Book Name:Fatawa Razawiyya jild 16

جبکہ وہ تین سو روپیہ اسی دکان مشترك کی آمدنی تھا جس کے دونوں بھائی بحصہ مساوی مالك تھے تو وہ روپیہ بھی نصف نصف ان دونوں کی ملك تھا،سائل مظہر کہ روپیہ عبدالغفور بیگ اپنے بھائی کی اجازت سے لے گیا تھا اب یہ اجازت قرض تھی خواہ ہبہ خواہ اباحت،بہر حال کل یا بعض جس قدر باقی تھا جسے محمود بیگ احمد آباد سے لے آیا اس کے مقدار نصف میں محمود بیگ کا حق ہے اور نصف عبدالغفور بیگ کا کہ برتقدیر عدم موانع ووارث آخر وتقدیم مایقدم چوبیس سہام ہوکر اسکے وارثوں پر یوں تقسیم ہوگا:

امراؤ بیگم______۳                              ولایتی بیگم_____۴                                عبدالشکور_____۱۷

بحالت قرض تو ظاہر کہ نصف مضمون تھا تو ما  ؎ کا مطالبہ محمود بیگ کا ترکہ عبدالغفور پر رہا خواہ اسی روپے سے ادا کریں یا اس کے غیر سے "لان الدیون تقضی بامثالھا"(کیونکہ قرض اپنی مثل سے ادا کیا جاتا ہے۔ت)اور بحالت اباحت بھی ظاہر کہ اباحت بعد موت باطل ہوجاتی ہے،

لانھا لیست تملیکا حتی تجری فیہا الارث بل تحلیل تصرف للمباح لہ،فاذا مات او مات المبیح بطلت امافی الثانی فلانتقال الملك کما علل بہ فی الخیریۃ واما فی الاول فلعدم الملك لینتقل کما اشرنا الیہ۔

کیونکہ یہ تملیك نہیں ہے تاکہ اس میں وراثت جاری ہو،بلکہ اس کے لئے ایك مباح چیز میں تصرف کو حلال قرار دینا ہے، تو جب وہ یا مباح کرنے والا فوت ہوجائے گا تو باطل ہوگی، لیکن ثانی میں تو ملکیت کے انتقال کی وجہ سے جیسا کہ فتاوٰی خیریہ میں اس کو وجہ بتایا ہے مگر پہلی میں ملکیت نہیں تاکہ منتقل کیا جائے جیسا کہ ہم نے اس کا اشارہ دیا ہے۔(ت) اور بحالت ہبہ تین سو میں سے ڈیڑھ سو کاہبہ قابل قسمت میں ہبہ مشاع ہے کمانص علیہ علماؤنافی غیرما کتاب(جیسا کہ اس پر ہمارے علماء نے متعدد کتب میں نص فرمائی ہے۔ت)اور ایسا ہبہ مذہب صیحح پر محض بے اثر کہ بعض قبض بھی مورث ملك نہیں ہوتا جب تك جدا کرکے واہب کی طرف سے تسلیم نہ واقع ہو کما حققہ فی الخیریۃ والعقودالدریۃ وردالمحتار و غیرھا(جیسا کہ خیریہ،عقود دریہ اور ردالمحتار وغیرہ میں اس کی تحقیق فرمائی ہے۔ت)تو وہ ڈیڑھ سو بدستور ملك محمود بیگ پر رہے،ان دونوں صورتوں میں بعینہ انہیں روپوں کانصف محمود بیگ کو ملنا چاہئے،غرض باقی کی نصف مقدار میں ہر طرح محمود بیگ کااستحقاق ثابت،ہاں جس قدر عبدالغفور بیگ صرف کر چکا تھا اس کا نصف بھی محمود بیگ کو ملے یانہیں،یہ محل نظر ہے،اگر ثابت ہو کہ وہ روپے اس نے قرضًا یا ہبۃً دئے تھے تو بیشك ملنا چاہئے"لضمان القرض وبطلان الھبۃ فانقلبت مضمونۃ بالاستھلاک" (قرض کے ضمان اور ہبہ کے بطلان کے سبب لہذا ہلاك کرنے پر ضمان ہوگا۔ت)اور اگر اباحۃً دئے تھے یعنی مجرالینا منظور نہ تھا نہ ان ڈیڑھ سو کاعبدالغفور بیگ کو مالك کیا تھا بلکہ جیسے بحالتِ اتحاد ویکجہتی ایك مال دوسرے کے خرچ میں آجاتا ہے اور اس کا معاوضہ مقصود نہیں ہوتا یوں دئے تھے تو جو صرف ہوگئے ہوگئے،ان کا بدل محمود بیگ کونہیں مل سکتا "لان الاباحۃ تصح فی المشاع ولاتضمن"(کیونکہ اباحت حصص والی چیز میں صحیح ہوتی ہے اور اسی پرضمان نہیں آتا ہے۔ ت)اور بیشك عرف ناس پر لحاظ سے یہاں ظاہر یہی صورت ہے اور ظاہر پر عمل واجب جب تك دلیل سے اس کا خلاف نہ ثابت ہو،کہ عرف اعظم دلائل شرعیہ سے ہے۔خیریہ میں ہے:

