Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

فی الدرالمختار ای بیع الفضولی قبول الاجازۃ من المالك اذا کان البائع والمشتری والمبیع قائما وکذا الثمن لوکان عرضا وغیر العرض ملك للمجیز امانۃ فی ید الفضولی ملتقی،وان اخذ المالك الثمن اوطلبہ من المشتری یکون اجازۃ،عمادیۃ،وقولہ اسأت نہر بئس ماصنعت اواحسنت اواصبت علی المختار،فتح، وھبۃ الثمن من المشتری والتصدیق علیہ بہ اجازۃ [1] اھ ملخصا

درمختار میں اور فضولی کی بیع کاحکم مالك کی اجازت کو قبول کرنا ہے جبکہ بائع،مشتری اور مبیع قائم ہو اور اسی طرح ثمن بھی جبکہ بصورت سامان ہوں اور ثمن سامان نہ ہو ں تو وہ مالك مجیز کی ملك ہیں اور فضولی کے قبضہ میں بطور امانت ہیں، ملتقی،اگر مالك ثمن وصول کرے یا مشتری سے ثمن طلب کرے تو یہ اجازت ہے،عمادیہ،اور مالك کا یہ کہنا کہ تو نے بُر اکیا،نہر،یا جو تونے کیا برا ہے یاتو نے اچھا کیایا تونے درست کیا قول مختار کے مطابق،فتح القدیر،اور مشتری کو ثمن ہبہ کر دینا یا اس پر صدقہ کردینا اجازت ہے اھ تلخیص(ت)

اور اگر قبل از دعوٰی کوئی قول یا فعل اس سے صادر نہ ہوا بلکہ بیع کی خبر بھی نہ ہوئی یا سن کر چپ رہا اور کچھ نہ کہا تو دعوٰی اس کا مسموع اور اسے اختیار استرداد حاصل کہ خبر بیع سن کر مالك کا خاموش رہنا شرعا اجازت نہیں۔

فی الفتاوی الھندیۃ بلغ المالك ان فضولیا باع مبلکہ فسکت لایکون اجازۃ [2] اھ۔

فتاوٰی ہندیہ میں مالك کو خبر پہنچی کہ فضولی نے تیری مملوك چیز فروخت کردی اور وہ خاموش رہا تو یہ اجازت نہ ہوگی اھ (ت)

اس صورت میں مشتری پر لازم ہے کہ مثل حصہ نابالغان یاد علی کا حصہ بھی یعنی چہارم جائداد کے چالیس سہام سے چودہ سہم یاد علی کو واپس کردے اور ثمن اس حصہ کا کہ(معہ)روپے ہے اس کی زوجہ سے وصول کرلے،رہا یہ کہ درصورت اولٰی بعد واپسی صرف نابالغان ودرصورت ثانیہ پس از ردہردوسہم یادعلی ونابالغان جو باقی بچے اس کا کیا حکم ہے اس کی نسبت بوجہ اس بات کے کہ مبیع ذوات القیم سے اور استحقاق نسبت یادعلی بعد قبض کل واقع ہوا مشتری کو اختیار ہے خواہ عوض باقی زر ثمن کے کہ پہلی تقدیر پر(لعہ عہ /۱۲)ہے اور دوسری تقدیر پر(لعہ للعہ /۱۲)ہے اپنے پاس رکھے یا کل مبیع سب بالغوں کو واپس کردے اوراپنے پورے آٹھ سو ان سے وصول کرلے،والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۲۶: ۱۷ جمادی الاولٰی ۱۳۰۳ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك گاؤں میں تین شریك ہیں زید اور خالد اور زید کا بیٹا عمرو،عمرو پر کچہری انگریزی سے ایك معاملہ میں ہندہ کی بقدر آٹھ سو روپیہ کی ڈگری ہوئی ہندہ نے جائداد عمرو نیلام پر چڑھائی کچہری انگریزی سے پانچ بسوہ عمرو کے بتفریق اس طرح نیلام ہوئے کہ ۲۷ رمضان ۱۳۰۱ مطابق ۲۱ جولائی ۱۸۸۴ ء و ۱۳ ساون ۱۲۹۲ فصلی کو تین بسوہ پھر یك صفر ۱۳۰۲ھ مطابق ۲۰ نومبر ۸۴ء و ۷ا اگہن(مگھر)۹۲ فصلی کو ایك بسوہ پرھ ۴ جمادی الاولی ۱۳۰۲ھ مطابق ۲۰ فروری ۱۸۸۵ء و ۲۱ پھاگن ۱۲۹۲ فصلی کو ایك بسوہ اور یہ سب نیلام خود ہندہ ڈگری دار نے خرید لئے،بعدہ،ہفتم رجب ۱۳۰۲ھ مطابق ۲۳ اپریل ۱۸۸۵ء و ۲۴ بیساکھ ۱۲۹۲ فصلی کو ہندہ نے یہ کل جائداد یعنی پانچوں بسوئے بنام خالد شریك سوم بیع کردئے،خالد نے باحتیاط بحکم شرع اصل مالك یعنی عمرو سے اپنے نام جو انتقال ہوا اس کی اجازت چاہی عمرو نے بخوشی اجازت دی پھر مزید وثوق کے لئے ۱۶ جمادی الاولٰی ۱۳۰۳ ھ مطابق ۲۱ فروری ۱۸۸۶ء و ۳ پھاگن ۱۲۹۳ فصلی کو عمرو مذکور نے ایك دستاویز بدیں مضمون لکھ دی کہ یہ پانچوں بسوہ جو ہندہ مشتریہ نیلام نے بدست خالد بیع کئے میں نے یہ انتقال بخوشی جائز رکھا اور زرثمن خالد کو معاف کیا اور روز نیلام سے کہ ابتدائے زراعت خریف ۱۲۹۲ فصلی تھی ربیع ۱۲۹۲ تك جس قدر توفیر ان پانچوں بسوں کے ہوئی اس کی نسبت صریحا لکھ دیا کہ وہ توفیران پانچوں بسووں کے میں نے خالد مذکور کو اس شرط پر کہ موہوب لہ میرے حق رجوع کے عوض مجھے دس من خادم گندم دے ہبہ کئے خالد اس توفیر کو قبض ووصول کرے اور میں نے گندم مذکور کو خالد سے وصول پالی،اب میرا کوئی حق اس توفیر میں نہیں اورنہ مجھے اس ہبہ سے رجوع کااختیار باقی رہا،اب شرع شریف سے سوال ہے کہ صورت مذکورہ میں اس تمام توفیر کا استحقاق خالد خریدار کو ہے یا زید پدر عمرو کو؟ بینوا توجروا۔

