Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

وفیہ خلاف محمد لمنعہ بیع الفلس بالفلسین الا ان ظاہر الروایۃ عنہ کقولھا وبیان الفرق فی النھر وغیرہ اھ [1] فکان النھر انما ابداہ تاویلا لفتوٰی قاری الھدایۃ حتی یحصل لہ مستند ولو فی النوادر ولم یرد بہ تعویلا علیہ،وفی الھدایۃ وکذا فی الفلوس عددا وقیل ھذا عند ابی حنیفۃ و ابی یوسف رحمہما اللہ تعالٰی وعند محمد لا یجوز لانھا اثمان ولھما ان الثمنیۃ فی حقھما باصطلاحھما فتبطل باصطلاحھما [2]۔قال فی الفتح ای یجوز السلم فی الفلوس عددا ھکذا ذکرہ محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی فی الجامع من غیر ذکر خلاف فکان ھذا ظاہر الروایۃ عنہ و قیل بل ھذا قول ابی حنیفۃ وابی یوسف اما عندہ فلا یجوز بدلیل منعہ ببیع الفلس بالفلسین فی باب الربٰو لانھا اثمان واذا کانت اثما نالم یجز السلم فیہا لکن ظاہر الروایۃ

 بعض نے کہا کہ اس مسئلہ میں امام محمد کا خلاف ہے اس لئے کہ وہ دو پیسوں کو ایك پیسہ بیچنا منع فرماتے ہیں مگر روایت مشہورہ ان سے بھی مثل قول امام اعظم اور ابویوسف کے ہے اور فرق کا بیان نہر وغیرہ میں ہے انتہی تو گویا نہر نے یہ بات فتوٰی قار ی الہدایہ کی تاویل کے لئے ظاہر کی تاکہ اس کے لئے کوئی سند ہوجائے اگرچہ نو ادر میں اور اس سے اس پر اعتماد کرنا نہ چاہا،اور ہدایہ میں ہے یونہی پیسوں میں بدلی جائز ہے ان کی گنتی مقرر کرکے،اور کہا گیا کہ یہ امام اعطم اور امام ابویوسف کے نزدیك ہے اور امام محمد کے نزدیك جائز نہیں اس لئے کہ پیسے ثمن ہیں اور شیخین کی دلیل یہ ہے کہ ثمن ہونا بائع و مشتری کے حق میں ان کی اصطلاح کی بناء پر ہے تو ان کی اصطلاح سے باطل بھی ہوجائے گا،فتح القدیر میں فرمایا پیسوں میں گنتی سے بدلی جائز ہے،اسی طرح امام محمدنے جامع میں ذکر فرمایااور کسی خلاف کا نام نہ لیا،تو یہی امام محمد سے روایت مشہورہ ہوئی،اور بعض نے کہا یہ قول شیخین کا ہے امام محمد کے نزدیك جائز نہیں اس دلیل سے کہ وہ دو پیسوں کو ایك پیسہ سے بیچنا منع فرماتے ہیں کہ وہ ثمن ہیں اور جب وہ ثمن ہوئے تو ان میں بدلی جائز نہ ہوئی مگر روایت مشہورہ میں

عنہ الجواز و الفرق لہ بین البیع و السلم ان من ضرورۃ السلم کون المسلم فیہ مثمنا فاذا اقدما علی السلم فقد تضمن ابطالھما اصطلاحھما علی الثمنیۃ ویصح السلم فیہا علی الوجہ الذی یتعامل فیہا بہ وھو العد بخلاف البیع فانہ یجوز ورودہ علی الثمن فلا موجب لخروجھا فیہ عن الثمنیۃ فلایجوز التفاضل فامتنع بیع الفلس بالفلسین [3]اھ اقول:لکن فی الفرق نظر فان محمدا لایقول بخروجھاعن الثمنیۃ بمجرد قصد العاقدین مع اتفاق سائر الناس علیہا قال فی الھدایۃ یجوز بیع الفلس بالفلسین باعیا نھما عند ابی حنیفۃ وابی یوسف رحمھما اللہ تعالٰی وقال محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی لایجوز لان الثمنیۃ تثبت باصطلاح الکل فلا تبطل باصطلاحھما واذا بقیت اثمانا لا تتعین فصارکما اذا کانا بغیر اعیانھما وکبیع الدرھم بالدرھمین ولھما ان الثمنیۃ فی حقھما تثبت باصطلاحھما [4]الٰی امام محمد سے بھی جوا ز ہے اور بیع اور بدلی میں وہ یہ فرق کرتے ہیں کہ بدلی میں تویہ امر ضرور ہے کہ جو چیز وعدہ پر لینی ٹھہرے وہ ثمن نہ ہو تو جب انہوں نے پیسوں کی بدلی پر اقدام کیا تو ضمنًا ان کی اصطلاح ثمنیت کو باطل کردیا اور ان کی بدلی اسی طور پر جائز ہے جس طرح ان میں معاملہ کیا جاتا ہے یعنی گن کر بخلاف بیع کہ وہ ثمن پر بھی وارد ہوسکتی ہے تو بیع میں ان کو ثمنیت سے خارج کرنے کا کوئی موجب نہیں تو کمی بیشی جائز نہ ہوئی اور ایك پیسہ کی دو پیسے سے بیع منع ٹھہری انتہی۔

