Book Name:Fatawa Razawiyya jild 16

قال لمتفقہ اصرف ھذہ الخشبۃ الی کتبك فھو ھبۃ والصرف الی الکتب مشورۃ کذا فی القنیۃ [1]۔

کسی نے طالبعلم کو کہا کہ یہ لکڑی لے جا کر اپنی کتب کے لئے استعمال کرو،تو یہ ہبہ ہوگا،اور کتب کے لئے استعمال صرف مشورہ ہوگا،جیسا کہ قنیہ میں ہے(ت)

اسی طرح اگر کسی کو مثلًا قاب پلاؤیا اور کوئی عاریت کا نام کرکےدیا تو قرض ٹھہرے گا"لان عاریۃ مالاینتفع بہ الا بالاستھلاك قرض"(کیونکہ ایسی چیز کو عاریۃً دینا جس کو صرف کرکے ہی نفع لیا جاسکتا ہے تو وہ قرض ہوتا ہے۔ت)اور ان میں باہم دوستی و اتحاد ہے تواباحت"لمکان العرف"(اباحت ہے کیونکہ یہی عرف ہے۔ت)درمختارمیں ہے:

لو اعارہ قصعۃ ثرید فقرض ولو بینھما مباسطۃ فاباحۃ[2]۔

اگر ثرید کا پیالہ عاریۃً دیا تو قرض ہوگا اور لین دین والوں میں بے تکلفی ہوتو یہ اباحت ہے(ت)

بالجملہ مدار عرف پر ہے اور یہاں عرف قاضی اباحت کہ جو بھائی باہم یکجا رہتے اور اتفاق رکھتے اور خورد ونوش وغیرہا مصارف میں غیریت نہیں برتتے،ان کی سب آمدنی یکجا رہتی ہے،اور جسے جو حاجت پڑے بے تکلف خرچ کرتا اور دوسرا اس پر راضی ہوتا اور واپسی کا ارادہ نہیں رکھتا،نہ وہ آپس میں یہ حساب کرتے ہیں کہ اس دفعہ تیرے خرچ میں زائد آیا اتنا مجرا دے،نہ صرف کے وقت ایك دوسرے سے کہتا ہے میں نے اس روپے سے اپنے حصے کا تجھے مالك کردیا بلکہ یہی خیال کرتے ہیں کہ باہم ہمارا ایك معاملہ ہے جس کا مال جس کے خرچ میں آجائے کچھ پروا نہیں،اور یہ عین معنی اباحت وتحلیل ہے توجب تك اس کاخلاف دلیل سے ثابت نہ ہوگا اباحت ہی قرار دیں گے اور زر صرف شدہ کا نصف محمود بیگ کو نہ ملے گا،واﷲ تعالٰی  اعلم بالصواب۔

مسئلہ۳:   ازریاست رام پور بلا سپوردروازہ مرسلہ شہزادہ میاں معرفت مولوی سید خواجہ احمد صاحب۱۴صفر ۱۳۳۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك اراضی تعدادی(۳لعہ /عگہ)پختہ کے چند اشخاص بذریعہ میراث بطور اشتراك مالك تھے اور اسی طرح چند روز تك مالك رہے،منجملہ اراضی مذکورہ کے(للعہ عگہ ۱۴بسوہ)پختہ اراضی پر منجانب سرکار قبضہ ۱۳۰۸  ف میں ہوگیا،یہ مقبوضہ اراضی سرکارہ وہ ہے کہ جس میں اشخاص مذکورہ بالا کے مورث نے بازار پینٹہ لگایا تھا،بعد ازاں اراضی مذکورہ مع اس اراضی پینٹہ والے کے  ۱۳۱۴فصلی میں باہم تقسیم ہوگئی اور عملدرآمد سرکار میں بھی اس تقسیم کا ہوگیا اور حصص ہر ایك کے مشخص اور ممتاز ہوگئے۔مثلًازید کے حصے میں یہ اراضی مقبوضہ سرکار پینٹہ والی مع کچھ دیگر اراضی کے(جملہ لعہ ۴ عگہ)پختہ آئی اور سب شرکاء رضامند اس تقسیم ہوگئے اور زید نے اور ایك بیگہ اراضی دیگر شرکاء سے منجملہ ے۶ بیگہ پختہ کے خرید بھی لی بعد ان معاملات کے زید نے سرکار میں چارہ جوئی کی اورچاہا کہ سرکار اپنا قبضہ اراضی پینٹہ مذکور پر سے اٹھالے،سرکار نے قبضہ تو نہیں اٹھایا لیکن معاوضہ میں بجائے قبضہ اٹھانے کے دیگر اراضی دے دینے کا حکم دے دیا،اور سرکار کے قبضہ کو اس اراضی پر اٹھارہ۱۸ سال ہوئے سترہ۱۷ سال کے منافع کے بابت اندازہ ظاہر کرکے صرف مبلغ(۱لما للعہ ؎نقد ۸)دے دینے کا بھی حکم صادر فرمادیا۔اب دیگر شرکاء زید جو ا سکے سابق میں شریك تھے وہ چاہتے ہیں کہ اس زر نقد سرکار کے عطیہ میں سے ہم کو بھی ملنا چاہئے،جس حاکم کے قبضہ میں وہ روپیہ ہے ان کی رائے ہے کہ روپیہ مذکورہ سترہ سال پر بانٹا جائے۔جب سے کہ تقسیم ہوگئی ہے یعنی  ۱۳۱۴ف لغایت  ۱۳۲۵ فصلی،تو زید کو تنہا جائے،اور جتنے زمانہ تك اراضی مشترکہ یعنی از ابتداء لغایت  ۱۳۱۳ف بلحاظ حصص شرکاء روپیہ تقسیم کیا جاوے،اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ اراضی پینٹہ والی اب سرکار میں خالص حق وملك زید کی قرار پائی ہے اور زید ہی نے کوشش کرکے معاوضہ کا حکم کرایا،اور سرکار سے روپیہ بھی تنہا زید ہی کو دے دینے کا حکم ہوا،ایسی صورت میں کیا زمانہ اشتراك کاعذر کرکے دیگر شرکاء بھی رقم مذکورہ میں سے لینے کے مستحق ہیں یا کیا؟امید کہ جواب صاف صاف بلارُو رعایت تحریر فرمایاجائے،بینواتوجروا۔

