Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

اس کے پیچھے نماز مکروہ ہے اگر چہ مقتدی بھی سود لینے یا دینے والے ہوں۔واللہ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۲۷۳: از ریاست چھتاری مدرسہ محمودیہ ضلع بلند شہر مرسلہ امیر حسن طالبعلم ۱۴ رجب ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی کوئی زمین یا مکان یا دکان عمرو کے ہاتھ بعوض سو۱۰۰ روپے کے فروخت کی اور باقاعدہ بیعنامہ لکھ پڑھ دیا مگر بیعنامہ سے پہلے یا بعد بائع مشتری سے یہ وعدہ پختہ لے لیا کہ جب میں تجھے تیرا زرثمن پورا پورا ادا کروں تو تو مجھے میری بیع واپس کر دینا اور تاواپسی تو مبیع سے فائدہ اٹھاتے جانا،مشتری نے اس بات کو بطیب خاطر پسند کرلیا تو کیایہ بیع جائزہے اور مشتری کو تاواپسی مبیع سے فائدہ اٹھانا جائز ہے یاکیا؟

الجواب:

اگر واقع میں انھوں نے بیع قطعی کی ہے اور اس میں یہ شرط ملحوظ نہیں،بیع سے جدا یہ ایك وعدہ ہو لیا تھا بیع صحیح ہوئی اور اس سے انتفاع مشتری کو جائز،ورنہ تحقیق یہ ہے کہ وہ بیع نہیں بلکہ رہن ہے اور مشتری کو اس سے انتفاع حرام،یہ بیع صحیح بلا دغدغہ ہونے کی صورت یہ ہے کہ اگر یہ قرار داد عقد سے پہلے ہوا تھا تو عقد کرتے وقت یہ کہہ لیں کہ ہم اس قرار داد سے باز آئے اب بیع قطعی کرتے ہیں اور اگر عقد کے بعدیہ قرارداد ہو تو بصورت شرط نہ ہو بلکہ صرف ایك وعدہ،ردالمحتار میں ہے:

وفی جامع الفصولین ایضا لو ذکر البیع بلاشرط ثم ذکر الشرط علی وجہ العدۃ جاز البیع [1]۔

جامع الفصولین میں ہے کہ اگر بیع کا ذکر بلا شرط کیا پھر شرط کو بطور وعدہ ذکر کیا تو بیع جائز ہے۔(ت)

اسی میں ہے:

فی جامع الفصولین ایضا لوشرطا شرطا فاسداقبل العقد ثم عقدا لم یبطل العقد اھ قلت وینبغی الفساد لو اتفقا علی بناء العقد علیہ کما صرحوا بہ فی بیع الہزل کما سیأتی اٰخر البیوع وقد سئل الخیر الرملی عن رجلین تواضعا علی بیع الوفاء قبل عقدہ وعقدا البیع خالیا عن الشرط فاجاب بانہ صرح

جامع الفصولین میں یہ بھی ہے کہ اگرعاقدین نے عقد سے پہلے کوئی شرط فاسد لگائی پھر عقد کیا تو عقدباطل نہ ہوگا۔اھ میں کہتاہوں کہ اگر وہ دونوں عقد کی بناء اس شرط فاسد پر کرنے پر متفق ہوئے تو عقد فاسد ہونا چاہئے جیسا کہ فقہاء نے بیع ہزل کے بارے میں تصریح کی ہے جیساکہ عنقریب بیع کی بحث کے آخر میں آئے گا،علامہ خیر الدین رملی سے ان دو شخصوں کے بارے میں سوال کیا گیا جنہوں نے عقد سے پہلے بیع الوفاء کی شرط ٹھہرائی پھر اس شرط سے خالی عقد کیا تو آپ نے فی الخلاصۃ والفیض والتتارخانیۃ وغیرہا بانہ یکون علی ماتواضعا [2]،واللہ تعالٰی اعلم۔ وہی جواب دیا جس کی تصریح خلاصہ،فیض اور تتارخانیہ وغیرہ میں کی گئی ہے یعنی یہ بیع اس شرط پر ہوگی جو انھوں نے ٹھہرائی تھی،اور اللہ تعالٰی بہتر جانتاہے۔(ت)

