Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

 

لی علیہ انما تعلق علیك ھل یبرأ اجاب نعم وقیل لا وھو المختار [1]۔

کہامیرا اس سے کوئی تعلق نہیں میرا تعلق تو تیرے ساتھ ہے،کیا اس صورت میں اصیل بری ہوجائے گا جواب دیا ہاں، ا ور ایك قول یہ ہے کہ بری نہیں ہوگا اور یہی مختارہے۔(ت)

اور جبکہ وقت کفالت عمرونے بھی اسے جائز رکھا تواب زید اس سے اس قدر زر میں رجوع کرسکتاہے گویہ کفالت بامر عمرو واقع نہ ہوئی

فی الدرالمختار ولوکفل بامرہ رجع علیہ بماادی وان بغیرہ لایرجع لتبرعہ الااذا اجازفی المجلس فیرجع عمادیۃ [2] واللہ تعالٰی اعلم۔

درمختار میں ہے اگر مدیون کے امر سے کفیل بنا تو اس پر رجوع کرسکتاہے اوراگر اس کے امر کے بغیر کفیل بنا تو رجوع نہیں کرسکتا تبرع اور احسان کی وجہ سے مگر جب مجلس کے اندر مدیون نے اجازت دے دی تو رجوع کرسکتاہے عمادیہ،واللہ تعالٰی اعلم۔(ت)

مسئلہ ۲۷۹: از ریاست رام پور مرسلہ منشی محمد واحد علی صاحب پیشکار حاکم مال ریاست ۲۸ ذی الحجہ ۱۳۱۶ھ

مطاع ومخدوم عالم جناب معظم ومحترم زید افضالہ بصدادب تسلیم اوصاف حمیدہ جناب عالی مخدومنا جناب حافظ محمد عنایت اللہ صاحب سے سن کر عزم ہوا کہ خود ہی حاضر ہوکر اپنا ماجرا عرض کرو ں لیکن"ارادۃ اللہ غالبۃ علی ارادۃ العباد" اسی وقت ایك تار ضروری لکھنؤ سے آگیا جس نے اس وقت حاضری سے مجبور کردیا مجبورا اپنے معتمد محمد رضاخاں صاحب کو خدمت عالی میں ضرورت حال کے لئے بھیجنا پڑا،۶فروری ۱۸۹۹ء کو ایك شخص کی حاضر ضمانت کرلی،۱۸ فروری تك کے لئے جس کے الفاظ بعینہٖ سوال فتوٰی میں درج ہیں،۱۸ فروری گزر گئی نہ عدالت نے مکفول عنہ کو مجھ سے کسی وقت ۱۸ یا ۱۸ کے اندر طلب کیا،نہ مدعی نے اس مدت میں کسی قسم کی اطلاع عدالت میں کی،اب ڈھائی مہینے کے بعد ہنگام اجراء ڈگری مدعی مجھ سے روپیہ طلب کرتاہے اور شرعا مدعی کا وکیل یہ ثابت کرتاہے کہ چونکہ ضمانت نامہ میں لفظ "من"نہیں درج ہے لہذا بعد ۱۸ فروری بھی یہ ضمانت باقی رہی،حضور والا! اس زمانے میں ان قیود کے ساتھ الفاظ کسی جگہ ضمانت میں نہیں دیکھے گئے عرف کے مطابق یہ نیت خالص صرف ۱۸ فروری تك کے لئے ضمانت کی تھی مخدومی جناب حافظ عنایت اللہ صاحب کی خدمت میں ارادت ہے میں نے سچی کیفیت اپنی عرض کی فرمایا کہ جو کچھ یہاں ممکن ہے لکھا جاتا ہے لیکن ہندوستان میں اگر کوئی قوت ان جزئیات کی کرسکتاہے تو جناب مولوی احمد رضاخاں صاحب ہیں،بنظر رحم حضور کی چشم کرم سے امید ہے کہ میری اس وقت کی پریشانی میں جو امداد ہو دریغ نہ فرمائیں گے تابعدار محمد واحد علی عبارت ضمانت نامہ بعینہٖ درج ذیل ہے جو کہ محمدی بیگم نے دعوی ال ما صہ عہ/ بنام سید محمد امیر دائر عدالت کیا ہے اور ان سے ضمانت حاضری طلب ہے لہذا اقرار کرتاہوں کہ ۱۸ فروری سنہ حال تك کاحاضر ضامن ہوں ۱۸ تاریخ مدعا علیہ شہر سے نہیں بھاگیں گے اگر بھاگ گئے تو مطالبہ مدعیہ کا میں ذمہ دار ہوں۔۶ فروری ۱۸۹۹ء

