Book Name:Fatawa Razawiyya jild 16

خیر اطعام مساکین وپارچہائے سرماو گرمائے مساکین وتجہیز وتکفین غربائے اسلام وجہیز دختران مساکین وصرف خیر مساجد ومدارس دینی وحرمین شریفین زادہمااﷲ شرفًا وتعظیمًا وقف لوجہ اﷲ کرتی ہوں تاحیات خود متولی رہوں گی بعد میرے فیاض الدین احمد خاں،بعد ان کے ان کی اولاد ذکور جو پابند شرع شریف ہو بمعیت حکیم خلیل الرحمٰن خاں ومولوی وصی احمد صاحب رہیں گے،متولیان سو روپے سال اصغری بیگم کو جو میری چھوٹی بہن ہے دیتے رہیں بعد ان کے ان کی اولاد ذکور کو جوپابند شرع شریف ہو دیتے رہیں نیز یہ بھی شرط ہے کہ میری رائے میں بحالت تولیت میری اس حقیت کا بیع یارہن کرنا یا ٹھیکہ دینا اور اس سے دوسری جائداد یا اور کوئی شے مفید واسطے منافع اغراض وقف کے خرید کرناضرور معلوم ہوتو ایسا کرنے کا حسب شرائط دستاویز ہذ ا مجھے اختیار ہوگا اس لئے کہ موت کا وقت مقرر نہیں ہے لہذا انتظامًا و احتیاطًا یہ وقف نامہ لکھا گیا افضل خیرات شرعًا یہ ہے کہ جائداد مذکورہ کسی قیمت مناسب پر فروخت کرکے وقتًا فوقتًا خود اپنے ہاتھ سے خیرات کرتی،لہذا تاحیات اپنی مجھ کو اختیار ہوگا کہ جس وقت چاہوں فروخت کرکے حسب رائے خود خرچ کروں اور جو کچھ بعد میں باقی رہے گا اس سے شرائط وقفنامہ ہذا متعلق ہوں گے اگر میری حیات میں متولیان سے کوئی فوت ہوجائے تو مجھ کو متولی مقررکرنے کاخود اختیار ہوگا،متولیان کو چاہئے ؎/سال بطور خیرات تا حیات اس کے مسماۃ بنی کو جو اس وقت میرے پاس ہے بعد میرے دیا کریں گے بعد وفات اس کے یہ روپیہ دیگر خیرات میں شامل کیا جائے اگر خدانخواستہ ملك حجاز اپنی بدقسمتی سے نہ پہنچ سکوں تومیری قبر کسی بزرگ کے قریب بنوائی جائے اور محفوظ ممیز کر دی جائے اور ایصال ثواب قرآن شریف وکلمہ ودرود میں ؎سال تك خرچ کیا جائے چونکہ آمدنی جائداد کی تعیین نہیں ہوسکتی میری رائے میں منہائے اخراجات متعلق جائداد کے ایك ثلث حرمین شریفین میں واسطے خیرات کے دیا جائے،اور ایك ثلث طلبائے علم دین ومصارف مساجد پیلی بھیت ومدرسہ عربی واقع پیلی بھیت،ایك ثلث فقراء ومساکین واطعام وغیرہ،اور واسطے ایصال ثواب شاہ محمد شیر صاحب کے ؎ /روپے سالانہ یا جس قدر زائد گنجائش ہو کیا جائے مجھے حکام سے امید ہے کہ بوقت دورہ اس جائداد موقوفہ کی نگرانی فرمادیں،متولیان کے پاس رجسٹرحساب جمع خرچ باقاعدہ درست رہنا ضرورہے،میرے وارث یا قائم مقام کو اس کے تبدیل تغییر کا اختیار نہ ہوگا۔لہذا یہ وقف نامہ بتعین مالیت معمہ ھما ًروپیہ دیا کہ سند ہو۔مورخہ ۱۲ستمبر ۱۹۰۶ء رجسٹری شدہ ہے۔

الجواب:

یہ کاغذ باطل محض ہے اس میں انشائے وقف کے دو۲ جملے ہیں:


 

 



Total Pages: 631

Go To