Book Name:Fatawa Razawiyya jild 16

ش:     علّامہ محمد امین ابن عابدین الشامی صاحب ردالمحتار  
ط:        علّامہ سید احمد الطحطاوی صاحب حاشیۃ الدرالمختار وحاشیہ مراقی الفلاح
الدر:   الدرالمختار،علامہ محمد علاء الدین الحصکفی
الدرر:             الدرر شرح الغرر،ملّاخسر وعلّامہ محمد بن فراموز
بحر:     البحرالرائق،علّامہ زین الدین ابن نجیم
ہندیہ: فتاوٰی عالمگیری،جماعت علمائے احناف
نہر:      النہر الفائق،سراج الدین عمر بن تمیم
فتح:     فتح القدیر،علّامہ کمال الدین ابن ہمام
غنیہ:    غنیۃ المستملی،علّامہ محمد ابراہیم بن محمد الحلبی
حلیہ:    حلیۃ المحلّی،ابن امیر الحاج

حَمد بَارِیْ تعالٰی

اَلْحَمْدُ لِلْمُتَوَحِّدٖ

بِجَلَالِہِ الْمُتَفَرِّدٖ

وَصَلٰوتُہ دَوْمًا عَلٰی

خَیْرِ الْاَنَامِ مُحَمَّدٖ

حضرت رضابریلوی

اس خداۓ یکتا کی حمد وثنا

جو اپنے جلال میں یکتا ویگانہ ہے

تمام مخلوق میں سب سے اعلٰی انسان محمد (صَلَّی اللہُ تعالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ)

پر خدا کی رحمت ہمیشہ ہمیش نازل ہوتی رہے!

بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم

کتاب الشرکۃ

(احکام شرکت کا بیان)

مسئلہ ۱:              ۱۶جمادی الآخر ۱۳۳۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہمارے دیار میں دستور ہے کہ پاٹ سن کی ڈھیر علیحدہ علیحدہ پانی میں بھگوتے ہیں، امسال کنوار کے مہینہ میں بہت سخت طوفان اور بارش کے سبب سے سب کے ڈھیر کو اکٹھا کرڈالا،بعدہ اکثر نے نہیں لیا بعض نے اس مال کو قبض کیا اور انتظام دے کر طیار کیا اب قبض کرنے والے بعض ان اکثر کو کہتے ہیں تمہارا جتنا ہولے لو،وہ لوگ کہتے ہیں جب ہمارا مال کا کوئی شناخت نہیں ہم نہیں لیتے،اب قبض کرنے والے لوگ خود خرچ کریں یا فقرا ء اور مساکین کو تقسیم کردیں اور قبض کرنے والے پر حلال ہوتو فقراء اور غنا ہونے میں برابر ہے یاتفاوت ہے؟

الجواب:

جب وہ لوگ نہیں لیتے تو قابضین صرف اپنا حصہ لے لیں باقی فقراء پر تصدق کردیں،ان میں اگر کوئی فقیر ہے تو اسے بھی دے سکتے ہیں،واﷲ تعالٰی  اعلم۔

مسئلہ۲:                   از کوہ نینی تال                            ۱۲جمادی الاول ۱۳۰۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ محمود بیگ و عبدالغفور بیگ دو بھائیوں کی دکان کوہِ نینی تال پر تھی،دونوں نے مال واسبابِ دکان اپنے باپ کے ترکہ سے پایا اور دونوں یکجا کارکن رہے اور یکجا ان کا خوردو نوش تھا،کوئی غیریت کسی بات میں نہ تھی،محمود بیگ مع اپنی والدہ ولایتی بیگم کے آمدنی دکان سے چھ سوروپے حج کو گیا اور سب سامان دکان عبدالغفور بیگ کے سپرد کرگیا،بعد ان کی واپسی کے پھر عبدالغفور بیگ اسی آمدنی سے تین سوروپے کر لے کر حج کو گیا اوراپنی زوجہ امراؤ بیگم اور ایك لڑکا یکما ہہ عبدالشکور اپنی والدہ اور بھائی کے پاس چھوڑگیا،راستہ میں مقام احمد آباد میں اس کی طبیعت بگڑی،کل اسباب اسٹیشن پولیس میں داخل کرکے محمود بیگ کو تار دیا،وہ فورًا روانہ ہوا،وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ عبدالغفور بیگ نے انتقال کیا،وہ روپیہ اور اسباب جو اسٹیشن میں تھامحمود بیگ واپس لایا،اس صورت میں اس روپے کی نسبت کیا حکم ہے؟یہ صرف محمود بیگ کو ملے گا یا وارثان عبدالغفور بیگ بھی اس سے حصہ پائیں گے اور کیونکر پائیں گے؟ بینوا توجروا(بیان کیجئے اجر پائیے۔ت)

الجواب:

 



Total Pages: 201

Go To