Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

یعنی اس طریقے سے جو انہوں نے ذکر کیا اور اگر صرف کی طرف پھیر وتو تمہیں معلوم ہوچکا جو اس میں نرا ضعف ہے ۱۲ منہ۔

وما تجشم لہ الشامی فقد علمت حالہ فکیف یعارض بہ ماتطابقت علیہ کلمات اولٰئك الاجلۃ الکرام الذین قصصتھم علیك وامامھم فیہا نص محمد فی الاصل فہو القول۔ثم اقول: علاان ما ذکر العلامۃ قاری الھدایۃ ذھولین صریحین عن مسائل المذہب ۱ذھول عما نص علیہ علماؤنا ان الفلوس بالاصطلاح خرجت عن الوزنیۃ الی العددیۃ و ۲ذھول عما نصّوا لییہ ان ثمنیتھا تبطل باصطلاح العاقدین وان بطلانھا لایبطل الاصطلاح علی العددیۃ، وکل ذٰلك منصوص علیہ فی الھدایۃ وغیرہ وھذا نصھا ولھما ان الثمنیۃ فی حقھما تثبت باصطلاحھما واذا بطلت الثمنیۃ تتعین بالتعیین ولا یعود وزنیا لبقاء الاصطلاح علی العدّ [1]اھ وسنلقی علیك ان محمدا ایضا سلم فی السلم بطلان الثمنیۃ وانما انکرہ فی البیع لعدم الدلیل

 اور وہ جو انکے لئے علامہ شامی نے تکلف کیا اس کا حال معلوم ہوچکا تو اس سے کیونکر معارضہ ہوسکتا ہے اس حکم کا جس پر ان اکابر کرام کے کلمات متفق ہیں جن کے اسماء گرامی اوپر مذکور ہوئے اور اس میں ان کا امام مبسوط میں امام محمد کا نص ہے تووہی قول فیصل ہے۔ثم اقول:(پھرمیں کہتاہوں) علاوہ بریں وہ جو امام قاری الہدایہ نے ذکر کیا اس میں مسائل مذہب سے صاف دو۲ ذہول ہیں ۱ ایك ذہول تو اس سے جو ہمارے علماء نے تصریح فرمائی کہ پیسے اصطلاح کے سبب وزن کی چیز ہونے سے خارج ہوکر گنتی کی چیز ہوگئے،اور ۲دوسرا ذہول اس سے جو علماء نے نص فرمایا کہ پیسوں کا ثمن ہونا بائع و مشتری کی اپنی اصطلاح سے باطل ہو جاتا ہے اور ثمنیت کے بطلان سے وہ اصطلاح جو ٹھہری ہوئی ہے کہ پیسے گنتی کی چیز ہیں باطل نہیں ہوتی،ان تمام باتوں کی ہدایہ وغیرہ میں تصریح ہے،ہدایہ کی عبارت یہ ہے امام اعظم اور امام ابویوسف کی دلیل یہ ہے کہ ثمنیت بائع و مشتری کے حق میں ان کی اصطلاح سے ثابت ہوتی ہے اس لئے کہ اوروں کو ان پر کچھ ولایت نہیں تو وہ اپنی اصطلاح میں اسے باطل بھی کرسکتے ہیں اور جب ثمن ہونا باطل ہوگیا تو معین کئے سے معین ہوجائیں گے اور اس سے تول کی چیز نہ ہوجائیں گے کہ گنتی پر اصطلاح باقی ہے اھ اور عنقریب ہم تمہیں

فھو مجمع علیہ بین ائمتنا فاذن اسلام احد النقدین فی الفلوس لیس سلما فی ثمن ولا اسلام موزون فی موزون بلا موزون فی عددی متقارب مثمن ولا باس بہ باجماع علمائنا رحمھم اللہ تعالٰی، وبالجملۃ فالعبد الضعیف لایعلم لہذہ الفتوی وجہ صحۃ اصلا تأمل لعل لکلامہ وجھا لست احصلہ بفھمی السخیف ولعلی انا الاولٰی بالخطأ من ھذا العلامۃ العریف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی ،ثم اقول: ولئن سلمنا فلنا ان نقول ماذکر انما یتمشی فی الفلوس اما النوط فلیس بموزون اصلا فان الورقات لا توزن عرفا قط فلم یشملھا المعیار کحفنۃ من حب وذرۃ من ذھب فمسئلتنا ھذہ سالمۃ عن الخلاف علی کل حال و الحمد ﷲ ذی الجلال ھکذا ینبغی التحقیق واللہ ولی التوفیق۔

