ حاکم دیوانی بھی نہ تھے،خالد نے بمواجہ زید مکفول عنہ کفالت نامہ لکھا جس پر سرشتہ دار نے بہ حکم ضابطہ لکھ دیا کہ مقر نے بحاضری خود اصالۃً شناخت گواہان حاشیہ تصدیق کی حکم ہوا کہ ناظر مدعا علیلہ کو سپرد حاضر ضامن کریں ۶ فروری ۱۸۹۹ء اس پر ناظر نے یہ کیفیت لکھی کہ منشی واحد علی صاحب ضمانت تصدیق کراکر محکمہ مال میں چلے گئے مدعا علیہ بھی بعد داخل ہوجانے ضمانت کے عدالت سے چلا گیا لہذا تعمیل سپردگی سے معذور ہوں ۶ فروری ۱۸۹۹ء اس پر حکم لکھا گیا کہ شامل مسل ہو،فروری ۱۸۹۹ء اس کے سوا نہ کوئی قبول منجانب مدعیہ واقع ہوا نہ اسے کوئی اطلاع اس کفالت کی دی گئی نہ ۱۸ فروری تك مدعیہ خواہ حاکم کسی نے مدعا علیہ کو کفیل سے طلب کیا نہ اس سےکچھ تعرض واقع ہوا،۱۸ فروری کوحاکم نے مدعیہ سے بوجہ کمی اسٹامپ دعوٰی نامکمل قراردے کر تکمیل اسٹامپ چاہی۔جب مدعا علیہ نے دیکھا کہ ۱۸ فروری خالد کے منشائے کفالت تھی گزر گئی اور ضمانت ختم ہوگئی اور اس وت تك کوئی مطالبہ نہ ہوا اپنے نفس کو قید ضمانت سے فارغ پاکر شہر سے فرار کیا ایك مدت کے بعد جب مدعیہ نے دیکھا کہ مدعاعلیہ پر قابو نہ رہا بحیلہ کفالت خالد سے مواخذہ شروع کیا اب مدعیہ کی طرف سے اس اقرار پر زوردیا جاتاہے کہ ضمانت نامہ میں صرف انتہائے مدت کا ذکر ۱۸فروری تك میں ضامن ہوں ابتدائے مدت کانام نہیں کہ اب سے یاآج سے یا فلاں تاریخ سے ۱۸ تك میں ضامن ہوں ایسی صورت میں ظاہر الروایۃ یہ ہے کہ ضمانت اس تاریخ پر منتہی نہ ہوگی بلکہ اس کے بعد ہمیشہ کے لئے ضامن ہے لہذا ہمیں اس سے مطالبہ کرنا پہنچتاہے مدعیہ نے جو فتوٰی لکھوایا اس میں بطور تقدم بالحفظ یہ بھی ذکر کیا ہے کہ مدعا علیہ ۱۸ فروری سے پہلے فرار ہوگئے حالانکہ اس وقت تك کچہری میں اس کا کوئی ذکرنہ کیا نہ ہر گز ۱۸ سے پہلے فرار کا کوئی ثبوت ہے بلکہ حاکم بالا نے ۱۸ کے بعد ایك حکم میں زید کی نسبت اب فرار ہونالکھا ہے پس علمائے دین کی خدمت میں استفسار ہے کہ اس صورت میں بعد ۱۸ فروری کے مدعیہ کو خالد پر حاضر ضامنی مدعاعلیہ کا یا زردعوٰی کا مطالبہ پہنچتاہے یانہیں ؟ بینوا توجروا

الجواب:

اللہم ھدایۃ الحق والصواب صورت مستفسرہ میں کفالت بالنفس بھی بعد ۱۸ فروری کے زائل اور کفالت بالمال کا خالد سے مطالبہ بھی بے اصل وباطل،تحقیق مقام یہ کہ کفالت دو۲ ہیں

(۱)کفالت بالنفس یعنی حاضر ضامنی جو اس کفالت نامہ کا اصل مفاد ومقصود مراد ہے۔

(۲)کفالت بالمال یعنی مال ضامنی جو اگرمستفادہو تو ان لفظوں سے کہ ۱۸ تك مدعاعلیہ شہر سے نہ بھاگیں گے مطالبہ مدعیہ کا میں ذمہ دارہوں

ہم یہاں دونوں کفالتوں پر کلام محققانہ کریں کہ بطور بعونہٖ تعالٰی حکم شرع واضح ہو وباللہ التوفیق۔

کفالت بالمال کا مطالبہ ہندہ کوخالد پر اصلا نہیں پہنچتا بوجوہ:

وجہ اول:خالد نے یہ نہ لکھا کہ اگر زید بھاگ جائے تو ہندہ کے دین یا مال یا زر دعوٰی یا اس قدرروپے کامیں ذمہ دار ہوں بلکہ مطالبہ کا ذمہ دار ہوا اور مطالبہ ودین میں فرق بدیہی ہے۔بزازیہ میں فرمایا:

الکفالۃ فی اللغۃ الضم وذٰلك قدیکون فی المطالبۃ لا فی اصل الدین کما فی الوکیل مع المؤکل الدین للمؤکل و المطالبۃ للوکیل [2]۔

کفالہ لغت میں ملانے کو کہتے ہیں اور وہ کبھی مطالبہ میں ہوتاہے اصل دین میں نہیں ہوتا جیسے مؤکل کے ساتھ وکیل کہ دین مؤکل کے لئے ہے اور مطالبہ وکیل کے لئے۔(ت)

اور مطالبہ کے معنی حقیقی طلب وتقاضا اصل زبان عربی میں بھی اسی لئے وضع ہے اور فارسی واردو میں بھی اس معنی حقیقی پر عام محاورات میں علی وجہ الاشتہار دائروسائر،اگرچہ اردو میں مجازًا آتے ہوئے مال کو بھی کہتے ہوں،مطالبہ یعنی مال قابل مطالبہ مگر معنی حقیقی یقینا معروف ومشہور ہیں جن کی نسبت کسی جاہل کو بھی ہجر کا وہم تك نہیں ہوسکتا اور اصول فقہ میں مبرہن ہوچکا کہ ہمارے امام اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے نزدیك مطلقًا اور ایسی جگہ باتفاق ائمہ کرام حقیقت مجاز پر واجب التقدیم ہے جب تك معنی اصلی بنیں مجاز پر حمل جائز نہیں تو



[1]           فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ کتاب الکفالۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۸

[2]           فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ کتاب الکفالۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۲



Total Pages: 247

Go To