Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

________________

 

باب بیع التلجیۃ

(دکھلاوے کی بیع کا بیان)

 

مسئلہ ۲۶۹:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین صورت مسئولہ میں کہ زید نے ایك قطعہ مکان جس کا وہ مالك تھا بدست عمرو اپنی کسی مصلحت سے بلاوصول زرثمن فرضی طریق سے بیعنامہ تصدیق کرادیا اور قبضہ اپنا مبیعہ پرنہیں دیا ہے،اور عمرو کی اب یہ خواہش ہے کہ میں اسی مکان کو زید کے فوت ہونے پر اس کے ورثہ کو ہبہ کردوں،دریافت طلب امر یہ ہے کہ آیا اسی مکان کو ہبہ کرنا شرعا جائز ہے یانہیں اور اگر ہبہ جائز ہے تو کن کن وجوہات میں واپس ہوسکتاہے اور کس صورت سے واپس نہیں ہوسکتا۔بینوا توجروا

الجواب:

عمروکو اگر اقرار وتسلیم یا بینہ عادلہ شرعیہ سے ثابت ہے کہ یہ بیع محض بطورفرضی کی گئی ہے جسے بیع تلجیہ کہتے ہیں تو بیع شرعا منعقد ہوگئی ولہذا اگر عاقدین اسے جائز کردیں نافذ ہوجائیگی۔

فی الدر المختار انہ بیع منعقد غیر لازم کالبیع بالخیار [1] الخ وفی ردالمحتار

درمختار میں ہے کہ وہ بیع منعقدہے مگر لازم نہیں جیسے خیار کے ساتھ بیع الخ،اور ردالمحتار میں

انہما لواجازاہ جازوالباطل لاتلحقہ الاجازۃ [2] الخ و قولہم باطل ای سیبطل ان لم یجز کما حققناہ فیما علقناہ علی ردالمحتار۔

ہے کہ اگر عاقدین نے اس کی اجازت دے دی تو جائز ہوگی حالانکہ باطل کو اجازت لاحق نہیں ہوتی الخ اورفقہاء کا قول کہ وہ بیع باطل ہے اس کا معنی یہ ہے کہ عنقریب باطل ہوجائے گی اگر اس کی اجازت نہ دی گئی جیسا کہ ہم نے ردالمحتار پر اپنی تعلیق میں اس کی تحقیق کی ہے۔(ت)

مگر جبکہ قبل اجازت زیدنے وفات پائی اب بیع باطل محض ہوگئی۔

فان البیع الموقوف یبطل بموت المالك بل والعاقد و ان لم یکن مالکا کالفضولی ولاتصح اجازۃ ورثتہ بعدہ فی الدرالمختار حکمہ قبول الاجازۃ اذاکان البائع والمشتری والمبیع قائما وکذا یشترط قیام صاحب المتاع ایضا فلا تجوز اجازۃ وارثہ لبطلانہ بموتہ [3]۔ (ملخصا)

 کیونکہ موقوف بیع مالك کی موت سے باطل ہوجاتی ہے بلکہ عاقد اگرچہ وہ مالك نہ ہو اس کی موت سے بھی باطل ہوجاتی ہے جیسے فضولی کی موت سے،اور اس کی موت کے بعد اس کے وارث کی اجازت سے بیع صحیح نہیں ہوتی،درمختار میں ہے اس کا حکم یہ ہے کہ یہ اجازت کو قبول کرتی ہے جبکہ بائع مشتری اورمبیع قائم ہوں اور اسی طرح مالك کا قائم ہونا بھی شرط ہے چنانچہ اسکی موت سے بیع کے باطل ہوجانے کی وجہ سے اس کے وارث کی اجازت نہیں۔(ت)

تو عمرو غیر مالك کا اس مکان کو وارثان زید خود مالکان کے نام ہبہ کرنا محض بے معنی ہے اور اگر براہ دیانت و امانت اپنے ورثہ یا آئندہ خود اپنی بریت کے اندیشہ سے چاہتاہے کہ بیعنامہ مصدقہ جو محض فرضی تھا بے اثر ہوجائے تواس کے لئے بھی اس ہبہ بے معنی کی ضرورت نہیں اعلان کردے اور گواہ کرالے یا اقرار نامہ تصدیق کرادے کہ میں اس مکان کا مالك نہیں میرے نام بیع صرف بیع فرضی تھی یہ اظہار ہبہ محکم تر بھی ہوگا کہ ہبہ کے لئے شروط ہیں پھر جب تك موانع ہبہ سے کوئی مانع نہ ہواختیار رجوع بھی ہوتاہے اور اگر صورت ہبہ ہی اختیار کرے اس کی شکلیں اس طور پر کردے کہ کوئی شرعی اعتراض نہ رہے نہ آئندہ اختیار رجوع ہوتو یہ بھی ایك صورت اس مقصود محمودکے حصول کی ہے،

وانما الاعمال بالنیات وانما لکل امری مانوی [4]،

بیشك عملوں کا دارومدار تو نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔(ت)

جس طرح نظر خلق میں وہ بیع صحیح نافذ ظاہر کی گئی یونہی نظر خلق میں یہ ہبہ تامہ لازمہ ظاہر ہوگا تو اندیشہ سے تحفظ ہوجائے گا، واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۲۷۰:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے مثلا ایك قطعہ مکان وایك حصہ دکان بدست بکر کسی وجہ خاص سے بیع فرضی کرکے قبضہ تام واسطے بکرکے حاصل کرادیادریافت طلب امر یہ ہے کہ آیا بکر بہ سبب اس عقد فرضی کے مالك مکان وحصہ دکان کا شرعا ہوگایا نہیں ؟ بینوا توجروا

الجواب:

فی الواقع اگر بینہ شرعیہ یا اقرار بکر سے ثابت ہے کہ بیع فرضی طور پر کی گئی ہے تو بکر ہر گز مالك مبیع نہیں اگر چہ قبضہ برضائے بائع کیا ہو،

فانہ بیع منعقد موقوف علی اجازتہما الموقوف لا یقدر الملك بالقبض کما حققناہ فیما علقناہ فی رد المحتار،واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔

 



[1]         درمختار کتاب البیوع باب الصرف مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۵۷

[2]          ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۷

[3]          درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۲

[4]          صحیح بخاری باب کیف کان بدء الوحی قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲



Total Pages: 247

Go To