Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

عــــــہ۲:لکونہ دلیلا علی الحکم الذی افتی عــــــہ۱:واجب تو جب کرتی کہ ادھار نہ ہونے کو دونوں طرف معین ہونا لازم ہوتا اور ایسا نہیں بلکہ کبھی دونوں باتیں معدوم ہوتی ہیں کہ نہ ادھار ہو نہ دونوں جانب عین جیسے مثال مذکور میں ۱۲منہ۔ عــــــہ۲:کہ وہ اس حکم پر دلیل ہوتا جس کا انہوں نے (باقی برصفحہ آئندہ)

قول الکنز " وحلا بعد مھما" ای الفضل والنسأ عند انعدام القدر و الجنس فیجوز بیع ثوب ھروی بمر وییین نسیئۃً والجوز بالبیض نسیئۃ [1]،و قال تحت قولہ " یعتبر التعیین دون التقابض فی غیر الصرف من الربویات"جب دونوں نہ ہوں تو دونوں حلال ہیں بحرالرائق میں فرمایا یعنی جب قدر و جنس دونوں نہ ہوں تو زیادتی اور ادھار دونوں حلال ہیں تو ہرات کے بنے ہوئے ایك کپڑے کو مرو کے بنے ہوئے دو کپڑوں کے عوض ادھار بیچنا جائز ہے اور انڈوں کے عوض اخروٹ ادھار بیچنا اور کنز نے جو فرمایا کہ سوا صورت صرف کے اموال ربا میں تعین معتبر ہے نہ کہ قبضہ طرفین اس 

 

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

بہ وھو عدم الجواز وان جاء من قبل الصرفیۃ دون السلمیہ و من ھذاالباب مافی الھندیۃ عن المحیط حیث ذکر مسائل شراء المستقرض الکرالقرض من المقرض بمائۃ وانہ یجوز اذا شری مافی ذمتہ و نقد الثمن فی المجلس والا لا لافترا قھما عن دین بدین ثم قال کذٰلك الجواب فی کل مکیل و موزون غیر الدراہم والفلوس اذاکان قرضا [2]اھ۔فجعل الفلوس ما لا یجوز شراؤہ دینا فی الذمۃ بثمن مفقود کما فی الحجرین والصحیح ماقدمنا عن الھندیۃ فتوٰی دیا یعنی ناجائز ہونا اگرچہ یہاں صرف کے سبب ہوا نہ کہ سلم کی جہت سے،اور اسی باب سے ہے جو ہندیہ میں محیط سے ہے ولہٰذا جہاں انہوں نے اس کے مسائل ذکر کئے ہیں کہ غلہ قرض لینے والا اس قرض غلہ کو قرض دینے والے سے سوروپے کو مول لے اور یہ وہ جائز ہے جبکہ وہ غلہ خرید لے جو اس کے ذمہ پر لازم ہوا ہے(نہ بعینہ وہ غلہ جو غلہ قرض آیا ہے)اور قیمت اسی جلسے میں ادا کردی ہو ورنہ حرام ہوگا کہ دونوں طرف ادھار چھوڑکر جداہوگئے پھر فرمایا ہر ناپ تول کی چیز میں یہ حکم ہے سوائے روپے اشرفی پیسوں کے جب وہ قرض ہوں انتہی،تو پیسوں کو بھی روپوں، اشرفیوں کی طرف انہیں چیزوں میں سے قرار دیا کہ جب وہ ذمہ پر قرض ہوں تو ان کا خریدنا ناجائز ہے۔(باقی اگلے صفحہ پر)

بیانہ ماذکرہ الاسبیجابی بقولہ واذا تبایعا کیلیا بکیلی او وزنیا بوزنی کلاھما من جنس واحد او من جنسین مختلفین فان البیع لایجوز حتی یکون کلاھما عینا اضیف الیہ العقد وھو حاضر او غائب بعد ان یکون موجودا فی مبلکہ [3] الخ وانما عللوا وجوبھا فی فلس بفلسین بان لو باع فلسا بعینہ بفلسین بغیر عینھما امسك البائع الفلس المعین وطالبہ بفلس اٰخر او سلم الفلس المعین وقبضہ بعینہ منہ مع فلس اٰخر لاستحقاقہ فلسین فی کے نیچے بحر نے فرمایا بیان اس کاوہ ہے جوامام اسبیجابی نے اپنے اس قول میں ذکر کیا کہ جب ناپ کی چیز ناپ کی چیز سے یا تول کی چیز تول کی چیز سے بیچی خواہ دونوں ایك جنس کی ہوں یا دو جنس مختلف تو بیع جائز نہ ہوگی مگر اس شرط سے کہ وہ دونوں ایك معین چیز ہوں جس پر عقد وارد کیا گیا خواہ وہیں حاضر ہوں یا غائب،ہاں اس کی ملك میں موجود ہونا چاہئے الخ پیسوں کی باہم بیع میں جو عینیت کو واجب کیا اس کی یہی دلیل بیان فرماتے ہیں کہ اگر ایك پیسہ معین دو پیسے غیر معین کے عوض بیچے گا تو بائع کو اختیا ہوگا کہ وہ معین پیسہ رکھ چھوڑے اور مشتری سے ایك پیسہ اور مانگے یا وہ معین پیسہ مشتری کو دےکر پھر وہی پیسہ مع ایك اور پیسےکے اس سے واپس لےکیونکہ مشتری 

