Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

قرض باہم برابرہو،اور اگر مختلف ہو مثلا ایك طر ف عمدہ اور دوسری طرف ردی ہو تو عمدہ والے کی رضامندی ضروری ہے،اور اشباہ میں ہے کہ ایك شخص پر ہزارو روپے قرض ہے اس نے قرض دہندہ کے ہاتھ کوئی چیز ہزارو رپے کے بدلے میں ادھار فروخت کردی پھر مقروض کے مرض الموت میں ادھار کی مدت پوری ہوگئی درانحالیکہ ابھی تك اس پر قرض موجود ہے تو اب یہ قرض ثمن مؤجل کا بدلہ ہوکر اتر جائے گا الخ،غمز العیون میں کہا کہ اس کو مدت کے پورے ہونے کے ساتھ مقید کیا گیا کیونکہ اگر مدت پوری نہ ہوئی تو ادلہ بدلہ نہ ہوگا کیونکہ وصف مختلف ہے جیسا کہ عمدہ اور ردی میں ہوتا ہے۔(ت)

اور کاشتکار کی طرف سے بیع ثانی بعد قبضہ ہونے کے ضرورت یہ ہے کہ اگر پیش از قبضہ بائع کے ہاتھ بیع کردے گا تو بیع فاسدوناجائز ہوگی غیر کے ہاتھ بیچنے میں تو صرف اشیائے منقولہ پر قبضہ شرط ہے مثلا عمرو نے زید سے کوئی منقول چیز مول لی اور ہنوز اپنے قبضہ میں نہ آئی کہ بکر کے ہاتھ بیچ ڈالی یہ بیع فاسد ہوئی اورجائداد غیر منقولہ لے کر پیش ازقبضہ غیر بائع کے ہاتھ بیع کردی تو جائز ہے مگر جس سے مول لی تھی اس کے ہاتھ قبضہ سے پہلے اشیائے غیر منقولہ کی بیع بھی جائز نہیں لہذا قبضہ لازم ہے۔

فی الدرالمختار صح بیع عقار لایخشی ھلاکہ قبل قبضہ من بائعہ(متعلق بقبض لاببیع لان بیعہ من بائعہ قبل قبضہ فاسد کما فی المنقول)ولا یصح درمختارمیں ہے غیر منقول جائداد کو اس کے بائع سے لے کر اپنے قبضہ میں کرنے سے پہلے فروخت کرنا صحیح ہے جبکہ اس جائداد کی ہلاکت کا خوف نہ ہو(من بائعہ کا تعلق قبض کے ساتھ ہے بیع کے ساتھ نہیں کیونکہ غیر منقول کو قبضہ سے پہلے اس کے بائع کے ہاتھ فروخت کرنا فاسد ہے جیسا کہ اتفاقا بیع منقول قبل قبضہ ولو من بائعہ بخلاف ھبتہ واقراضہ ورھنہ واعارتہ من غیر بائعہ فانہ صحیح علی الاصح [1] اھ ملخصا مزیدا من ردالمحتار۔ واللہ تعالٰی اعلم۔

مال منقول میں ہوتاہے)اور مال منقول کی بیع قبضہ سے پہلے اگر چہ اس کے بائع کے ہاتھ ہو بالاتفاق صحیح نہیں بخلاف اس منقول کے غیر بائع کو ہبہ کرنے قرض دینے رہن رکھنے اور عاریت پر دینے کے کہ یہ اصح قول کے مطابق درست ہے۔ اھ تلخیص(مع ردالمحتار سے کچھ اضافہ کے)۔(ت)