اقول:(میں کہتا ہوں)مگر اس فرق میں اعتراض ہے اس لئےکہ امام محمد اس کےقائل ہی نہیں کہ صرف عاقدین کے ارادہ سے وہ ثمنیت سے خارج ہوجائیں حالانکہ باقی تمام لوگ اس کے ثمن ہونے پر متفق ہیں ہدایہ میں فرمایا کہ امام اعظم و امام ابویوسف کے نزدیك ایك پیسہ دو پیسے معین کو بیچنا جائز ہے اور امام محمد رحمہ اللہ نے فرمایا جائز نہیں اس لئے ان کا ثمن ہونا سب لوگوں کی اصطلاح سے ثابت

اخر ماتقدم و قد اقرہ المحقق فی الفتح وقررہ علی ھذا النھج فکیف یقول محمد ھھنا ان اقدامھما علی السلم ابطال منھما لاصطلاح الثمنیۃ الاان یقال ان ھذا رجوع عن التعلیل الاول ولم یکن عن نص محمد وانما ابداہ المشایخ وظہر الاٰن بھذاالفرق ان الوجہ لمحمد لم یکن ذٰلك بل ھو ایضا قائل بان لھما ابطال الاصطلاح فی حقھما ولکن اذا ثبت ھذا عنھما وقد ثبت فی السلم لان المسلم فیہ لایکون ثمنا قط فاقد امھما علی جعلھا مسلما فیہا دلیل علی الابطال ولم یثبت فی البیع اذلیس من ضرورتہ ان لایکون المبیع ثمنا فلم یثبت منھما ابطال البیوع وھذا التقریر علی ھذاالوجہ ربما یمیل الٰی ترجیح قول محمد فی البیع فافھم عــــــہ واللہ تعالٰی اعلم۔

ہو ا تھا تو صرف ان دو کی اصطلاح سے باطل نہ ہوجائےگا اور جبکہ وہ ثمنیت پر باقی رہے تو متعین نہ ہوں گے تو یہ ایسا ہی ہوگیا جیسے ایك پیسہ دو پیسے غیر معین کو بیچ لیا اور جیسے ایك معین روپیہ دو معین روپے کو بیچ لیا اور شیخین کی دلیل یہ ہے کہ ثمنیت عاقدین کے حق میں ان کی اصطلاح سے ثابت ہوتی ہے آخر تقریر گزشتہ تك اور بیشك محقق نے اسے فتح القدیر میں مقرر رکھا اور اسی طور پر اس کی تقریر کی تو امام محمد یہاں کس طرح فرمائیں گے کہ عاقدین کا ان کی بدلی پراقدام کرناان کی اصطلاح ثمنیت کو باطل مان لینا ہے مگر یہ کہا جائے کہ یہ پہلی تعلیل سے رجوع ہے اور وہ تعلیل خود امام محمد سے منقول نہ تھی مشائخ نے پیدا کی تھی اور اب اس فرق سے ظاہر ہو ا کہ امام محمد کے نزدیك وجہ وہ نہ تھی بلکہ وہ بھی اسی کے قائل ہیں کہ عاقدین کو اپنے حق میں ثمنیت باطل کرنے کا اختیار ہے مگر یہ جب ہےکہ عاقدین سے ابطال ثمنیت کا ارادہ ثابت ہوجائے اور وہ بدلی میں ضرور ثابت ہوگیا اس لئےکہ اس میں جو چیز وعدہ پر لینی ٹھہرے وہ کبھی ثمن نہیں ہوسکتی تو پیسوں میں بدلی پر ان کا اقدام ان کی ثمنیت باطل کرنے کی دلیل ہے اور بیع میں ان کا یہ ارادہ ثابت نہ ہوا کہ اس میں بیع کا ثمن نہ ہونا کچھ ضرور نہیں تو عاقدین سے ابطال اصطلاح ثابت نہ ہوا تو پیسے بحال خود ثمن رہے تو متعین نہ ہوئے تو بیع باطل ہوئی،اور یہ تقریر اس طرز پر کبھی اس طرف جھکے گی کہ مسئلہ بیع میں امام محمد کے قول کو ترجیح دی جائے،تو غور کرو،واللہ تعالٰی اعلم۔

 

عــــــہ: یشیر الی الجواب بان الحاجۃ الی یہ اس جواب کی طرف اشارہ ہے کہ عقد صحیح(باقی برصفحہ آئندہ)

واما الحادی عشر

فاقول: نعم یجوز بیعہ بازید من رقمہ بانقص منہ کیفما تراضیا لم علمت ان تقدیر ھا بھذا المقادیر انما حدث باصطلاح الناس وھما لاولایۃ للغیر علیہما کما تقدم عن الھدایۃ والفتح فلھما ان یقدرا بما شاءا من نقص وزیادۃ وقد تم الجواب بھذا القدر عند کل من لہ سلامۃ الفکر وقد افتیت بہ مرارا و افتی علیہ ناس من کبار علماء الھند کا لفاضل الکامل محمد ارشا د حسین الرامفوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی

 



[1]          ردالمحتار کتاب البیوع باب السلم داراحیا ء التراث العربی بیروت ۴ /۲۰۳

[2]          الہدایہ کتاب البیوع باب السلم مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۹۴

[3]     فتح القدیر کتاب البیوع باب السلم مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۹۔۲۰۸

[4]    الہدایۃ کتاب البیوع باب الربوٰ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۸۳



Total Pages: 247

Go To