Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

 

 

 

 

باب البیع المکروہ
(بیع مکروہ کا بیان)

 

 

 

مسئلہ ۸۹:               کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ غلہ کوروك کر بیچنا جائزہے یانہیں ؟  بینوا توجروا

الجواب:

غلہ کو اس نظر سے روکنا کہ گرانی کے وقت بیچیں گے بشرطیکہ اسی جگہ یا اس کے قریب سے خریدا اور اس کانہ بیچنا لوگوں کو مضر ہو مکروہ وممنوع ہے،اوراگر غلہ دور سے خرید کر لائے اور باتنظار گرانی نہ بیچے یانہ بیچنا اس کا خلق کو مضرنہ ہو تو کچھ مضائقہ نہیں،

فی العالمگیریۃ الاحتکار مکروہ وذٰلك ان یشتری ذٰلك یضر بالناس کذا فی الحاوی وان اشتری فی ذٰلك المصر وحبسہ ولایضر باھل المصر لاباس بہ کذا فی التتارخانیۃ ناقلاعن التجنیس واذا اشتری من مکان قریب من المصرفحمل طعاما الی المصر وحبسہ و

عالمگیریہ میں ہے احتکار مکروہ ہے اس کی صورت یہ ہے کہ شہر میں غلہ خرید لے اور اس کو فروخت کرنے سے روك رکھے اوریہ روکنا لوگوں کے لئے نقصان دہ ہو یہ حاوی میں ہے اور شہر میں خرید کر اس کے بیچنے سے روکا مگر اس سے لوگوں کو ضرر نہیں پہنچتا تو کوئی حرج نہیں یونہی تاتارخانیہ میں تجنیس سے نقل کیا گیا ہے،اور اگر شہرکے قریب سے خریدا  اور شہر میں اٹھالایا اور فروخت سے روك رکھا جبکہ

 


 

 



Total Pages: 715

Go To