Book Name:Fatawa Razawiyya jild 16

متولی سے ولایت وقف بطور وجوب واپس لی جائیگی اگرچہ خود واقف ہو جبکہ وہ امین نہ ہو یا عاجزہو یا اس سے کوئی فسق شراب نوشی وغیرہ کی مانند ظاہرہو(جب واقف کا حال یہ ہے) تو غیر واقف سے بدرجہ اولٰی ولایت وقف صورت مذکورہ میں واپس لینا واجب ہوگا،فتح۔(ت)

لہذا وصیت پر عمل نہیں بلکہ خاندان واقف سے کسی صالح متدین ہوشیار کارگزار کو متولی کیا جائے۔واﷲ تعالٰی  اعلم۔

مسئلہ۳۵۹:             مولوی حشمت علی ساکن گڈھیا                  ۲/رجب المرجب ۱۳۳۱ھ

کیاہندو وغیرہ کفار متولی مسجد وغیرہ اوقاف ہوسکتے ہیں؟ اگر نہیں توعالمگیری کی اس عبارت ولایشترط الحریۃ والاسلام [1] الخ (اس میں حریت واسلام شرط نہیں الخ۔ت)کا کیا مطلب لیا جائیگا اور ایك ہندو مسجد کا حوض اپنے روپے سے بناناچاہتا ہے۔بینواتوجروا۔

الجواب:

فقیر نے یہاں حاشیہ ردالمحتار میں لکھا:

اقول:وباﷲ التوفیق عدم اشتراط للصحۃ لا یستلزم عدم اشتراطہ للحل وقدتقدم فی کتاب الزکوٰۃ باب العاشر تحریم جعل کافر عاشر ا لان فیہ تعظیمہ وھو حرام وعن شرح السیر الکبیر ان امیر المؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکتب الی سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہلاتتخذ احدامن المشرکین کاتباعلی المسلمین قال وبہ ناخذ لقولہ تعالٰی  لا تتخذوابطانۃ من دونکم ویأتی فی الاضحیۃ کرہ ذبح الکتابی وتعلیلہ بانہ لاینبغی ان یستعان بالکافر فی امور الدین وقد صح عن النبی صَلَّی اللہُ تعالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَانا لانستعین بمشرك وقد علم تحریم تولیۃ الخائن وھذاربنا عَزَّ وَجَلَّ  یقوللا یالونکم خبالاواﷲ الموفق [2]              اھ ماکتبت علیہ۔

میں اﷲ تعالٰی  کی توفیق سے کہتا ہوں کہ صحت کے لئے شرط نہ ہونا حل کے لئے شرط نہ ہونے کو مستلزم نہیں اور کتاب الزکوٰۃ باب العاشر میں گزرچکا ہے کہ کافر کو عاشر مقرر کرنا حرام ہے کیونکہ اسے عاشر بنانے میں اس کی تعظیم ہے اور کافر کی تعظیم حرام ہے، سیر کبیر کی شرح سے منقول ہے کہ امیر المومنین(عمر)رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو لکھا کہ مسلمانوں کے معاملات کیلئے کسی مشرك کو کاتب مت بنانا اور شارح سیر کبیر نے کہا کہ ہم اسی کو اخذ کرتے ہیں بدلیل اس ارشاد الٰہی کہ"(اے ایمان والو!)غیروں کو اپنا رازدار مت بناؤ"۔ کتاب الاضحیہ میں آرہا ہے کہ کتابی کا ذبیحہ مکروہ ہے اور اس کی علت یہ بیان کی گئی کہ امور دینیہ میں کافر سے مدد نہیں مانگنی چاہئے،اور حضور عَلَيْهِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام سے منقول یہ حدیث مرتبہ صحت کو پہنچ چکی ہے کہ بیشك ہم مشرك سے مدد نہیں طلب کرتے،اور تحقیق خائن کو متولی بنانے کی حرمت معلوم ہوچکی ہے اور ہمارا رب عَزَّ وَجَلَّ  یہ ارشاد فرماتا ہے کہ"وہ تمہاری برائی میں کمی نہیں کرتے"اور اﷲ تعالٰی  ہی توفیق عطا فرمانے والا ہے۔ردالمحتار پر میراحاشیہ ختم ہوا۔(ت)

اس سے حکم مسئلہ واضح ہوگیا کہ کافر کو متولی کیا جائے تو ہوجائے گا مگر اسے متولی کرنا،کوئی امردینی اس کو اختیار میں دینا حرام ہے اور اسے معزول کرنا واجب،نہ کہ خاص مسجد پر کہ اعظم اوقاف دینیہ ہے؎

مؤذن گریباں گرفتش کہ ہین سگ ومسجد اے فارغ از عقل ودیں(مؤذن نے اس(بے دین)کا گریبان پکڑا کہ خبردار!کتے اور مسجد کا کیا تعلق اے عقل اور دین نہ رکھنے والے۔ت)

