Book Name:Fatawa Razawiyya jild 16

مشترکہ جگہ پر ایك شریك نے دوسرے کی اجازت کے بغیرتعمیر کی دوسرے نے وہاں سے عمارت ہٹانے کا مطالبہ کیا تو زمین کو تقسیم کیا جائے،اگر عمارت بنانے والے کے حصہ میں وہ عمارت آئی تو بہتر ورنہ عمارت کو گرایا جائے گا(اس پر علامہ شامی نے یہ اضافہ فرمایا یونہی شریك کی اجازت سے اپنی ذات کے لئے بنائی تو حکم یہی ہے کیونکہ اس نے گویا وہ زمین عاریۃً عمارت کے لئے اپنے شریك سے حاصل کی اور عاریتًا دینے والے کو یہ حق ہوتا ہے کہ وہ جب چاہے واپس لے لے اھ رملی علی الاشباہ اور طحطاوی میں ہندیہ سے یوں ہے،یاشریك کو قیمت دے کر راضی کرلے)________اور پودے لگانے کا حکم بھی یہی ہے،بزازیہ،اھ۔(ت)

ردالمحتار میں ہے:

اقول: وفی فتاوٰی قارئ الھدایۃ وان وقع البناء فی نصیب الشریك قلع وضمن مانقصت الارض بذٰلك اھ وقد تقدم فی کتاب الغصب متنا ان من بنی او غرس فی ارض غیرہ امر بالقلع وللمالك ان یضمن لہ قیمۃ بناء او غرس امر بقلعہ ان نقصت الارض بہ والظاھر جریان التفصیل ھنا کذٰلك تأمل [1] اھ

میں کہتا ہوں اور فتاوٰی قارئ الھدایہ میں ہے اور اگر عمارت شریك کے حصہ میں بنائی تو ہٹائے اور بنانے والے سے زمین کے نقصان کا ضمان لے اھ،متن کے کتاب الغصب میں پہلے گزر چکا ہے کہ جس نے عمارت یا پودے غیر کی زمین میں لگائے تو اسے ہٹانے کاحکم دیاجائے گا اور مالك کو اختیار ہوگا کہ اگر عمارت گرانے یا پودے اکھاڑنے سے زمین کا جو نقصان ہوا ہوتواس کا ضمان لے اور ظاہرہے کہ یہاں وہی تفصیل ہوگی،غورکرواھ

اقول: وکذٰلك تقدم فی کتاب العاریۃ متنا وشرحا حیث قال لواعار ارضاللبناء والغرس صح ولہ ان یرجع متی شاء ویکلفہ قلعھما الااذاکان فیہ مضرۃ بالارض فیترکان بالقیمۃ مقلوعین لئلا تتلف ارضہ [2] اھ وھذااعنی بناء احدالشریکین لایخلو عن احد ھما اذلوبنی بغیر اذن شریکہ کان غاصبا او بہ لنفسہ کان مستعیرافلاشك فی جریان الحکم المذکور فیھما ھنا ثم ماذکرہ قاری الھدایۃ محلہ مااذاکان النقصان قلیلاغیربالغ حد افساد الارض والتملك محمول علی النقصان الفاحش کما یفیدہ تعلیل الدر بقولہ لئلا تتلف ارضہ وقد نقل المحشی عن السائحانی عن المقدسی فی الغصب تحت قول الدر من بنی اوغرس فی ارض غیربغیر اذنہ امر بالقلع والرد وللمالك ان یضمن لہ قیمۃ بناء او شجر امر بقلعہ ای مستحق القلع ان نقصت الارض بہ[3] اھ مانصہ ای نقصانا فاحشا بحیث یفسدھا اما لو نقصھا قلیلا فیأخذارضہ ویقلع الاشجار ویضمن النقصان[4]  اھ فبذا التوفیق یتضح المرام وتزول الاوھام والجدلہ ولی الانعام۔