بتائیں گے کہ امام محمد نے بھی سلم میں بطلان ثمنیت تسلیم فرمالیا ہے ہاں بیع میں دلیل نہ ہونے کے سبب اس کا انکار کیا ہے تو اس پر ہمارے سب اماموں کا اجماع ہے تو اس حالت میں روپے یا اشرفی سے پیسوں کی بدلی کرنا ثمن کی بدلی نہیں اور نہ باہم تول کی دو چیزوں میں بدلی بلکہ تول کی چیز کے عوض ایك متاع عددی کی بدلی ہے جس کے افراد باہم مشابہ ہیں اور ہمارے علماء رحمہم اللہ تعالٰی کا اجماع ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں،الحاصل بندہ ضعیف اس فتوٰی کے لئے اصلًا کوئی وجہ صحت نہیں جانتا،تأمل کر،شائدان کے کلام کے لئے کوئی ایسی وجہ ہو کہ میں اپنی فہم سست سے اسے نہیں سمجھتا اور کیا عجب کہ بہ نسبت ان علامہ کثیر المعرفۃ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی کے میں ہی غلطی سے زیادہ قریب ہوں۔ثم اقول:(تو میں کہتا ہوں) اگر تسلیم بھی کرلیں تو ہمیں اس کہنے کا اختیار ہے کہ وہ جو علامہ نے ذکر فرمایا وہ پیسوں ہی میں جاری ہوتا ہے اور نوٹ تو اصلًا وزن کی چیز نہیں اس لئے کہ کاغذ کے پرچے عرف میں کبھی تو لے نہیں جاتے تو معیار انہیں شامل نہ ہوئی جیسےغلہ سے ایك ہتھیلی بھر اور سونے سے ایك ذرہ،تو ہمارا یہ مسئلہ بہر حال مخالفت سے محفوظ ہے اور حمداللہ کے لئے جو بزرگی والا ہے ایسی ہی تحقیق ہونی چاہئے اور توفیق کا مالك اللہ ہے۔ 

واما العاشر

فاقول: نعم یجوز السلم فی النوط و قد یقال لایجوز فانہ ثمن و لاسلم فی الاثمان کما تقدم عن النھر والتحقیق ان ھذا انما یبتنی علی روایۃ نادرۃ عن محمد والا فالمنصوص علیہ فی المتون جواز السلم فی الفلوس وانما لا یجوز فی الاثمان الخلقیۃ وھی النقدان لا غیر لعدم قدرۃ العاقدین علی ابطال ثمنیتھما بخلاف الاثمان الاصطلاحیۃ قال فی التنویر و الدر(یصح ای السلم فیما امکن ضبط صفتہ) کجودتہ و ردائتہ(ومعرفۃ قدرہ کمکیل و موزون و) خرج بقولہ(مثمن)الدراہم و الدنانیر لانھما اثمان فلم یجز فیہا السلم خلافا لمالك (وعددی متقارب کجوز و بیض وفلس [2] الخ۔قال ابن عابدین قولہ وفلس الاولٰی وفلوس لانہ مفرد لا اسم جنس،قیل

 جواب سوال دہم

فاقول:(تو میں کہتا ہوں)ہاں نوٹ میں بدلی جائز ہے اور کبھی کہا جاتا ہے کہ جائز نہ ہو اس لئے کہ نوٹ ثمن ہے اور ثمن میں بدلی جائز نہیں جیسا کہ نہر سے گزرا،اور تحقیق یہ ہے کہ یہ قول صرف ایك روایت نادرہ پر مبنی ہے جو امام محمد سے آئی ورنہ متون میں تو یہ نص ہے کہ پیسوں میں بدلی جائز ہے ہاں جو ثمن ہونے کے لئے پیدا کئے گئے ان میں جائز نہیں اور وہ صرف چاندی سونا ہے وبس،اس لئے کہ بائع ومشتری ان کی ثمنیت باطل کرنے پر قدر ت نہیں رکھتے بخلاف ان چیزوں کے جو اصطلاحًا ثمن قرار پائی ہیں۔تنویر الابصار اور درمختار میں فرمایا سلم جائز ہے ہر اس چیز میں جس کی صفت کا انضباط ہوسکے جیسے اس کا کھرا اور کھوٹا ہوناا ور اس کا اندازہ پہچان سکیں جیسے ناپ اور تول کی چیز،اور یہ جو مصنف نے فرمایا کہ وہ چیز ثمن نہ ہو اس سے روپے اور اشرفی نکل گئے اس لئے کہ وہ ثمن ہیں تو ان میں بدلی جائز نہیں امام مالك کا اس میں خلاف ہے یا گنتی سے بکنے کی چیز ہو تو ایسی ہو کہ اس کے افراد باہم قریب قریب ہوتے ہوں جیسے اخروٹ اور انڈے اور پیسے الخ۔علامہ شامی نے فرمایا کہ مصنف نے جو پیسہ کہا اولٰی یہ ہے کہ پیسے کہیں اس لئے کہ فلس واحد کا صیغہ ہے،اسم جنس نہیں،

 

 

 



[1]        الہدایہ کتاب البیوع باب الربوٰ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۸۳

[2]      الدرالمختار شرح تنویر الابصار کتاب البیوع باب السلم مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۷



Total Pages: 247

Go To