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

عن الذخیرۃ ان المنع فی غیر الصرف مختص بما اذا لم یقبض شیئ من البدلین قبضًا حقیقیا وان قبض حکما اما اذا قبض احدھما حقیقۃً جاز و مثلہ فی ردالمحتار عن الوجیز و بالجملۃ جعلہ صرفا صرف لہ عما نص علیہ عامۃ الاصحاب فی غیرما کتاب،واللہ تعالٰی اعلم۔

اگرچہ قیمت اسی جلسے میں ادا ہوجائے اور صحیح وہ ہے جو ہم بحوالہ ہندیہ ذخیرہ سے نقل کرچکے کہ ماسوا صرف میں منع صرف یہ ہے کہ دونوں طرف میں سے کسی پر حقیقۃً قبضہ نہ کریں اگرچہ ایك پر قبضہ حکمی ہو(جیسے ذمہ پر کا قرض کہ حکمًا مقبوض ہے)مگر جب ایك پر قبضہ ہوجائے تو جائز ہے اور ایسا ہی ردالمحتار میں وجیز سے ہے غرض یہ کہ اسے صرف ٹھہرانا اس سے پھیرنا ہے جس پر ہمارے عام علماء نے متعدد کتابوں میں نص فرمایا واللہ تعالٰی اعلم۔ 

ذمتہ فیرجع الیہ عین مالہ و یبقی الفلس الاٰخر خالیا عن العوض وکذا لوباع فلسین باعیانھما بفلس بغیر عینہ قبض المشتری الفلسین و دفع الیہ احدھما مکان ما استوجب علیہ فیبقی الاٰخر فضلا بلا عوض استحق بعقد البیع کما فی الفتح [4] و نحوہ فی العنایۃ وغیرہا وھذہ العلۃ لا جریان لھا فی الدراھم بالفلوس نسیئۃ کمالایخفی فضلا من النوط بالدراہم فعبارۃ قارئ الھدایۃ احسن محمل لھا ماذکر فی النھر ویکون اذن مبنیا علی روایۃ نادرۃ عن محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کما سیأتی و ان لم یسلم فھی فتوی من دون سند ولاتعلم عــــــہ لہ سلفا فیہا وھو لم یستند لنقل

کے ذمہ پر اس کے دو پیسے آتے ہیں تو بائع کا اپنا مال تو اس کی طرف بعینہ لوٹ آیا اور دوسرا پیسہ بلا معاوضہ رہ گیا اور یونہی اگر دو معین پیسے ایك غیر معین پیسہ کو بیچے تو مشتری دونوں پیسے لے لے گا اور اس کے ذمہ جو ایك پیسہ لازم ہوا ہےاس کی ادا کو انہیں میں سے ایك پیسہ بائع کو پھیردے گا تو دوسرا پیسہ زائد رہ گیا بے ایسے معاوضہ کے جس کا استحقاق عقد بیع سے ہوا ہو جیسا کہ فتح القدیر میں ہے اور اس کے مثل عنایہ وغیرہ میں ہے اور ادھار پیسوں کے بدلے روپیہ بیچنے میں یہ علت جاری نہیں ہوسکتی جیسا کہ پوشیدہ نہیں،نہ کہ روپوں کے بدلے نوٹ بیچنے میں،تو عبارت قاری الہدایہ کا سب سے بہتر محمل وہ ہے جو نہر میں ذکر کیا اور اس وقت وہ ایك روایت نادرہ پر مبنی ہوگی جو امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے آئی اگر یہ نہ مانیں تو وہ علامہ کا ایك فتوٰی ہے جس کے ساتھ کوئی سند نہیں اور نہ اس میں ان سے پہلے ان کا کوئی مستند معلوم نہ وہ اس پر کسی نقل سے سند لائے  

عــــــہ: ای بالوجہ الذی ذکر وان صرف الی الصرف فقد علمت مالہ من الضعف الصرف اھ منہ۔

 



[1]     بحر الرائق کتاب البیوع باب الربوٰ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶/۱۲۹

[2]      فتاوٰی ہندیۃ الباب التاسع عشر فی القرض الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۲۰۵

[3]     بحرالرائق کتاب البیوع باب الربا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ /۱۳۰

[4]       فتح القدیر کتاب البیوع باب الربا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۱۶۲



Total Pages: 247

Go To