Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

ضرورت وصول کرسکتاہے کہ فرمائش دوست کا حاصل اگر فرمائش نہ بھی ہو جس میں حقیقۃً خود زید مشتری ٹھہرے تو غایت درجہ توکیل سہی،

والحقوق فی البیوع ترجع الی الوکیل بخلاف النکاح فلیس فیہ الامعبرا اوسفیرا کما صرحوا بہ فی عامۃ الکتب۔ بیوع میں حقوق وکیل کی طرف لوٹتے ہیں بخلاف نکاح کے کہ اس میں وکیل محض تعبیر کرنے والا سفیر ہوتاہے،جیسا کہ فقہاء نے عام کتابوں میں اس کی تصریح کردی۔(ت)

توکیل سے قیمت وصول کرنے کا یقینا اختیار ہے اوراس کے کہنے سے خریدنا اس کا مانع نہیں ہوسکتا۔

فانہ اشارۃ لااکراہ فالشراء انما وقع من زید برضاہ واللہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم و علمہ جل مجدہ اتم واحکم

کیونکہ یہ مشورہ ہے اکراہ نہیں ہے اور زید سے بیع اس کی رضامندی سے ہوئی ہے اور الله تعالٰی بہتر جانتاہے اور اس کا علم اتم ومستحکم ترین ہے۔(ت)

__________________

 

باب الصرف
(بیع صرف کا بیان)

 

مسئلہ ۲۴۶: از شاہجہان پور

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نوٹ پر بٹہ لگانا مثلا سو(ما/)روپے کا نوٹ ننانوے(لع لعہ)کو خریدنا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا

الجواب:

ظاہر ہے کہ نوٹ ایك ایسی حادث چیز ہے جسے پیدا ہوئے بہت قلیل زمانہ گزرا فقہائے مصنفین کے وقت میں اس کا وجود اصلا نہ تھا کہ ان کے کلام میں اس کا جُزیہ بالتصریح پایا جائے مگراس وقت جہاں تك خیال کیا جاتاہے نظر فقہی میں صورت مسئولہ کا جواز ہی معلوم ہوتاہے اور عدم جواز کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی پرظاہر کہ علت تحریم ربا قدرمع الجنس ہے یہ اگر دونوں متحقق ہوں تو فضل ونسیہ دونوں حرام اور ایك ہو تو فضل جائز نسیہ حرام اور دونوں نہ ہو تو دونوں حلال۔

کما فی عامۃ الاسفار وفی تنویر الابصار علتہ القدر مع الجنس فان وجدا حرم الفضل والنساء و ان جیسا کہ عام کتابوں میں ہے،اور تنویر الابصارمیں ہے کہ زیادتی کے حرام ہونے کی علت قدر مع الجنس ہے اور یہ دونوں موجود ہوں تو زیادتی اور ادھار

عدماحلا وان وجد احدھما حل الفضل وحرم النساء [1]۔

دونوں حرام ہیں اور اگر ایك موجود ہو تو زیادتی حلال اور ادھار حرام ہے اور اگر دونوں معدوم ہو تو زیادتی اور ادھار دونوں حلال ہیں۔(ت)

اور مانحن فیہ میں بالبداہۃ دونوں مفقود عدم مجانست اس لئے کہ یہ کاغذ ہے وہ چاندی،اور انعدام قدر اس طرح کہ یہ نہ مکیل ہے نہ موزون،پس حسب ضابطہ مقررہ یہاں فضل ونسیہ دونوں حلال ہونا چاہئے،مسئلہ کا جواب تو اسی قدر سے ہوگیا لیکن غیر فقیہ کو اس جگہ یہ وہم گزرتاہے کہ ہر چند اصل حقیقت میں نوٹ صرف ایك چھپے ہوئے کانام ہے مگر عرف واصطلاح میں گویا وہ بعینہٖ روپیہ ہے اسی لئے ہر جگہ روپیہ کا کام دیتاہے لین دین میں سوروپے کا نوٹ دینے اور سو روپیہ نقد دینے میں ہرگز تفاوت نہیں سمجھا جاتا عموما اس کے ساتھ معاملہ اثمان برتاجاتا ہے تو گویا وہ سورپے تھے کہ بعض ننانوے کے خریدے گئے اور اس کی حرمت میں کچھ شبہ نہیں توصورت مسئولہ میں حکم تحریم دیا چاہئے۔