ہندو سے کسی کار دینی میں مدد نہ لی جائے گی وہ اس میں مسجد ومسلمانان پر اپنا احسان سمجھے گا۔اللّٰھم لاتجعل لفاجرعلی یدًا [3](اے اللہ  ! مجھ پر کسی فاجر کا احسان مت رکھ۔ت)دعائے ماثورہ ہے،واﷲ تعالٰی  اعلم۔

مسئلہ ۳۶۰ تا ۳۶۵:                            ازمراد آباد بتوسط حاجی امیر اللہ  صاحب                      ۱۶/ذی الحجہ ۱۳۳۱ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ:

(۱)زید ایك مسجد کا جس کی آمدنی مستقل زائد از بیس روپے ماہوار ہے مدت سے متولی ہے،مسجد میں قطعی بندوبست نماز کا بغیر صلوٰۃ جمعہ نہیں،جس کا دل چاہا خواہ فاسق معلن ہو یا بے علم اس نے امامت کرلی،اور اکثر اوقات نزاع وفساد دربارہ امامت ووقت رہتا ہے،متولی مذکور صراحۃً وکنایۃً ان مکروہات کے انسداد کے واسطے فہمائش منجانب مصلیان ہوئی بھی تو قطعی خیال نہ کیا،زیادہ سے زیادہ مسجد کے خرچ میں درمیان پانچ یا چھ روپیہ ماہوار کے آتا ہے،علاوہ اس کے مسجد کی خدمت دربارہ صفائی بھی کماحقہ نہیں ہوتی بلکہ پانی سقایہ ونیز اس کا سرما میں گرم ہونا بیشتر چندہ سے ہوتا ہے۔پس ایسی حالت میں متولی مذکور قابل رہنے کے ہے یانہیں؟

(۲)مسجد کی آمدنی کا روپیہ کس شخص کوخواہ متولی ہو یا دیگر اپنے خرچ میں لانا جائزہے یانہیں؟

(۳)جس مسجد کی آمدنی اتنی معقول ہو اس میں اگر دوسرا شخص بطور چندہ یااپنی طرف سے مسجد کی خدمت کرے تو وہ ماجور ہوگا یانہیں اور مسجد اس چندہ کو شرعًا قبول کرسکتی ہے یانہیں؟

(۴)اگر متولی لطائف الحیل سے ضروریات مسجد کو ٹال دے یعنی نماز وامامت اور باوجود ضروریات دین اور نیز فہمائش کے مسجد کی خدمت کماحقہ ادا نہ کرے نہ خود امامت کرے بلکہ دن رات نفسانی ہو اوہوس میں مشغول رہے اور اسی بناء پر امامت سے اعراض کرے تو اس کا کیاحکم ہے و شرع شریف کے نزدیك ایسا متولی قابل رکھنے کے ہے یانہیں؟

 

(۵)محض خالصًا لوجہ اللہ  والناس جواب ہونا چاہئے انہیں صورتوں میں جب کہ امام مقتدیوں سے ضروریات شرعیہ میں ہر طرح سے کم ہے اور پھر بھی امام بنا ہے تو علاوہ نماز خراب ہونے کے متولی بھی اس گناہ میں ماخوذ ہوگا یانہیں؟اور اول مقتدیوں کی نماز جو اس امام سے علم وفضل میں زائد ہیں کس درجہ تك ناقص ہوگی یا قطعی نہ ہوگی؟

(۶)اگر کوئی شخص شرارتًا وباغوائے متولی قبروں پر مع جوتیاں چڑھتا ہو اور ہانڈی کا دھوون،پان کی اگال،استنجا قبروں پر کرتا ہو تاکہ اوروں کو جو اس شرارت سے روکتے ہیں ایذا ہوتو ایسے شخص اور متولی کے واسطے کیا حکم ہے؟

الجواب:

(۱)جب کہ مسجد کی آمدنی بیس۲۰ روپیہ ماہوار سے زائد ہے اور متولی صرف پانچ چھ روپے خرچ کرتا ہے باقی کا پتا نہیں دیتا اور مسجد کی ضروریات مثل صفائی وغیرہ معطل رہتے ہیں یا چندہ سے ہوتے ہیں تو اسکا ظاہر حال خیانت ہے اگروجہ معقول وحساب صحیح پیش نہ کرے معزول کرنا لازم ہے۔درمختار میں ہے:

 



[1]                            فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الخامس فی ولایۃ الوقف نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۰۸

[2]                            جدالممتار علٰی ردالمحتار

[3]                          اتحاف السادۃ المتقین کتاب المحبۃ بیان حقیقۃ المحبۃ الخ دارالفکر بیروت ۹/ ۵۵۴



Total Pages: 201

Go To