الجواب:

حق کے سوا کسی کی رو رعایت خادمانِ شرع کاکام نہیں،اگر وہاں کچھ فتوٰی نویس اسکے عادی سمجھے ہوں تو سب کو ان پر قیاس نہ کیا جائے،وہ زمین اگرسب شرکاء کی طرف سے معد للاستغلال تھی اور ریاست کو اس کا علم تھا کما فی الدر عن الخیر الرملی(جیسا کہ درمختار میں خیرالدین رملی سے منقول ہے۔ت)یا اس کا ایسا ہونا عام طور پر معروف تھا کما فی ردالمحتار ویؤیدہ مسألۃ الخان والحمام فی الاشباہ والدر(جیساکہ ردالمحتار میں ہے جس کی تائید خانوت اور حمام والا مسئلہ کررہاہے جو اشباہ اور در مختار میں مذکور ہے۔ت)تو بلاشبہہ یہ معاوضہ تازمانہ شرکت حسب حصص سب شرکاء کا ہے،

لان الاعداد قائم مقام الایجاب والاخذمقام القبول فکانوا کلھم عاقدین فوجب الاجرلھم جمیعا۔

کیونکہ تیار کرنا ایجاب اور لینا قبول کے قائم مقام ہوتا ہے،تو یہ تمام لوگ عقد کرنے والے قرار پائینگے تو سب کے لئے معاوضہ واجب ہوگا۔(ت)

اسی میں ہے یہ صورت کہ متصرف زید تھا اور وہ سب شرکاء کا کارکن،اور اس نے سب کے لئے اعداد کیا،

فانہ اذن منھم جمیعا بحکم الاذن ولو فی ضمن العموم۔

کیونکہ وہ ان سب کی طرف سے اجازت ہوگی اگرچہ اذن عموم کے ضمن میں پایا گیا۔(ت)

اور اگر اعداد سب کی طرف سے نہ تھا زید نے تنہا اپنے لئے کیا اور اس حالت میں ریاست نے اسے لیا اوراب یہ معاوضہ دیا تو اس کا مالك تنہا زید ہے،

لانہ ھوالعاقد والمنافع لاتتقوم الابالعقد فلاتکون الالہ کما فی الھندیۃ والخیریۃ والعقودالد ریۃ۔

کیونکہ وہ اکیلا ہی عاقد ہے جبکہ منافع صرف عقد سے قیمتی بنتے ہیں لہذا یہ صرف اسی کےلئے ہونگے جیساکہ ہندیہ،خیریہ اور درر میں ہے(ت)

مگر تازمانہ شرکت بقدر حصص شرکاء زید کےلئے ملك خبیث ہے لتصرف فی ملك غیرہ(غیر کی ملکیت میں تصرف کی وجہ سے)اس پر لازم ہے کہ اس قدر تصدق کرے یا شرکا کو دے اور یہی اولٰی ہے کما فی الخیریۃ وغیرھا(جیسا کہ خیریہ وغیرہ میں ہے۔ت)اور ان کے لئے طیب ہوگا لانہ نماء ملکھم(کیونکہ یہ ان کی ملکیت میں اضافہ ہوا ہے۔ ت)اور اگر معدللاستغلال نہ تھی تو کسی شریك کے لئے کوئی معاوضہ ریاست کے ذمے نہ آیا لعدم الاجارۃ صراحۃ و لا دلالۃ(اس لئے کہ اجارہ نہ صراحۃً ہے نہ دلالۃً۔ت)جو کچھ دیا وہ محض ہبہ وعطیہ ہے جسے دیا تنہا اسی کاکام ہے اور تمام وکمال اس کے لئے طیب وحلال ہے،

لانہ لیس عوضا من مشترك حتی یحتمل اشتراك الشرکاء فیہ۔یہ

مشترکہ چیز کا معاوضہ نہیں تاکہ اس میں شرکاء حضرات کی شرکت کااحتمال ہو۔(ت)

مگر یہ کہ شرکاء میں کوئی یتیم ہوتو البتہ اس کے حصے کے قابل بعد اخذ ریاست تاانتہائے شرکت جتنے دنوں وہ نابالغ رہا ہو اس قد ر کاحصہ اس یتیم کو دینا واجب ہے،

 



   [1] الفتاو ی الھندیۃ کتاب الہبۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۳۷۶

   [2] درمختار کتاب العاریۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۵۶



Total Pages: 201

Go To