Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

درمختار میں ہے عقد سلم کے صحیح ہونے کی وہ شرطیں جن کو عقد میں ذکر کیا جاتاہے یہ ہیں:جنس،نوع،صفت،مقدار اور اجل کا بیان کرنا اھ تلخیص(ت)

پھر بیع سلم جس چیز کی ہو اسے بدل کر دوسری شے لینی جائزنہیں،تو کل یا بعض پیسوں کے عوض میں دو نی چونی اٹھنی وغیرہا نہیں لے سکتا بلکہ خاص پیسے ہی لئے جائیں گے۔

لقولہ علیہ الصلوٰۃ والسلام لاتاخذ الاسلمك او رأس مالك ای الا سلمك حال قیام العقد اورأس المال عند انفساخہ فامتنع الاستبدال [1]اھ درمختار۔

کیونکہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ارشاد ہےکہ سوائے اپنے مسلم(مسلم فیہ)یاراس المال کے کچھ مت لےیعنی اگر عقد قائم رہے تو مسلم فیہ اورا گر عقد فسخ ہوجائے تو راس المال لے لے،چنانچہ بدلےمیں کوئی اور چیز لینا ممتنع ہو اھ درمختار(ت)

نہ یہ روا ہے کہ اپنے قبضہ میں آجانے سے پہلے اس میں کوئی تصرف مثل بیع وغیرہ کیا جائے تو عمرو کا باجازت زید خواہ بلااجازت پیسے بیچ کر روپے وغیرہ ان کے بدلہ کی کوئی شے زید کو دینا درست نہیں نہ زید اسے لے سکتا ہے،

فی الدالمختار لا یجوز التصرف للمسلم الیہ فی راس المال ولا لرب السلم

درمختار میں ہے کہ قبضہ سے پہلے مسلم الیہ کے لئے راس المال میں اور رب السلم کے لئے مسلم فیہ

فی المسلم فیہ قبل قبضہ بنحو بیع وشرکۃ [2]۔

میں تصرف جیسے بیع اور شرکت ناجائز ہے والله تعالی اعلم۔(ت)

مسئلہ ۲۳۰:کیا فرماتے ہیں علمائے دین بیچ اس مسئلہ میں کے مثلا زید نے بکر کو دس رپے دئیے اس شرط پر کہ آئندہ فصل میں فی روپیہ بیس سیر گندم لوں گا خصوصی شرط مذکور زید نے فصل مقررہ پر گندم وصول کئے فصل معین میں گندم فی روپیہ(۵ ما/)فروخت ہوتے تھے تو زید کو پندرہ سیر گندم جو کہ خلاف نرخ مل رہے ہیں یہ جائز ہے یاناجائز؟ بینوا توجروا

الجواب:

اگر یہ روپے زید نے بکر کو قرض دئے تھے اور شرط یہ کی کہ آئندہ فصل میں فی روپیہ بیس سیر گیہوں لیں گے تو یہ ناجائز اورحرام ہے اور اگر روپیہ گیہوؤں کو قیمت قرار دے کر دئے تھے تو اس کہنے سے کہ بیس سیر گندم لوں گا بیع نہ ہوئی نرا وعدہ ہوا اب جب گیہوں موجود ہوئے بکر اگر اس بھاؤپر نہ دے تو اسے اختیار ہے زید جبر نہیں کرسکتا اور اپنی خوشی سے بکر دے توحلال ہے اور اگر اس وقت گیہوں کی بیع کرلی کہ اس نے کہا بیچے اور اس نے کہا خریدے تو بیع سلم کی سب شرطیں"اگر کرلی ہیں اور وہ متحقق ہیں تو جائز ہے اور فی روپیہ دس من زیادہ ملے تو حلال(عہ)ہے ورنہ حرام۔والله تعالٰی اعلم

مسئلہ ۲۳۱: از میرانپور کٹرہ ضلع شاہجہانپور مسئولہ محمد صدیق بیگ صاحب ۲۵ محر م ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك اسامی کو پانچ روپے دے دئے ہیں اور اس سے یہ قرار پایا ہے کہ بیساکھ میں ساڑھے چاروپے من فروچنے دیں گے یہ بیع کیسی ہے؟

الجواب:

یہ صورت بیع سلم کی ہے اور ا س میں بارہ شرطیں ہیں جن کی تفصیل فـــــــ ہمارے فتاوٰی میں ہے ان میں سے ایك بھی کم ہو تو حرام ہے اور سب جمع ہوں تو جائز ہے اوراگر وہ آسامی مسلمان نہیں تو جو معاہدہ اس سے ٹھہرجائے حرج نہیں کما مرمرارا۔ والله تعالٰی اعلم۔

عــــــہ: اصل میں اسی طرح ہے ہونا چاہئے"توبھی حلال ہے"

 

مسئلہ ۲۳۲: از موضع خورد مئوڈاکخانہ بدوسرائے ضلع بارہ بنکی مرسلہ صفدر علیہ صاحب ۶ ربیع الاول ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ روپیہ اس شرط پر کسی کو دینا اور مال لینا جائزہے کہ فصل میں جونرخ ہوگا ہم فلاں غلہ لیں گے۔

الجواب:

فلاں غلہ لیں گے،یہ تو ایك وعدہ ہے کوئی عقد نہیں ہے اس کی پابندی پر جبر نہیں ہوسکتا اسے اختیار ہے کہ وروپیہ پھیردے اور غلہ نہ دے،اوراگر عقد بیع کیا تو یہ بیع سلم ہے اس کی بارہ فـــــــ شرطیں اگر جمع ہیں حلال ہیں ورنہ حرام،اور اس طور پر کہ فصل کے نرخ پر بیچا خریدا مطلقًاحرام ہے کہ وہ مجہول ہے والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۲۳۳: از شہر مرسلہ شوکت علی صاحب ۱۴ جمادی الآخر ۱۳۳۷ھ

کیاحکم ہے اہل شریعت کا اس مسئلہ میں کہ زید کچھ روپیہ دہقانوں کو فصل سے پہلے اس شرط پر تقسیم کردیتاہے مثلا جس وقت روپیہ یا اس وقت گندم خواہ کوئی غلہ(۱۰ ما/)کا تھا اور اس نے(۱۴ ما/)فی روپیہ نرخ ٹھہرا کر روپیہ دے دیا اب فصل پر خواہ کوئی نرخ کم وبیش(۱۴ ما/)سے ہو لیکن وہ فی روپیہ(۱۴ ما/)کے حساب سے غلہ لے لے گا۔بکر کہتا ہے کہ تونے سودلیا کیونکہ نرخ سے زیادہ ٹھہرا لیا۔بینوا توجروا

 



[1]         درمختار کتاب البیوع باب السلم مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۴۹

[2]         درمختار کتاب البیوع با ب السلم مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۸

فـــــ:     تفصیل کے لیئے جلد ہذا میں مسئلہ ۲۲۳ملاحظہ ہو۔

 



Total Pages: 247

Go To