Book Name:Fatawa Razawiyya jild 16

 

 

 

 

رسالہ

جوالُ العلوّ لتبیّن الخلو ۱۳۳۶ھ

(مسئلہ خلو کی وضاحت کے لئے بُلندی کی گردش)

 

مسئلہ۶۹تا۷۳: ازقصبہ لاہر پور ضلع سیتاپور بمکان سید شاہ ولایت احمد صاحب مرسلہ وجد الحسن صاحب ۲۰ذی الحجہ ۱۳۳۶ھ

(۱)اوقاف میں کسی شخص کو کچھ اراضی بطور خلو جس کا ذکر شامی ج ۴کتاب البیوع بحث خلوالحوانیت میں ہے زرپیشگی لے کر اس شرط پر دینا کہ وہ اجر مثل سال بسال اپنے زر پیشگی میں محسوب کرتارہے جائز ہے یاناجائز،اور واضح رہے کہ اس حصہ اراضی موقوفہ کا لگان سالانہ جس موقوف علیہ کے واسطے مخصوص ہے اس نےا پنی ضرورت کے واسطے زر پیشگی لیا ہے اور اسی نے زر پیشگی لینے والے سے معاملت خلو کی ہے اور اس موقوف علیہ کو اس حصہ موقوفہ پر حق متولیانہ بھی حاصل ہے۔

(۲)صاحب خلو کو یعنی جس کو ایسی اراضی دی گئی ہو اراضی کالگان یعنی اجر مثل ادا کرکے جو منافع اس اجر مثل سے زائد ہو،لینا درست ہے یانہیں؟

(۳)اگرصاحب خلو خود اپنی کاشت کرکے یا اپنی کوشش سے اجر مثل کی آمدنی سے زائد آمدنی اراضی مذکور کے


 

 



Total Pages: 631

Go To