Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

محلے اس مسئلہ میں برابر ہیں اگر کسی محلہ میں بائع نے مسلم فیہ کو پہنچادیا تو بری الذمہ ہوگیا مشتری کو یہ حق حاصل نہیں کہ و ہ دوسرے محلہ میں پہنچانے کا مطالبہ کرے(بزازیہ)اوراگر کوئی مکان معین کردیا تو وہی معین ہوگا اصح مذہب پر(فتح)اور باقی رہا شرطوں میں سے راس المال پر قبضہ کرنا اگرچہ راس المال معین ہو،اوریہ قبضہ عاقدین کے بدنی طوپر جدا ہونے سے قبل شرط ہے اگرچہ وہ دونوں مجلس میں سو گئے ہوں یا ایك فرسخ یا اس سے کچھ زیادہ اکٹھے چلتے گئے ہوں (اس کے بعد قبضہ کیا ہو)اوراگر رب السلم(مشتری)درہم لینے گھر میں اس طرح داخل ہو ا کہ مسلم الیہ(بائع)کی نظر سے اوجھل ہوگیا توعقد باطل ہوگیا اور اگر وہ نظرآتا رہا تو عقد باطل نہیں ہوا اور راس المال پر مجلس میں قبضہ کرنا عقد سلم کے صحت پر باقی رہنے کی شرط ہے نہ کہ وصف صحت پر اس کے منعقد ہونے کی شرط ہے،تو بیع کا انعقاد صحیح ہوجائے گا پھر راس المال پر قبضہ کئے بغیر دونوں کے جدا ہونے سے باطل ہوجائے گی۔(ت)

اسی میں ہے:

لایصح فی منقطع لایوجد فی الاسراق من وقت العقد الی وقت الاستحقاق [1]۔

ایسی چیز میں عقد سلم صحیح نہیں جو وقت عقد سے وقت استحقاق یعنی ختم میعاد تك بازارمیں موجود نہ رہے۔(ت)

اسی میں ہے:

ولافی حنطۃ حدیثۃ قبل حدوثہا لانہا منقطعۃ فی الحال [2]۔واللہ تعالٰی اعلم۔

عقد سلم نئی گندم میں ا سکے پیدا ہونے سے پہلے صحیح نہیں کیونکہ وہ فی الحال موجود نہیں۔(ت)

مسئلہ ۲۲۴: از شہر کہنہ دہم ربیع الثانی شریف ۱۳۰۶ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر گیہوں کی کٹوتی جسے بدنی بھی کہتے ہیں اس طور پر کریں کہ روپے دے دے اور بھاؤ معین نہ کیا بلکہ یہ ٹھہرا کہ فصل کا بھاؤ یا اس سے مثلا دوسیر زائد لیں گے تویہ صورت جائز ہے یانہیں ؟ بینوا توجروا

الجواب:محض ناجائز ہے جب تك مقدار معین نہ کردی جائے۔

فی الدرالمختار شرط صحتہ بیان جنس وقدر ککذا کیلا [3] اھ ملخصا۔واللہ تعالٰی اعلم۔

درمختارمیں ہے عقد سلم کے صحیح ہونے کی شرط جنس کو بیان کرنا اورمقدار کو بیان کرنا ہے جیسے کیل کے اعتبار سے انتی ہے اھ تلخیص۔والله تعالٰی اعلم۔(ت)

مسئلہ ۲۲۵: از شہر کہنہ دہم ربیع الثانی شریف ۱۳۰۶ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ رس کی خریداری اس طور پر کہ ابھی ایکھ کھڑی ہے اور اسے خرید لیا اور روپیہ دے دیا،جائز ہے یانہیں ؟ بینواتوجروا

الجواب:

محض ناجائز ہےکہ صورت بیع سلم کی ہے اور بیع سلم انھیں چیزوں میں جائز ہے جو ہنگام عقد سے میعاد استحقاق تك ہر وقت بازار میں موجود ہیں،گھروں میں موجود ہونا کفایت نہیں کرتا اور ظاہرہے کہ رس اس وقت بازار میں نہیں ہوتا۔ ہدایہ میں ہے:

لایجوز المسلم حتی یکون المسلم فیہ موجود امن حین العقد الی جب تك مسلم فیہ وقت عقد سے لیے کر وقت استحقاق تك مسلسل بازار میں موجود نہ رہے بیع سلم حین المحل [4]۔ جائز نہیں۔(ت)

ردالمحتار میں ہے:

حد الانقطاع ان لا یوجد فی الاسواق وان کان فی البیوت کذا فی التبیین شرنبلالیہ ومثلہ فی الفتح والبحر والنھر [5]۔والله تعالٰی اعلم۔ نایاب ہونے کا معنی یہ ہے کہ چیز بازار میں موجود نہ ہو اگرچہ گھر میں موجود ہو تبیین شرنبلالیہ میں یونہی ہے اور اس کی مثل بحر،نہراور فتح میں ہے۔والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۲۲۶: ۸ رجب ۱۳۰۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اپنے یاغیر گاؤں کے اسامیوں کو روپیہ کٹوتی پر دیا اور نرخ کاٹ کر غلہ ٹھہرا لیا اب اگر کسی آفت ارضی یا سماوی کی وجہ سے غلہ نہ پیدا ہو تو یہ شخص اسی نرخ معین کے حساب سے قیمت پانے کا مستحق ہے یانہیں ؟ بینواتوجروا

الجواب:

جب عدم پیداوار وغیرہ کی وجہ سے بائع ومشتری اسی عقد کو فسخ کریں تو مشتری کو صرف اتنا ہی روپیہ لینا جائز ہےجس قدر اس نے دیا تھا اس سے زیادہ ایك حبہ لینا حرام اور سود ہے،رسول الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں:

لاتاخذ الاسلمك او رأس مالك [6] او کما قال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ۔واللہ تعالٰی اعلم۔ یعنی ایا تو وہ چیز لے یا جتنا روپیہ دیا تھا وہ واپس کرلے اس کے سوا کچھ نہ لے،جیسا کہ رسول الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ہے۔

 



[1]         درمختار کتاب البیوع باب السلم مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۷

[2]         درمختار کتاب البیوع باب السلم مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۷

[3]         درمختار کتاب البیوع باب السلم مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۸

[4]         الہدایہ کتاب البیوع باب السلم مطبع یوسفی لکھنؤ ۲ /۹۵

[5]         ردالمحتار کتاب البیوع باب السلم داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۰۵

[6]         درمختار باب السلم ۲/ ۴۹ و تبین الحقائق باب السلم ۴ /۱۱۴



Total Pages: 247

Go To