ان کان العرف قاضیا بانھم یدفعونہ علی وجہ البدل یلزم الوفاء بہ،وان کان العرف بخلاف ذٰلك بان کانوالا ینظرون فی ذٰلك الٰی اعطاء البدل فلارجوع فیہ بعد الھلاك والاستھلاك والاصل فیہ ان المعروف عرفا کالمشروط شرعا [1] اھ ملخصًا۔

اگر عرف بتائے کہ لوگ اس کو بدلہ کے طور پر دیتے ہیں تو پھر بدلہ پورا کرنا لازم ہے اور اگر عرف اس کے خلاف ہو کہ لوگ اس میں عوض کے منتظر نہیں ہوتے تو پھر ہلاك کرنے ہلاك ہوجانے پر رجوع نہیں کیا جائے گا،اور اس کاقاعدہ یہ ہے کہ عرف میں مشہور معاملہ شرعًا مشروط کی طرح ہوتا ہے اھ ملخصًا(ت)

ظہیریہ میں امام فقیہ ابواللیث رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے منقول:

التعویل علی العرف حتی یوجد وجہ یستدل بہ علی غیرما قلنا[2]۔

عرف پر اعتماد ہوگا اگر موجود ہوتو یہ قابل استدلال وجہ بن سکے گا جیسا کہ بہت دفعہ ہم ذکر کرچکے ہیں(ت)

ولہذا با آنکہ اگر زید عمرو کو کچھ روپے دے کہ خرچ کرے،یااپنی حاجتوں میں اٹھا،یا ان سے راہِ خدا میں جہاد کر،تو قرض ٹھہرتا ہے اگر شوہر عورت کو دے کہ کپڑے بناکر میرے پاس پہن ہبہ ٹھہرے گا،یونہی طالب علم کو لکڑیاں وغیرہ دیں کہ اپنی کتابوں میں صرف کیجئے ہبہ قرار پائے گا کہ یہاں عرف قاضی تملیك ہے۔عقودالدریہ میں ہے:

دفع الیہ دراھم فقال لہ انفقھا ففعل فھو قرض کما لوقال اصرفھا الٰی حوائجک[3]۔

ایك نے دوسرے کو کچھ دراہم دئے کہ خرچ کرو تو اس سے لے کر خرچ کرلئے تو یہ قرض قرار پائے گا جیسے کوئی یوں کہے کہ یہ اپنی ضروریات میں صرف کرو(ت)

عالمگیریہ میں ہے:

رجل قال لاٰخر خذ ھذا المال واغزفی سبیل اﷲ عزو علا فھو قرض کذافی الظہیریۃ[4]۔

اگر یوں کہا یہ مال لو اور فی سبیل اللہ  جہاد کرو،تو یہ قرض شمار ہوگا،ظہیریہ میں یونہی ہے(ت)

ردالمحتار میں ہے:

اعطی لزوجتہ دنانیر لتتخذبھا ثیابا وتلبسھا عندہ فدفعتھا معاملۃ فھی لھا قنیۃ[5]۔

خاوند نے بیوی کو کچھ دینار دئے کہ وہ کپڑا لے کر گھر میں لباس کے طور پہنے تو بیوی نے وہ دینار آگے معاملہ کے طور پر کسی کو دے دئے تو بیوی کو اختیار ہے،قنیہ(ت)

ہندیہ میں ہے:

 



[1]    الفتاوٰی الخیریہ کتاب الھبۃ دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۱۱

   [2] فتاوٰی ظہیریۃ

   [3] العقودالدریۃ تنقیح الفتاوی الحامدیۃ کتاب الھبۃ تاجران کتب ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۹۱

   [4] الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الھبۃ الباب الاول نوانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۳۷۵

   [5] ردالمحتار کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت۴/ ۵۰۹



Total Pages: 201

Go To