Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

کاغذی نوٹ سے متعلق مولوی رشیداحمد گنگوہی اورمولانا عبدالحَی لکھنوی کے فتووں کا تفصیلی رد۔

٭…٭…٭

شوال المکرم ۱۴۲۰ھ حافظ محمد عبدالستار سعیدی

جنوری ۲۰۰۰ء ناظم تعلیمات جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور

بسم الله الرحمن الرحیم

کتاب البیوع

(خرید وفروخت کا بیان)

مسئلہ ۱:

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس صورت میں کہ زید نے کہا میں اپنا مکان بھیجتاہوں،عمرو نے کہا میں خریدوں گا،دونوں آپس میں راضی ہوئے قیمت قرار پاگئی،زیدنے عمرو سے بیعانہ بھی لے لیا اور کاغذ واسطے تحریر بیعنامہ کے خرید کرلایا،اس صورت میں شرعا بیع تمام ہوگئی یا ناتمام رہی؟ بینوا توجروا(بیان کیجئے اجر پائے۔ت)

الجواب:

ہر چند صورت مستفسرہ میں الفاظ ایجاب وقبول نہ پائے گئے کہ خرید کروں گا صیغہ استقبال ہے اور یہاں درکار ماضی یاحال، لکین اگر متعارف ان بلاد وامصار یوں یوں ہے کہ بعد گفتگو ئے مساومت وقرار داد قیمت بیعانہ اورلینا مستلزم تمام بیع ٹھہرتا ہے اور بعد اس کے تنہا ایك عاقد عقد سے رجوع نہیں کرسکتا اگر چہ الفاظ ایجاب وقبول درمیان نہ آئے ہوں تو بیع تمام ہوگئی کہ مقصود ان عقود میں معنی ہیں نہ کہ لفظ،اور اصل مدار تراضی طرفین قولا ظاہر ہو خواہ فعلا،اس لیے تعاطی مثل ایجاب وقبول لزوم بیع کا سبب قرار پائی،گویا عاقدین زبان سے کچھ نہ کہیں کہ عادت محکم ہے اور تعارف معتبر،اور جوحکم عرف پر مبنی ہوتا ہے اس کے ساتھ دائر رہتا ہے،جب یہ فعل مثل الفاظ مظہر تراضی ہوا تو انھیں کی طرح موجب تمام بیع ہوگا۔

فی الہدایۃ والمعنی ھو المعتبر فی ھٰذہ العقود ولہذا ینعفد بالتعاطی فی النفیس والخسیس ھوا لصحیح لتحقق المراضاۃ [1] واللہ تعالٰی اعلم وعلمہ اتم۔

ہدایہ میں ہے کہ ان عقود میں معنی ہی کا اعتبار ہوتا ہے اسی لئے بڑھیا اور گھٹیا چیزوں میں بیع تعاطی منعقد ہوجاتی ہے اور یہی صحیح ہے کیونکہ باہمی رضامندی متحقق ہے، والله تعالٰی اعلم وعلمہ اتم(ت)

مسئلہ۲: از ریاست رامپور محلہ سبزی منڈی مرسلہ سید مقبول حسین صاحب وکیل ۲۱ محرم ۱۳۳۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین بیچ اس مسئلہ کے کہ زید نے ایك مکان متروکہ چھوڑا،مسمی عمرو اس کا پسر وارث مع الحصر مگر وہ نابالغ تھا دیگر شخص غیر وارث نے بہ زمانہ نابالغی مسمی عمرو مکان مذکور کو اپنی ملکیت قرار دے کر بدست بکر بیع کردیا بکرنے قبضۃ کرلیا،بعد بلوغ مسمی عمرو نے بحالت غیر قابض مکان مذکور بدست خالد بیع کردیا خالد بذریعہ دستاویز بیعنامہ اقراری عمرو بنام بکر ونیز عمرو دعویدار تخلیہ و دخلیابی مکان مذکور ہے عمرو کو بیع کردینا تسلیم ہے اور دعوٰی سے اقبال ہے بکر قابض مکان بیع موسومہ خود کو حجت گردان کر منکر دعوٰی ہے اور مسئلہ شرعی مقدور التسلیم کا عذر کرتا ہے،کیا صورت مذکورہ بالا میں مسئلہ مقدور التسلیم شرعا متعلق ہوسکے گا اور مسئلہ مذکور کے حقیقی معنی اور اس کی مثال بھی تحریر فرمائے تاکہ عام فہم ہوجائے۔بینوا توجروا۔

