Book Name:Fatawa Razawiyya jild 16

 

 

رسالہ

ابانۃ عـــــــہ المتواری فی مصالحۃ عبدالباری۱۳۳۱ھ
(عبدالباری کی مصالحت میں چھپی ہوئی(خرابی)کااظہار)

 

بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

 

مسئلہ ۱۸۵:          از لکھنؤفرنگی محل مرسلہ مولوی سلامت اﷲ صاحب نائب منصرم مجلس موید الاسلام ۳۰ذیقعدہ ۱۳۳۱ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ __________گورنمنٹ کے حکام

عــــــہ: مسجد کانپور کے متعلق ایك نہایت ضروری فتوٰی،جس کا سوال لکھنؤ فرنگی محل سے آیا اور دارالافتاء نے جواب دیا اور بکمال وضوح ثابت کیا کہ مولوی صاحب نے جو فیصلہ مسجد مچھلی بازار کانپور کے متعلق دیا وہ سراسر مخالف احکام اسلام ہے،اس پر مسلمانوں کومطمئن ہونا سخت گناہ وحرام ہے،ہر طبقہ کے مسلمانوں پر فرض ہے کہ دربارہ حفظ حقوق مذہبی گورنمنٹ کی نامبدل پالیسی سے نفع لیں اور اپنے اپنے منصب کے لائق جائز چارہ جوئی میں پوری کوشش کریں مولوی صاحب کی یہ شخصی کارروائی اگر مقبول ٹھہر گئی تو ہمیشہ کے لئے مساجد ہند پر اس کا بہت برا اثر پڑے گا اور ہر مسلمان کہ جائز کوشش کرسکتا تھا اور نہ کی اس کے وبال میں ماخوذ ہوگا"مسجد کانپور کے فیصلہ پر ایك نظر"کا بھی اس میں رد بلیغ ہے۔

نوٹ:علامہ امجد علی صاحب اعظمی نے"قامع الواھیات من جامع الجزئیات۱۳۳۱ھ"کے نام سے اس پر ایك عربی تذییل تحریر فرمائی ہے جو کہ مولوی صاحب فیصلہ کنندہ کی اس چھ ورقی عربی تحریر بنام"جامع جزئیات فقہ"جو اس نے اس فیصلہ کو مطابق شرع بنانے میں تحریر فرمائی تھی کے رد میں ہے اعلٰیحضرات احمد رضا خاں علیہ الرحمۃ نے اس رسالہ میں پچاس دلائل قاہرہ پیش کئے جبکہ علامہ امجد علی صاحب اعظمی نے مزید دو سو۲۰۰ دلائل پیش کرکے ثابت کیا ہے کہ یہ فیصلہ مطابق شرع نہیں ہے اور نہ ہی مسجد توڑ کر راستہ بنالینا روا ہے۔


 

 



Total Pages: 631

Go To