اقول:(میں کہتا ہوں)اور یونہی متن اور شرح کی کتاب العاریۃ میں گزرا ہے جہاں فرمایاکہ اگر زمیں عمارت یا پودے لگانے کے لئے عاریۃً دی تو جائز ہے اور اس کو اختیار ہوگا کہ جب چاہے واپس لے لے اور بنانے والے کو ہٹانے پرمجبور کرے،ہاں اگر عمارت گرانے اور پودے اکھاڑنے سے زمین کو نقصان ہو تو دونوں چیزوں کو ان کی اکھاڑی ہوئی صورت کی قیمت کے بدلے بحال رکھا جائے تاکہ مالك کی زمین تلف نہ ہو اھ، اور شریکین میں سے ایك کا تعمیر کرنا دو حال سے خالی نہیں کہ بغیر اجازت تعمیر کرے گا تو غاصب ہوگا یا اجازت سے اپنی ذات کے لئے تعمیر کرے گا تو عاریۃً حاصل کرنے والا قرار پائے گا تو بلاشك دونوں صورتوں میں وہاں مذکور حکم ہی جاری ہوگا،پھر قاری الھدایہ نے جو ذکر فرمایا تو اس کا محل وہ صورت ہے جب اکھاڑنے میں نقصان کم ہو جس سے زمین میں فساد پیدا نہ ہو،اور قیمت دے کر مالك بننے کی صورت وہ ہے جب زمین کا نقصان زیادہ ہو جیسا کہ درمختار کا یہ علت بیان کرنا"تاکہ زمین تلف نہ ہو"سے بطور فائدہ معلوم ہورہا ہے، اور غصب کے باب میں محشی نے سائحانی اس نے مقدسی سے درمختار کے قول"جس نے غیر کی زمین میں بغیر اجازت عمارت بنائی یا پودے لگائے تو اسے وہاں سے اکھاڑنے اور زمین واپس کرنے کا حکم دیا جائے گااور مالك کو اختیار ہوگا کہ وہ اکھاڑے ہوئے مکان یا درختوں کی قیمت کا ضامن بن جائے اگر زمین کو نقصان کاخطرہ ہو یعنی اگر نقصان ہوتو اکھاڑنے کا استحقاق ہوگا اھ محشی کی عبارت یہ ہے یعنی ایسا فحش نقصان جو زمین کے فساد کا باعث ہو،لیکن اگر نقصان قلیل ہوتو مالك اپنی زمین واپس لے اور درخت وغیرہ اکھاڑدے اور نقصان کا ضمان لے اھ تو اس بیان سے مذکورہ عبارات میں موافقت ہوگئی،مقصود واضح ہوگیا اور اوہام ختم ہوگئے اور بزرگی نعمت کے مالك کے لئے ہے۔(ت)

نیز شامی میں ہے:

ای قیمۃ بناء اوشجر امر بقلعہ اقل من قیمتہ مقلوعا مقداراجرۃ القلع فان کانت قیمۃ المقلوع عشرۃ واجرۃ القلع دراھم بقیت تسعۃ[5] (ملخصًا)

یعنی مکان یا درخت جن کو اکھاڑنے کا حق ہے ان کھاڑے ہوئے کی قیمت سے اکھاڑنے کی مزدوری برابر منہا کرکے بقیہ قیمت دی جائے،مثلًا اگر اکھاڑے ہوئے کی قیمت دس درہم ہو اور مزدوری ایك درہم ہوتو نو درہم قیمت دے گا (ملخصًا)۔(ت)

خیریہ میں ہے:

ان وقع بعضہ فی حصتہ وبعضہ فی حصۃ الاٰخر فما وقع فی حصتہ فامرہ الیہ وما وقع فی حصۃ الاٰخرفلہ ان یکلفہ قلعہ[6]۔

اگر مکان کا کچھ حصہ اپنی زمین اور کچھ حصہ دوسرے کی زمین میں ہو تو اپنی زمین والا حصہ اس کی صوابدید پر ہے،اور جو حصہ دوسرے کی زمین پر واقع ہے تو دوسرے کو حق ہے کہ وہ اسے گرانے پر مجبور کرے(ت)

یہ سب اس صورت میں ہے جبکہ مکان صالح تقسیم،اور شرکاء تقسیم پر راضی ہوں ورنہ اگر بقیہ شرکاء اس عمارت کو رکھنا نہ چاہیں تو ڈھادینے سے چارہ نہیں۔ خیریہ میں ہے:

لایخفٰی انہ اذالم یمکن القسمۃ اولم یرضیا بھا تعین الھدم[7]۔واﷲتعالٰی  اعلم۔

یہ مخفی نہیں کہ جب زمین قابل تقسیم نہ ہو یا فریقین تقسیم پر راضی نہ ہوں تو گرائے بغیر چارہ نہ ہوگا۔واﷲ تعالٰی  اعلم۔(ت)

 



   [1] ردالمحتار کتاب القسمۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۱۷۰

   [2] درمختار کتاب العاریۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۵۶

[3] درمختار کتاب الغصب مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۰۷

[4] ردالمحتار کتاب الغصب داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۱۲۴

[5] ردالمحتار کتاب الغصب داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۱۲۴

[6] الفتاوٰی الخیریہ کتاب القسمۃ دارالمعرفۃ بیروت ۲/۱۶۱

   [7] الفتاوٰی الخیریہ کتاب القسمۃ دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۶۰



Total Pages: 201

Go To