Book Name:Fatawa Razawiyya jild 16

پر اگرچہ ان کی اولاد ہو کوئی ولایت نکاح وغیرہ کی نہیں ہوسکتی اور یہ کہ ان سے میل جول حرام اور یہ کہ ان کی حیات یا موت میں کوئی اسلامی برتاؤان سے حرام۔یہ تمام احکام نہ صرف ان رافضیوں بلکہ ان جمیع فرق واشخاص کے لئے ہیں جو باوصف کلمہ گوئی اپنے کسی عقیدہ یا عمل میں کفر رکھتے ہیں جیسے ہر قسم کے وہابی اور نیچری او رقادیانی اور چکڑالوی اور حلول یا اتحاد بکنے والے جھوٹے صوفی اور اب سب سے نئے اکثر گاندھوی کہ یہ سب مرتدین ہیں اور ان سب پر وہی احکام جیسا کہ علمائے حرمین طیبین کے دونوں مشہور فتاوٰی الحرمین وحسام الحرمین وغیرہما اور المحجۃ المؤتمنہ سے ظاہر ہے۔

واﷲ یقول الحق وھو یھدی السبیل وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل واﷲ تعالٰی اعلم۔

اﷲ تعالٰی حق ارشاد فرماتاہے اور وہی سیدھے راستے کی ہدایت دیتا ہے اور ہمیں اﷲ تعالٰی کافی ہے اور کیا ہی اچھا کارساز ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)

اوقاف کے اجارہ کا بیان

 

مسئلہ ۴۲۹:                            ازپیلی بھیت مرسلہ جناب مولٰنا محدث سورتی دام فیضہ                               ۱۹صفر۱۳۲۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك موضع وقفی پانچ برس کو ممبران انجمن اسلامیہ سے ایك توفیر معین پر ٹھیکہ لیا،علاوہ شرائط ٹھیکہ کے ایك درخواست ٹھیکہ دار نے بعد ایك سال کے اس مضمون کی دی کہ چونکہ انجمن کے ممبر وغیرہ زائد از پانچ سال کو ٹھیکہ شرعًانہیں دے سکتے لہذابغرض کار گزاری آئندہ مجھ سے معاہدہ تحریری کرالیا جائے کہ آئندہ پانچ برس کوبھی ٹھیکہ مجھی کو دیا جائے،چنانچہ معاہدی تحریری دستخطی کرلیا گیا کہ اگر اسامیان موضع کو ٹھیکہ دار رضامند رکھے اور باغ کی توفیر زیادہ کرے گا اور محافظت کرے گا تو آئندہ کو بھی اسی تو فیر پر دیا جاسکتا ہے مگر توفیر باغ کو بدستور رہی اور اسامیان راضی نہیں،پس ایسی صورت میں اراکین انجمن کو پابندی لازم ہے یانہیں؟ باینہمہ کہ اور اشخاص کی درخواستیں ٹھیکہ جدید کی زائد از سابق موجود ہیں جس میں مسجد ومدرسہ کا نفع ظاہر ہے،علاوہ ازیں اگر ٹھیکہ والے سابق نے پابندی معاہدہ کی موافق کی ہو یعنی اسامیان دیہہ کو راضی رکھنے کا اہتمام کیاہواور باغ کی توفیر کی زیادتی میں سعی کی ہو مگر اتفاق سے ان کی رضامندی نہ ہوسکی اور توفیر میں ترقی نہ ہوسکی تو کیا ایسی صورت میں معاہدہ کی پابندی اراکین انجمن اسلامیہ کو لازم ہوگی اور اس کو اسی توفیر پر ٹھیکہ دینا جائز ہے گو مسجد مدرسہ کانقصان ہو۔بینواتوجروا۔

الجواب:

اراکین پر اس معاہدہ کی پابندی نہ صرف غیر ضروری بلکہ محض ناجائز وممنوع وگناہ ہے وہ معاہدہ


 

 



Total Pages: 631

Go To