Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

جواب سوال یازدہم

فاقول:(تومیں کہتا ہوں)ہاں نوٹ پر جتنی رقم لکھی ہے اس سے زیادہ یا کم کو جتنے پر رضا مندی ہوجائے اس کا بیچنا جائز ہے اس لئے کہ اوپر معلوم ہوچکا کہ نوٹ کا ان مقداروں سے اندازہ کرنا صرف لوگوں کی اصطلاح سے پیدا ہوا ہے اوربائع و مشتری پر ان کے غیر کی کوئی ولایت نہیں،جیساکہ ہدایہ و فتح القدیر سے گزرا تو ان دونوں کو اختیار ہے کہ کم زیادہ جتنا چاہیں اندازہ مقرر کرلیں جو شخص فکر سلیم رکھتا ہے اس کے نزدیك جواب اتنے ہی سے پورا ہوگیا اور میں نے بارہا اس پر فتوٰی دیا اور اکابر علمائے ہند سے متعدد عالموں کا یہی فتوٰی ہوا جیسے فاضل کامل مولوی محمد ارشاد حسین صاحب رامپوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ

 

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

تصحیح العقد یکفی قرینۃ علی ذٰلك ولایلزم کون ذٰلك ناشیا عن نفس ذات العقد کمن باع درھما ودینا رین بدرھمین ودینار یحمل علی الجواز صرف للجنس الی خلاف الجنس مع ان نفس ذات العقد لاتابی مقابلۃ الجنس بالجنس واحتمال الربا کتحققہ فما الحامل علیہ الا حاجۃ التصحیح وکم لہ من نظیر اھ منہ۔ کرنے کی حاجت اس پر کافی قرینہ ہے اور اس کی خود ذات عقد کی طرف سے ناشئی ہونا کچھ ضرور نہیں جیسے کوئی ایك روپیہ اور دواشرفیاں دو روپوں اور ایك اشرفی کو بیچے تو اسے صورت جواز پر حمل کرینگے جنس کو غیر جنس کی طرف پھیر کر حالانکہ خود ذات عقد میں جنس کے مقابل جنس ہونے سے انکار نہیں اور سود کا شبہ مثل حقیقت کے ہے تو اس پر یہی حاجت تصحیح عقد کا باعث،اور اس کی نظیریں بکثر ت ہیں ۱۲منہ۔

وغیرہ وما خالفنی فیہا الارجل عــــــہ من لکنؤ ممن یعد من الاعیان ویشار الیہ بالبنان ولم اطلع علی خلافہ الابعد موتہ لماطبعت وریقات باسم فتاواہ ولو راجعتہ فی حیاتہ لرجوت ان یرجع لان الرجل کان اذا عرف عرف واذا عرف انصرف فالاٰن ازیدك بیانا بعد بیان لایبقی ان شاء اللہ للحق الا القبول والاذعان۔فاقول اولا: نص علماؤنا قاطبۃ ان علۃ حرمۃ الربا القدر المعہود بکیل ا ووزن مع الجنس فان وجداحرم الفضل والنسأ وان عدما حلاوان وجد احدھما حل الفضل و حرم النسأ وھذہ قاعدۃ غیر منخرمۃ وعلیہا تدورجمیع فروع الباب و معلوم ان لااشتراك فی النوط والدراھم فی جنس ولاقدر اما الجنس فلان ھذا قرطاس و تلك فضۃ وما القدر فلان الدراہم

 وغیرہ اور اس میں میرا خلاف نہ کیا مگر لکھنؤ کے ایك شخص نے جو عمائد سے گنے جاتے اور ان کی طرف انگلیاں اٹھتیں اور مجھے ان کے خلاف پر اطلاع نہ ہوئی مگر ان کی موت کے بعد جبکہ کچھ مختصر ورق ان کے فتاوٰی کے نام سے چھپے اور اگر میں ان کی زندگی میں اس بارے میں ان سے گفتگو کرتا تو امید تھی کہ وہ رجوع کرلیتے کہ ان صاحب کی عادت تھی جب سمجھا ئے جاتے تو سمجھ لیتے اور جب سمجھ لیتے تو واپس آتے اور اب میں تجھے ایضاح کے بعد اور ایضاح زیادہ کروں جو ان شاء اللہ تعالٰی حق کے لئے نہ باقی رکھے سوا قبول و تسلیم کے، فاقول: (تو میں کہتا ہوں)اولًا: ہمارے جمیع علماء رحمہم اللہ تعالی نے تصریح فرمائی کہ حرمت ربا کی علت وہ خاص اندازہ یعنی ناپ یا تول ہے اتحاد جنس کے ساتھ،تو اگر قدر و جنس دونوں پائی جائیں تو بیشی اور ادھار دونوں حرام ہیں،اور اگر وہ دونوں نہ پائی جائیں تو حلال ہیں،اور اگر دونوں میں سے ایك پائی جائے تو بیشی حلال اور ادھار حرام ہے،اور یہ ایك عام قاعدہ ہے جو کہیں منتقض نہیں اور باب ربا کے جمیع مسائل اسی پر دائرہیں اور معلوم ہے کہ نوٹ اور روپوں میں شرکت نہ قدر میں سے نہ جنس میں،جنس میں تو اس لئے نہیں کہ یہ کاغذ ہے اور وہ چاندی اور قدر میں اس لئے نہیں کہ روپے تول کی