اقول:جسے فن شریف فقہ میں کچھ بھی بصیرت حاصل ہے اس کے نزدیك اس کا وہم کا ازالہ نہایت آسان،نوٹ کے ساتھ تومعاملہ اثمان برتا جانا اسے حقیقۃً ثمن یعنی احدالنقدین نہ کردے گا غایت یہ کہ اثمان مصطلحہ سے ٹھہرے یعنی وہ کہ اصل خلقت میں سلع وکالا ہیں مگر عرف واصطلاح نے انھیں ثمن ٹھہرالیا ہے جیسے پیسے یا بعض بلاد ہند میں کوڑیاں بھی،اور ازا نجا کہ اثمان اصلیہ سوا زروسیم کے کچھ نہیں تو اہل عرف اگر غیر ثمن کو ثمن کرنا چاہیں ناچار اس کی تقدیر اثمان خلقیہ سے کریں گے،اسی لئے پیسوں کی مالیت یونہی بتائی جاتی ہے کہ روپے کے سولہ آنے پس نوٹ کو جب عرفًا ثمن کرنا چاہا اس کے اندازے میں بھی اصل ثمن کی جانب رجوع ضرور ہوئی اور یوں قرار دیاگیا کہ فلاں نوٹ سوروپے کا،فلاں دو سو کا،فلاں ہزار کا،مگر یہ صرف تقدیر ہی تقدیر ہے اس سے اتحاد جنس وقدر ہرگز لازم نہیں آتا جیسے اندازہ فلوس سے چونسٹھ پیسے روپے کا عین نہ ہوگئے یوں ہی اس قرارداد سے وہ نوٹ حقیقۃً سوروپے یاچاندی نہ ہوجائے گا،پس علت ربا کا تحقق ممکن نہیں نہ عاقدین اتباع عرف واصطلاح پر مجبور کہ جو قیمت انہوں نے ٹھہرادی یہ اس سے کم وبیش نہ کرسکیں یہ اپنے معاملہ کے مختار ہیں چاہیں سو روپے کی چیز ایك پیسے کو بیچیں یا ہزار اشرفی کو خریدیں صرف تراضی درکار ہے،آخر نہ دیکھا کہ ایك روپے کے پیسے بہ تعیین عرف ہمیشہ معین رہتے ہیں مگر علماء نے اٹھنی سے زیادہ کے عوض میں آٹھ آنے بیچناروا رکھا،اور سب جانتے ہیں کہ ایك اشرفی کئی روپے کی ہوتی ہے لیکن فقہا نے ایك روپے کے عوض ایك اشرفی خریدنا جائز ٹھہرا یا تو یہ وجہ کیا ہے وہی اختلاف جنس جس کے بعد تفاضل میں کچھ حرج نہیں

فی الدرالمختار ومن اعطی صیر فیا درہما کبیر افقال اعطنی بہ نصف درہم فلوسا(بالنصف صفۃ نصف) ونصفا(من الفضۃ صغیرا)الاحبۃ صح(ویکون النصف الاحبۃ بمثلہ وما بقی من الفلوس[2] )

 درمختار میں ہے کہ کسی نے صراف کو ایك بڑا درہم دیتے ہوئے کہا کہ مجھے نصف درہم کے عوض ایك چھوٹا درہم جو بڑے درہم کے نصف سے ایك حبہ کم ہو دے دے تو یہ بیع صحیح ہے اور چھوٹا درہم جو بڑے کے نصف سے ایك حبہ کم ہووہ اپنے مثل کے مقابل ہوجائیگا اور باقی پیسوں کے مقابل ہوگا۔(ت)

 



[1]          درمختار کتاب البیوع باب الربٰو مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۱

[2]          درمختار کتاب البیوع باب الصرف مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۵۷



Total Pages: 247

Go To