__________________

باب متفرقات البیع
(بیع کے متفرق احکام)

 

مسئلہ ۲۷۴:از موضع دیورنیاں:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قیمت مقررہ اسٹامپ سے زیادہ لینا رشوت ہے یانہیں ؟ بینوا توجروا

الجواب:

یہ رشوت نہیں بلکہ اپنی خرید پر نفع لینا ہے مگر کلام اس میں ہے اسٹامپ بیچنا خود ہی کراہت سے خالی معلوم نہیں ہوتا۔واللہ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۲۷۵:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنی جائداد بدست زید اپنے سوتیلے بیٹے کے فروخت کی اور قیمت اس کی وصول پاکر پھر زید کے پاس امانت رکھ دی زیدنے مہ عہ/ ماہوار مقرر کردی،ہندہ نے کہاکہ مشاہرہ مجھے کیونکر دیتے ہو،کہا اسے آپ اس جائداد کی توفیر تصور فرمائے اس کا جواب ہندہ نے دیا کہ جب اس کی میں مالك نہ رہی تو توفیر کیسی،اس پر کہا کہ میں اپنے پاس سے یہ خدمت کرتاہوں،ہندہ نے کہا یہ معلل بالغرض ہے اور میرے لئے ناجائز،آیاہندہ کے لئے یہ رقم لینا ناجائز ہے یاجائز؟ بینوا توجروا

الجواب:

جائداد مبیعہ کی توفیر لینی تو صریح ناجائز جس سے ہندہ خود انکار کرتی ہے اور بطور خدمت اگر دینا واقعی ہو لینا جائز،اوراس کی واقعیت کی یہ نشانی ہے کہ زید اس سے پہلے بھی ہندہ کی اس قدر خدمت کرتاہویا اب ہندہ اپنا روپیہ واپس لے لے تو بھی بدستور خدمت کرتا رہے اور اگر ایسا نہ ہو تو اس کا یہ کہنا بطور خدمت دیتاہوں زبانی کہناہے بلکہ اس صورت میں ہندہ کاخیال صحیح ہے کہ وہ اسی غرض سے دیتاہے کہ ہندہ اپنی یہ رقم کثیرنہ مانگے اور تاحیات ہندہ اسی ماہوار پر ٹالے،اس نیت سے دینا دینے والے کو تو صریح ناجائز،اور ہندہ اسے اگر اپنے زرامانت میں مجرا کرکے لیتی رہے تو مضائقہ نہیں ورنہ اس کالینا بھی روانہیں واللہ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۲۷۶: مرسلہ مولوی احسان صاحب از مسجد جامع ۹ رجب ۱۳۱۶ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس صورت میں کہ ایك تاجر کتب فروش نے دوسرے تاجر مشتری کو بقلم خود یہ عبارت تحریر کی کہ قرآن مجید مرتضوی مترجم کی اگر آپ سو جلد طلب فرمائیں گے تو بارہ آنے فی جلد کے حساب سے دیا جائے گا اور قرآن شریف مرتضوی کا نرخ تاجرانہ خاص آپ کو لکھا گیا ہے انتہی عبارتہ اور اس کا رڈ پر اپنے دستخط کئے علاوہ اس کے اور کارڈوں پر بھی ان کے دستخط موجود ہیں،جب ان سے جلدیں قرآن شریف کی حسب التحریر ان کے طلب کیں تو اپنی تحریر سے صاف انکار کرگئے کہ نہ میں نے لکھا اور نہ دستخط کئے توآ یا شرع



[1]          ردالمحتار کتاب البیوع مطلب فی الشرط الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۲۱۔۱۲۰

         [2] ردالمحتار کتاب البیوع مطلب فی الشرط الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۲۱



Total Pages: 247

Go To