 

عــــــہ: یدعی المولوی عبدالحی اللکنوی اھ منہ۔ عــــــہ:جن کو مولوی عبدالحی صاحب کہا جاتا ہے ۱۲منہ

موزونۃ ولا قدر للنوط اصلا لامکیل و لاموزون فیجب ان یحل الفضل والنسأ جمیعا فاذن لیس النوط من الاموال الربویۃ اصلا وسنزیدك تحقیق الامر فی ذٰلك عن قریب ان شاء اللہ تعالٰی۔ وثانیًا: قال فی ردالمحتار وغیرہ کلما حرم الفضل حرم النسأ ولا عکس وکلما حل النسأ حل الفضل ولا عکس [1]اھ وقد اقمنا البرھان القاطع فی جواب التاسع علی حل النسأ ھٰھنا فوجب حل الفضل و انتظرمایأ تی و ثالثًا: ھذاسیدنا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ یقول اذا اختلف ھذہ الاصناف فبیعوا کیف شئتم [2] رواہ مسلم عن عبادۃ بن الصامت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فمن الحاجر بعد اذن رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ورابعًا: ھذہ دلائل واضحۃ لاتخفے حتی علی الصبیان والاٰن اٰتیك بشیئ یکون لك فیہ مجال تکلم بحسب عقلك ثم اکشف الحجاب لابانۃ الصواب،فاقول:ارأیتك ھل لیس من المعلوم عندك چیز ہیں اور نوٹ نہ تول کی نہ ناپ کی،تو واجب ہوا کہ بیشی او رادھار دونوں جائز ہوں،تو ظاہر ہوا کہ نوٹ سرے سے مال ربا ہی سے نہیں اور ہم ان شاء اللہ تعالٰی عنقریب زیادہ تحقیق بیان کریں گے،ثانیًا:ردالمحتاروغیرہ میں فرمایا جہاں بیشی حرام ہوتی ہے ادھار بھی حرام ہے اور اس کا عکس نہیں اھ،اورجہاں ادھار حلال ہو بیشی بھی حلال ہوتی ہےاوراس کاعکس نہیں انتہی اورہم جواب سوال نہم میں دلیل قطعی قائم کرچکےہیں کہ نوٹ میں ادھار جائزہے تو واجب ہوا کہ بیشی بھی حلال ہو اور آئندہ تقریر کے منتظر رہو_____ثالثًا: یہ ہیں ہمارے سردار رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کہ فرما رہے ہیں جب جنس مختلف ہو تو جیسے چاہو بیچو یہ حدیث صحیح مسلم میں عبادہ بن صامت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ہے تو رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اجازت کے بعد منع کرنے والا کون ہے،رابعًا یہ تو ایسی روشن دلیلیں ہیں کہ بچے پر بھی مخفی نہ رہیں اور اب میں تجھ سے ایك ایسی چیز بیان کروں جس میں تجھے اپنی عقل کے لائق کچھ کلام کی گنجائش ہو پھر اظہار صواب کےلئے اس کا پردہ کھولوں،فاقول:(تو میں کہتا ہوں)بھلا بتا تو کیا تجھے اور ہر ذی عقل کو معلوم

وعند کل من لہ عقل ان المال الذی یکون فی السعر العام المعروف المجمع علیہ من الناس بعشرۃ دراہم یجوز لکل احد ان یبیعہ برضا المشتری بمائۃ او یعطیہ بفلس واحد ولاحجر فی شیئ من ذلك عن الشرع المطہر قال تعالٰی

" اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ- "[3]،وقد قال فی الفتح کما تقدم ان لوباع کاغذۃ بالف یجوز ولا یکرہ [4] وکل احد یعلم ان قطعۃ قرطاس لا تبلغ قیمتہ الفا ولا مائۃ ولا درھما واحدا قط فما ذلك الا لان القیمۃ والثمن متغایران ولا یجب علیہما التقید بھا فیما ثامنا بل لھما ان یقدر الثمن باضعاف القیمۃ او بجز ء من مائۃ جزء لھا،

 



[1]     ردالمحتار کتاب البیوع باب الربوٰ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۸۰۔۱۷۹

[2]      صحیح مسلم کتاب البیوع باب الربوٰ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۵

[3]        القرآن الکریم ۴ /۲۹          

[4]        فتح القدیر کتاب الکفالۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۳۲۴



Total Pages: 247

Go To