الجواب:

عمرو نے جس وقت خالد کے ہاتھ بیع کی اگر عمرو اس وقت گواہان عادل شرعی اس امر پر رکھتا تھا کہ یہ مکان میری ملك ہے بکر وبائع بکر غاصب ہے جبکہ تو بیع عمرو بدست خالد صحیح وتام ونافذ واقع ہوئی مکان ملك خالد ہوگیا،خالد کا دعوٰی صحیح ہے بوجہ وجود بینہ عادلہ،عمرو کو حکما قدرۃً علی التسلیم حاصل تھی اور اسی قدر صحت ونفاذ بیع کے لئے کافی ہے حقیقۃ مقدور التسلیم فی الحال ہونا کسی کے نزدیك ضرور نہیں،غلام کو کسی کام کے لئے ہزار کوس پر بھیجا اور یہاں اسے بیع کردیا،بیع صحیح ہوگئی کہ عادۃً اس کا واپس آنا مظنون ہے اگرچہ احتمال ہے کہ سرکشی کرے اور بھاگ جائے،کبوتر ہلے ہوئےکہ صبح اڑائے جاتے اور شام کو گھر پلٹ آتے ہیں،ان کی غیبت میں بیچے بیع صحیح ہے کہ رجوع مرجوع ہے تو قدرۃ علی التسلیم حکما حاصل ہے یوں ہی جب بیّنہ عادلہ موجود ہے تو ڈگری ملنے کی امید قوی ہے تویہاں بھی قدرۃ حکمیہ حاصل،اوریہی بس ہے،اسی طرح اگر غاصب مقرغصب وملك مالك ہوتا جب بھی بیع مالك صحیح ونافذ ہوتی کہ اقراربھی حق مقر میں مثل بیّنہ حجت ملزمہ ہے بلکہ ا س سے بھی اقوی، ولہٰذا اگر منکر بعد اقامت بیّنہ اقرار کردے حکم بربنائے اقرار ہوگا نہ کہ بربنائے بیّنہ،ہاں اگروقت بیع عمرو نہ بکر مقر ملك عمرو تھا، نہ عمرو کے پاس بیّنہ شرعیہ،تو اب ضرور مسئلہ اشتراط قدرۃ علی التسلیم عائدہ ہوگا،ظاہر ہے کہ اس صورت میں عمرو کو نہ حقیقۃ قدرۃ التسلیم ہے نہ حکما کہ بے اقرار وبیّنہ ڈگری ملنا ہر گز مظنون نہیں،تو یہ غلام آبق کی مانند ہوا جو سرکشی کرکے بھاگ گیا اور غائب ہے،مالك اگر اسے بیع کرے گا ہر گز صحیح نہ ہوگی،یونہی نیا کبوتر کہ اڑگیاوہ ہلہ ہوا نہیں کہ واپس مظنون ہو اس کی بیع بھی جائز نہیں کہ قدرۃ التسلیم مفقود ہے،اگریہ صورت تھی تو خالد کو دعوٰی کا کوئی حق نہیں،قدرۃ التسلیم میں ہمارے ائمہ کے دو۲ قول ہیں،دونوں باقوت،اول یہ کہ وہ شرط انعقاد ہے ك بے اس کے بیع باطل محض ہے،دوم شرط صحت بیع ہے،کہ بے اس کے بیع فاسد ہے،پہلے قول پر تو ظاہر ہے کہ نہ خالد مشتری ہے نہ عمرو بائع،اجنبی محض کودعوٰی کا کیا اختیار،اور قول ثانی پر جبکہ بیع فاسد ہے اور بیع فاسد میں مشتری بے قبضہ مالك نہیں ہوتاپھر جبکہ فساد بوجہ عدم قدرۃ التسلیم ہے اور بیع فاسد میں



[1]          الہدایہ کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/۲۴،۲۵



Total Pages: 247

Go To