Book Name:Fatawa Razawiyya jild 16

 

 

 

رسالہ

التحریر الجید فی حق المسجد ۱۳۱۵ھ

(مسجد کے حق میں عمدہ تحریر)

 

بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم ط

مسئلہ۱۳۴: بنگال ضلع نواکھالی مقام ہتیامرسلہ مولوی عباس علی عرف مولوی عبدالسلام صاحب                 ۲۱ذوالحجۃ الحرام ۱۳۱۵ہجری قدسیہ۔

کیافرماتے ہیں علمائے دین وفضلائے شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسجد کی چیزیں فروخت کرنا جائز ہوگا یانہیں؟

الجواب:

مسجد کی چیزیں اس کے اجزاء ہیں،یا آلات یا اوقاف یا زوائد،اجزاء یعنی زمین و عمارت قائمہ کی بیع تو کسی حال ممکن نہیں مگر جب مسجد معاذاﷲ ویران مطلق ہوجائے اور اس کی آبادی کی کوئی شکل نہ رہے تو ایك روایت میں باذن قاضیِ شرع حاکم اسلام اس کا عملہ بیچ کر دوسری مسجد میں صرف کرسکتے ہیں،مواضع ضرورت میں اس روایت پر عمل جائز ہے۔

فی الدرالمختار لوخرب ماحولہ واستغنی عنہ یبقی مسجدا عند الامام

درمختار میں ہے اگر مسجد کا گردو پیش ویران ہوگیا اور مسجد کی ضرورت نہیں رہی تب بھی امام اعظم ابوحنیفہ

 


 

 



Total Pages: 631

Go To