الجواب:

صورت مستفسرہ میں زید پدر عمرو کسی طرح توفیر کا مالك نہیں بلکہ وہ کل توفیر پانچوں بسوہ کی بابت سال تمام ۱۲۹۲ فصلی کی محض خالد کا حق ہے اور صرف اور صرف اسی کو ملنا چاہئے۔

والفقہ فی ذٰلك ان بیع من یزید الصادرمن حکام الزمان لیس بیع المالك وھو ظاھرولاباذنہ فانہم لایسألونہ ولایسترضونہ بل ربما باعوا مایساوی الفا بمائۃ اواقل ولا باذن الشرع المطہر کما لایخفی علی من لہ ادنی مسکۃ فلا یسوغ تفریعہ علی قول الصاحبین فی بیع القضاۃ مال المدیون کرھا علیہ ان ابی ولابیع المکرہ حتی یجعل فاسدا لان المالك لایتولی الایجاب بل ربما لایشہد العقد وانماھم یبیعون بانفسہم جبراعلیہ فاذن لیس الا کبیع الغاصب ینعقد موقوفا علی اجازۃ المالک

اس میں فقہ یہ ہے کہ بولی لگاکر بیع(نیلامی)جیسا کہ آج کل کے حکمران کرتے ہیں وہ مالك کی طر ف سے بیع نہیں اور یہ ظاہر ہے اور نہ مالك کی اجازت سے ہے کیونکہ حکمران نہ تو مالك سے پوچھتے ہیں اورنہ ہی اس کی رضا معلوم کرتے ہیں بلکہ بعض دفعہ تو ہزار کی مالیتی چیز سویا اس سے بھی کم پر فروخت کردیتے ہیں،اورنہ ہی یہ بیع شرعا مطہر کے اذن سے ہوتی ہے جیساکہ شریعت سے ادنٰی سا تعلق رکھنے والے پر مخفی نہیں،اور یہ بیع مذکور کو بیع مکرہ اور مدیون کے انکار کے باوجود حکام کی طرف سے جبرا اس کے مال کوفروخت کرنے سے متعلق قول صاحبین پر متفرع کرکے بیع فاسد قرار دینے کی گنجائش نہیں کیونکہ یہاں ملك کی طرف سے ایجاب نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات تو مالك بوقت عقد حاضرہی نہیں ہوتا بلکہ حکام اس پر جبر کرتے ہوئے از خود بیع کردیتے ہیں لہٰذا یہ تومحض بیع غاصب کی مثل ہے جس کا انعقاد مالك کی اجازت پر فان اجاز جاز والابطل فی الدرالمختار وقف بیع الغاصب علی اجازۃ المالك اھ [3] واذا کان الامر کذٰلك فلم یثبت الملك فی المبیع لھندۃ المشتریۃ من احکام فبیعہا من خالد ایضا بیع الفضولی لعدم الملك واذن المالك فیتوقف ایضا علی اجازتہ،فی رد المحتار بیع المشتری من الغاصب موقوف [4] اھ فایما



[1]            درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۲

[2]            فتاوٰی ہندیۃ کتاب البیوع الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۱۵۳

[3]            درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۱

[4]            ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی الفضولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۴۲



Total Pages: 247

Go To