الجواب:

مکرمی محترمی منشی صاحب زید مجدھم بعدادائے مراسم سنت ملتمس،فتوٰی نظر فقیر سے گزرا میں اس امر میں یکسر متفق ہوں کہ صورت مذکورہ میں ضمانت حاضری ۱۸ فروری تك منتہی ہوگئی اگرچہ جواب ظاہر الروایۃ اس کے خلاف ہے مگر اب عرف ومقاصد ناس قطعا اسی پر حاکم اوراتباع عرف واجب لازم،تو یہ حقیقۃً مخالفت ظاہر نہیں بلکہ زمان برکت نشان حضرات ائمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم میں عرف دائر وسائر یوں ہوتا تو ہم جز م کرتے ہیں کہ حکم ظاہر الروایۃ ضرور مطابق روایت امام ابویوسف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ہوتاولہذا ائمہ تصحیح نے اس روایت پر اسی وجہ سے فتوٰی دیا ہے کہ وہ اشبہہ بعرف ناس ہے،اسی لئے علماء نے فرمایا:

من لم یعرف اہل زمانہ فہو جاھل [3]۔

جو اہل زمانہ کونہیں جانتا وہ جاہل ہے۔(ت)

علامہ محقق شامی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اس کی تحقیق بروجہ شافی وکافی فرمادی ہے مگر یہاں حقیقت امر یہ ہے کہ دو کفالتیں ہیں،ایك کفالۃ بالنفس یعنی حاضری ضامنی،وہ ۱۸ فروری تك موقت ہے اور اس روایت وعرف کی رو سے بعد ۱۸ کے ختم ہوگئی،دوسری کفالت بالمال کہ اگر بھاگ گئے تو مطالبہ مدعیہ کامیں ذمہ دار ہوں اس میں اگرتوقیت بنظر ماسبق ہے تو جانب شرط میں ہے اگر ۱۸ فروری تك بھاگ گئے تو مال کا ضامن میں ہوں اور کفالت کی ایسی شرط کے ساتھ تعلیق جائز ہے۔

فی الہدایۃ الاصل انہ یصح تعلیقہا بشرط ملائم لہا مثل ان یکون شرطا لوجوب

ہدایہ میں مذکور ہے کہ کفالت کو اس کی مناسب شرط کے ساتھ معلق کرنا صحیح ہے مثلا وہ شرط وجوب حق

الحق کقولہ اذۤا استحق المبیع اولامکان الاستیفاء مثل قولہ اذا قدم زید وھو مکفول عنہ اولتعذر الاستیفاء مثل قولہ اذا غاب من البلدۃ [4]۔

کے لئے ہو جیسے ا سکا کہنا کہ جب مبیع میں استحقاق ثابت ہوجائے یا وہ شرط وصولی کے امکان کے لئے ہو جیسے اس کا کہنا کہ جب زیدآجائے جبکہ وہ زید ہی مکفول عنہ ہو یا وہ شرط وصولی کے تعذر کے لئے ہو جیسے اس کا کہنا کہ وہ شہر سے غائب ہوگیا۔(ت)

 



[1]           درمختار کتاب الکفالۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۶۵

[2]           درمختار کتاب الکفالۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۶۴

[3]           درمختار باب الوتروالنوافل مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۹۹

[4]           الہدایۃ کتاب الکفالۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۱۱۸



Total Pages: 247

Go To