Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

اگر حیلہ کرنا چاہے تو نو درہم نودرہموں کے بندلے میں لے لے اور باقی ایك درہم سے اس(مقروض)کو بری کردے۔ (ت)

اگر کہئے یہ قض بشرط ابراء عن البعض ہواتو اولًا کیوں نہ کہئے کہ جب سرے سے سو کا نوٹ لے کر سو اسودے رہا ہے تو قرض بعض وہبہ بعض ہوا پھر اگر زیادتممتازہ یا تبعیض مضر ہو جب تو بلا خدشہ جائز و صحیح و روا ہے اور آپ کا حکم باطل و پادر ہوا ہے ورنہ غایت یہ کہ بوجہ شیوع ناتمام ہو،ربا کہاں سے آیا۔

ثانیًا:قرض شروط فاسدہ سے فاسدنہہوتا بلکہ شرط باطل ہوجاتی ہے تو یہ کئے کہ زید پر پچیس روپے اور واجب رہے نہ کہ سود ہوا،

فافھم ان کنت تفہم لکنك تفہم انك لاتفہم۔ واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔

تو سمجھ لے اگر تو سمجھتا ہے لیکن تو سمجھتا ہے کہ بیشك تو نہیں سمجھے گا۔واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم(ت)

ردّ وہم

بحمد اللہ تعالٰی مولوی صاحب لکھنؤ ی کے ردمین کلا مشبع گزرا مسئلہ یازدہم خاص انہیں کے رد میں تھا بلکہ کا اکثر حصہ ان کے رد میں ہے یہاں غالبًا ان کا پتا دینے پر اکتفاہو،مولوی صاحب کی کی جلد دوم فتوی نمبر ۱۲۶:قولہ ھو المصوب [1](وہ درست بنانے والا۔ت)

اقول:(میں کہتا ہوں مولوی صاحب کی عادت ہے کہ ہر جواب سے پہلے یہی لکفظ لکھتے ہیں حالانکہاولًا: اللہ عزوجل پر اس نام کا اطلاق واردنہیں ہوتا۔

ثانیًا: معنی لغت بھی اس کے مساعد نہیں لغت میں مصوب وہ ہے جو دوسرے کی بات ٹھیك بتائے،نہ وہ جو اس کی بات کو ٹھیك بنائے یعنی اسے توفیق صواب بخشے،تصویب بعد وقوع قول ہوتی ہے اور توفیق صواب اس سے مقدم۔

ثالثًا:اس کے اور معنی بھی ہیں کہ باری عزوجل پر محال ہیں،مصوب وہ جو سر جھکائے ہوئے ہو،مصوب وہ سوار کہ گھوڑا تیز چلائے۔قاموس میں ہے:

صوبہ قال لہ اصبت وراسہ خفضہ[2]۔

صوبہ کسی کو کہاکہ تونے ٹھیك بات کی،صوب راسہ اس نے سرجھکا یا۔(ت)

تاج العروس میں ہے:

صوبت الفرس اذا ارسلتہ فی الجری [3]۔

صوبت الفرس یعنی میں نے گھوڑے کو تیزدوڑایا۔(ت)

ہاں مصوب وہ بھی ہے کہ دوسرے کا سر نیچا کرے یا بلندی سے پستی میں اتارے۔تاج العروس میں ہے:

التصویب خلاف التصعید ومن قطع سدرۃ صوب اللہ راسہ فی النار ای نکسہ اھ [4]مختصرا۔

تصویب،تصعید کے خلاف ہے اور جس نے بیری کا درخت کاٹا اللہ تعالٰی نے اس کا سر آگ میں جھکا دیا اھ مختصرا (ت)

یہ اگر ہوتا تو مثل خافض رافع سے جدا نہ بولا جاتا کما فی کتاب الاسماء والصفات للامام البیہقی(جیسا کہ امام بیہقی کی کتاب الاسماء والصفات میں ہے۔ت)پھر جبکہ مضاف الیہ مذکور نہیں توامثال مقام میں خود متکلم کی طر ف اس کی اضافت مفہوم ہوتی ہے جیسے ھو الھادی(وہی ہدایت دینے والا ہے۔ت)سے شروع کرنا اس پر دلالت کرتا ہے کہ قائل اپنے لئے ہدایت مانگتا ہے اس تقدیر پر یہ کیا دعاہوئی کہ الٰہی ! قائل کا سرنیچا کردے،الٰہی !اسے پستی میں ڈال دے۔یہ بحث اگرچہ مسئلہ نوٹ سے جدا تھی مگر منکر یا ناپسند یدہ پر اطلاع دینا مناسب ہے وباللہ التوفیق۔

قولہ: نوٹ ہر چند کہ خلقۃً ثمن نہیں مگرعرفًا حکم ثمن میں ہے[5]۔

اقول اولًا: یونہی اکنیاں اور پیسے بھی،پھر اس سے کیا حاصل ہوا۔

ثانیًا:اگر یہ مرد کہ اہل عرف اس کے لئے ثمن کے جملہ احکام شرعیہ ثابت کرتے ہیں تو صریح غلط بلکہ عامہ اہل عرف ان احکام سے آگاہ بھی نہیں بلکہ یہ عرف مومنین و کافرین میں مشترک،اور اگر یہ مقصود کہ ثمن سے جو اغراض اہل عرف متعلق ہیں ان سب میں نوٹ کو اس کا قائم مقام سجھتے ہیں جب بھی غلط۔ثمن کے مقاصد سے ایك عمدہ مقصد لباس میں تزین ظروف وغیرہا میں تجمل ہے،اور نوٹ ہر گز اس میں قائم مقام ثمن نہیں،اور اگر یہ مطلب کہ ثمن کے بعض اغراض یعنی تمول اور حوائج تك اس کے ذریعہ سےتوسل میں نائب مناب جانتےہیں تو ثمن اصطلاحی کے معنی ہی یہ ہیں کہ اہل عرف اپنی اصطلاح سے ان اغراض میں اسے مثل ثمن کام میں لائیں پھر اس سے جملہ احکام شرعیہ ثمن کا ثبوت کیونکرہوگیا کیا ثمن خلقی واصطلاحی میں شرعًا فرق احکام نہیں۔

ثالثًا: حکم شیئ میں ہونا جنس وقدر شیئ میں شیئ سے اتحاد نہیں اور یہاں بتصریح حدیث و جملہ کتب فقہ اسی پر مدار ہے۔

قولہ بلکہ عین ثمن سمجھا جاتا ہے [6]۔

 



[1]       مجموعہ فتاوٰی کتاب الاکل والشرب مطبع یوسفی لکھنوی،انڈیا ۲/۱۱۵

[2]       القاموس المحیط فصل الصاد من باب الباء مصطفی الحلبی مصر ۱ /۹۷

[3]       تاج العروس فصل الصاد من باب الباء داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۳۴۱

[4]       تاج العروس فصل الصاد من باب الباء داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۳۴۱

[5]       مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱/۳۹۷

[6]       مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱ /۳۹۷



Total Pages: 247

Go To