مسئلہ ۲۴۳: ۲۹ شعبان ۱۳۳۳ھ مرسلہ حافظ ایاز نجیب آباد ضلع بجنور محلہ پورہ

ماہ جون میں جو زراعت نیشکر پر کرلہو بدلی ہوتی ہے اور نرخ بال کی یہ شرط قرار داد ہوئی کہ شاہ نگر کے سے ایك روپیہ یا(۸/)کم یا زیادہ طرفین کی رضامندی سے تحریر ہوجاتی ہے اور جو روپیہ اس وقت بوقت تحریر لینا ٹھہرتاہے وہ دے دیا جاتاہے باقی آئندہ مال آتا رہتاہے اورروپیہ جاتا رہتا آخر اختتام پر کل مال کا حساب وکتاب ہوجاتاہے اگر صورۃ مذکورہ جائز ہے و فبہا ورنہ اس کے جواز کے واسطے کیا حیلہ ہے کیونکہ اس کا عام رواج ہے۔

الجواب:

نیشکر کے بدلے جس طرح کہ رائج ہے محض بے اصل وبوجوہ ناجائز ہے اس وقت گنا بھی موجود نہیں ہوتا اور نہ رس،اس کے جواز کی یہ صورت ہوسکتی ہے کہ مثلا سوروپیہ کے بدلی کرنی منظور ہے تو اس کی خرید وفروخت کا کچھ نام نہ لیں بلکہ اپنی کوئی چیز سو روپے کی اس کے ہاتھ ایك معین مدت مثلا گھنٹے بھر کے وعدہ پر بیع کریں اور وہ شے اس کے قبضے میں دے دیں اور وہ ابھی گھنٹہ نہ گزرنے پائے کہ شخص مذکور وہی شے سو روپیہ نقد کو مالك اول کے ہاتھ بیع کردے اور یہ اسی وت سو روپیہ اس کے ادا کردے اب اس کی چیز اس کے پاس آگئی اور سو نقد اسے پہنچ گئے اور اس کے سوروپیہ اس پر دین رہے جب وہ وعدہ کا گھنٹہ گزرے یہ اپنے روپیوں کا ا سے تقاضا کرے وہ کہے میں تیرے روپے دس منٹ میں دوں گا اگر نہ دوں تو وعدہ کرتاہوں کہ اپنے روپیوں کے عوض اس نرخ سے رس دوں گا اس کے دستاویز جیسے لکھی جاتی ہے لکھالیں اب اس کی خریداری جائز ہوگئی اس حیلہ شرعیہ کی تحقیق وتفصیل ہمارے فتاوٰی میں ہے۔ والله تعالٰی اعلم۔

___________________

 

باب الاستصناع

(بیع استصناع کا بیان)

 

مسئلہ ۲۴۴: مسئولہ حافظ یعقوب خاں صاحب ۱۶ ربیع الآخر ۱۳۱۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بڑھئی نے اقرار کیا کہ فلاں قسم کی کُرسیاں ایك درجن ایك ماہ کے اندربقیمت مبلغ ؎ کودوں گا اور جب تك تمھاری کُرسیاں تیار نہ کروں اور کسی کا یااپنا مال نہ بناؤں گا اگر وعدہ خلافی کروں تو کُرسیاں مذکورہ بقیمت(للعہ عہ/)کو دوں گا،پس بڑھئی نے وعدہ خلافی کی یعنی اور کسی کامال بنایا اور کُرسیاں بھی ایك ماہ کے بعد دیں پس اس صورت میں حسب اقرار(للعہ عہ/)کو درجن لینا درست ہے یانہیں؟

الجواب:

صورت مستفسرہ میں وہ کرسیاں اس عقد کی بنا پر نہ(للعہ عہ /)درجن کو لینا جائز نہ ؎کو بلکہ اس عقد کا فسخ کرنا واجب ہے کہ یہ عقد فاسد ہوا اور عقد فاسد گناہ ہے اور گناہ کا ازالہ فرض،ہاں اگر چاہیں تو عقد کو فسخ کرکے اب یہ کُرسیاں بعقد جدید باہمی رضامندی سے جتنے کو ٹھہر جائیں خریدلیں،وجہ یہ ہے کہ کسی سے کوئی چیز اس طرح بنوانا کہ وہ اپنے پاس سے



[1]          درمختار کتاب البیوع فصل فی التصرف فی المبیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۷،ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی التصرف فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۶۱



Total Pages: 247

Go To