Book Name:Fatawa Razawiyya jild 16

والی تھی اٹھادی اور جو بات غلط باور کرائی تھی حق وانصاف سے بدلوادی،والامر بیداﷲ ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ(معاملہ اﷲ تعالٰی  کے دست قدرت میں ہے لاحول ولاقوۃ الا باﷲ۔ت)میں ان صاحبوں خصوصًا اپنے قدیمی دوست عالم کو اللہ  عزجلالہ کی پناہ دیتا ہوں اس سے کہ انہیں بات کی پچ الٹی راہ دکھائے معاذ اﷲ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْاِثْمِ "[1] (اسے اور ضد چڑھے گناہ کی۔ت)کی شامت آڑے آئے، اور اگر خداناکردہ ایسا ہوتو علماء پر فرض ہے کہ اس کارروائی کا خلاف شرع ومضر اسلام ہونا دلائل ساطعہ سے واضح کریں اوہام خلاف کا رد بالغ فرمائیں،اسلامی اخباروں پر فرض ہے کہ ان تحریرات علماء کو نہایت کثرت واہتمام سے شائع کریں،ایك ایك گوشہ میں ان کی آواز پہنچائیں،اسلامی انجمنوں پر فرض ہے کہ ان کی تائید میں جلسے کریں بکثرت ریزولیوشن پاس کریں گورنمنٹ کو ان کی اطلاعیں دیں،مسلمان امراء وحکام واہل وجاہت پر فرض ہے کہ گورنمنٹ کو اس طرف پے در پے توجہ دلائیں،مسلمان قانون پیشہ پر فرض ہے کہ اس کے استغاثے منتھی کوپہنچائیں غرض ہر طبقہ کے مسلمانوں پر فرض ہے کہ اپنے منصب کے لائق اس میں سعی جمیل بجالائیں،اور بے تکان اتھك جائز کوششیں کرکے اپنی مساجد کو بےحرمتی سے بچائیں،ایسا کروگے تو ضرور حضرت عزت عزجلالہ سے ان شاء اﷲ القدیر المستعان کامیاب ہوگےدنیا میں سر خرو آخرت میں مثاب ہوگے کہ وہ فرماتا ہے:

" وَ كَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ(۴۷) "[2]

"اِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَۙ(۱۲۰) "[3]

اورہمارے ذمہ کرم پر ہے مسلمانوں کی مدد فرمانا،بیشك اللہ  نیکوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔(ت)

والحمد ﷲ رب العٰلمین،وصلی اﷲ وبارك وسلم علٰی سیدنا ومولٰنا وملجأنا وماوٰنا محمد واٰلہ وصحبہ وابنہ وحزبہ اجمعین اٰمین،واﷲ تعالٰی  اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم،کتبہ عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی عفی عنہ بمحمد النبی الامی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

مسئلہ ۱۸۶:                              مسئولہ مولوی نور احمد صاحب ہزار وی از کانپور مدرسۃ البنات

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد اہل محلہ پر تنگ ہے اور اس کے گرداگردجگہ نہیں مل سکتی یا مل سکتی ہے لیکن لوگوں میں اس قدر طاقت نہیں کہ وہ اتنا روپیہ دے سکیں اور پھر مسجد بنوادیں کیونکہ روپیہ بہت خرچ ہوتا ہے اور وہ طاقت نہیں رکھتے اوروہ دوسری جگہ مسجد وسیع تیار کرسکتے ہیں بشرطیکہ پہلی مسجد کی لکڑی وغیرہ دوسری مسجد میں لگادیں وگرنہ دوسری بھی بمشکل تمام نہیں

 

ہوسکتی،کیا اس صورت میں اہل محلہ دوسری جگہ نئی مسجد اپنے محلہ میں پہلی مسجد کے سامان سے اور زوائد روپیہ لگا کر بناسکتے ہیں یا نہ؟اگر بناسکتے ہیں تو پہلی مسجد کی جگہ کی کس طور سے حفاظت رکھی جائے؟مدلل و مبرہن طور پر تحریر و بیان فرمایا جائے۔

الجواب:مسجد جب تك مسجد ہے قرآن عظیم کی نص قطعی،ہمارے ائمہ کرام کے اجماع سے اسے ویران کرنا سخت حرام وکبیرہ ہے، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  فرماتا ہے:

" وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَاؕ-اُولٰٓىٕكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآىٕفِیْنَ۬ؕ-لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ(۱۱۴)"[4]

اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ  کی مسجدوں کو ان میں نام الٰہی کی یاد سے روکے اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے، ایسوں کو ان میں جانا ہی نہ پہنچتا تھا مگر ڈرتے ہوئے،ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کےلئے آخرت میں بڑا عذاب۔

ہمارے ائمہ کرام نے بلا خلاف تصریح فرمائی کہ مسجد اگر تنگی کرے اور اس کے قریب اگر کسی شخص کی زمین ہو اور وہ دینے پر راضی نہ ہوتو بحکم سلطان بے اس کی مرضی کے لے کر مسجد میں داخل کر لی جائے اور مالك کو بازار کے بھاؤ سے قیمت دے دی جائے کما نص علیہ فی البزازیۃ والفتح والبحر والدروغیرہا (جیسا کہ اس پر بزازیہ،فتح،بحر اور دروغیرہ میں نص فرمائی گئی۔ت)اگر تنگی کی وجہ سے یہ مسجد ویران کرکے دوسری جگہ بنالینا جائز ہوتا تو جبر ہر گز حلال نہ ہوتا اور وہ صورت کہ سوال میں فرض کی گئی اس کی بنا خود ہی متزلزل ہے جب وہ دوسری مسجد اس سے بڑی بناسکتے ہیں اگرچہ اس میں اس کے عملے سے بھی مدد لینا چاہتے ہیں تو مہربانی فرماکر بڑی نہیں ایك چھوٹی مسجد دوسری بنالیں کہ دونوں مسجدیں مل کر حاجت پوری کردیں،کس نے واجب کیا ہے کہ سب ایك ہی مسجد میں نماز پڑھیں،غرض جو اللہ  سے ڈرے اور اس کی حرمتوں کی تعظیم کرے اللہ  اس کے لئے آسانی کی راہ نکال دیتا ہے اور جو بے پروائی کرے تو اللہ  تمام جہان سے بے پروا ہے،

" وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ(۲) "[5]

جو اﷲ تعالٰی  سے ڈرے تو وہ اس کے لئے راہ بنادیتا ہے۔

" وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ(۲۴)"[6]۔واﷲ تعالٰی  اعلم۔

 



[1]                القرآن الکریم ۲/ ۲۰۶

[2]                       القرآن الکریم ۳۰ /۴۷

[3]                        القرآن الکریم ۹/ ۱۲۰ و ۱۱ /۱۱۵ و ۲ ۱/۹۰

[4]                                  القرآن الکریم ۲/ ۱۱۴

[5]                              القرآن الکریم  ۶۵ /۲

[6]                          القرآن الکریم  ۵۷/ ۲۴



Total Pages: 201

Go To