Book Name:Fatawa Razawiyya jild 16

قال فی ردالمحتار یقع کثیرافی الفلاحین ونحوھم ان احدھم یموت فتقوم اولادہ علی ترکتہ بلاقسمۃ ویعملون فیہا من حرث وزراعۃ وشراء واستدانۃ و نحو ذٰلك وتارۃ یکون کبیرھم ھوالذی یتولی مھماتھم ویعملون عندہ بامرہ وکل ذٰلك علی وجہ الاطلاق والتفویض [1] الخ فلاشك فی تحقق معنی التوکیل۔

ردالمحتار میں فرمایا:کاشتکار لوگوں میں جیسے یہ معاملہ عام ہے کہ جب ان شرکاء میں سے کوئی فوت ہوجاتا ہے تو اس کی اولاد تقسیم کے بغیر ہی اپنے والد کے ترکہ پر قائم مقام بن جاتی ہے اور کھیتی باڑی اور خرید وفروخت اورلین دین جیسے امور سرانجام دیتی رہتی ہے اور کبھی ان میں سے بڑا وہ خود ہی ضروری امور کا متولی بن جاتا ہے اور چھوٹے اس کے کہنے پر عمل کرتے رہتے ہیں جبکہ یہ تمام کارروائی بطور اجازت اور تفویض ہوتی ہے الخ،تو اس میں وکالت کے معنی پائے جانے میں شك نہیں ہے(ت)

خصوصًا صورت مستفسرہ میں توصراحۃً بقیہ شرکاء کی طرف سے عمرو کو تفویض دکان واجازت اعمال تجارت ہوئی یہ معنے وکالت ہیں اور اس میں یہ شرط قرار پانا کہ جومال بکے عمرو اکنی روپیہ دستور لے اگرچہ شرط فاسد ہے کہ شریك کو مال مشترك میں تصرف کرنے کے لئے اجیر کرنا اصلًا جائز نہیں،

وھذا باجماع من ائمتنا خلافاللامام الشافعی رضی اﷲتعالٰی  عنہم ثم ھل ھو باطل ام فاسد ذکرناہ فیما علقناہ علی ردالمحتار،قال فی الدرالمختار لواستأجرہ لحمل طعام مشترك بینھما فلا اجرلہ لایعمل شیئا لشریکہ الاویقع بعضہ لنفسہ فلایستحق الاجر [2]  اھ وقال الامام الاتقانی فی غایۃ البیان قال الکرخی قال محمد وکل شیئ استأجر احدھما من صاحبہ ممایکون عملافانہ لایجوز وان عملہ فلا اجرلہ وکل شیئ لیس یکون عملا استأجرہ احدھما من صاحبہ فھو جائز وقال شمس الائمۃ البیہقی فی الکفایۃ والاصل ان فی کل موضع لا یستحق الاجر الا بایقاع عمل فی العین المشترك لا یجوزلانہ لا یمکن کما فی نقل الطعام المشترك بنفسہ او احبتہ اوغلامہ وکل ما یستحق بدون ایقاع عمل فی المشترك یجوز فانہ تجب الاجرۃ بوضع العین فی الدار والسفینۃ والرحی لا بایقاع عمل اھ [3]

اس پر ہمارے ائمہ کرام کا اجماع ہے بخلاف امام شافعی رضی اﷲ تعالٰی  عنہم،پھر یہ بحث کہ کیا وہ باطل ہے یافاسد ہے، تو میں نے اس کو ردالمحتار پراپنے حاشیہ میں ذکر کیا ہے، در مختار میں فرمایاکہ اگر ایك شریك مشترکہ سامان کو اٹھانے کے لئے اجیر بنا تو اس کو اجرت نہ ملے گی کیونکہ جو کچھ اس نے اٹھایا اس میں شریك کے ساتھ اس کا اپنا حصہ بھی تھا لہذااس اشتراك کی بنا پر وہ اجرت کا مستحق نہ ہوا اھ۔اور امام اتقانی نے غایۃ البیان میں فرمایا کہ امام کرخی نے کہا کہ امام محمد نے فرمایا کہ شریکین میں سے اگر ایك مشترکہ چیز کے کسی عمل میں اجیر بناتو یہ جائز نہیں اگر اس نے ایسا کیا تو کوئی اجرت نہ پائے گا،اور ایسی مشترکہ چیز جو عمل نہ بنے اس کو اگر شریك اجرت پرلیتا ہے تو جائز ہے،اور شمس الائمہ بیہقی  نے کفایہ میں فرمایا کہ قاعدہ یہ ہے کہ ایسا مقام جہاں صرف عمل کرنے پر ہی اجرت کا مستحق بنے تو وہاں کسی شریك کا اجیر بننا جائز نہیں کیونکہ مشترکہ چیز میں یہ ممکن نہیں جیسا کہ مشترکہ طعام کو خود شریك یا اس کا قریبی یا اس کا غلام منتقل کرنے کا اجیر بنے تو ناجائز ہے،اور ایسا مقام جہاں مشترك چیز میں بغیر عمل اجرت کا مستحق بنے وہاں جائز ہے کیونکہ عین چیز کو گھر میں یا کشتی یا چکی کے مکان میں کرایہ پر رکھ چھوڑنے پر اجرت واجب ہوتی ہے،عمل پر واجب نہیں ہوتی۔(ت)

مگر وکالت شروط فاسدہ سے فاسد نہیں ہوتی،بزازیہ میں ہے:

الوکالۃ لاتبطل بالشروط الفاسدۃ ای شرط کان[4]۔

وکالت فاسد شرطوں سے فاسد نہیں ہوتی جو بھی شرط ہو۔(ت)

درمختار میں ہے:

مایصح ولایبطل بالشرط الفاسد الوکالۃالخ[5]۔

جو چیز صحیح قرار پائے اور فاسد شرطوں سے فاسد نہ ہو وہ وکالت ہے(ت)

تو وہ شرط ہی فاسد و باطل قرار پائی اور وکالت عمرو صحیح وتام رہی، عالمگیریہ میں ہے:

ولوقال اشترجاریۃ بالف درھم لك علی شرائك درھم فحینئذ یصیر وکیلا ویکون الوکیل اجر مثلہ ولایزاد علی درھم[6]۔

اگر کہا کہ ہزار درہم سے لونڈی خرید لاؤ اور خریداری پر تجھے ایك درہم دوں گا تو ایسی صورت میں وہ شخص وکیل قرار پائے گا اور وکیل عمل پر اجرت مثل کا مستحق ہوگا جو ایك درہم سے زائد نہ ہوگی(ت)

اور وکیل بالشراء قرضوں خرید سکتا ہے،

کما نصواعلیہ فی غیر ما مسئلۃ،و فی الخانیۃ الوکیل بالشراء اذااشتری بالنسیئۃ فمات الوکیل حل علیہ الثمن ویبقی الاجل فی حق المؤکل[7]۔ فی الدرالمختار صح بالنسیئۃ ان التوکیل بالبیع للتجارۃ وان کان للحاجۃ لایجوز[8]۔

جیسا کہ بہت سے مسائل میں فقہاء کرام نے نص فرمائی ہے،اور خانیہ میں ہے کہ خریداری کے وکیل نے اگر ادھار خرید کی ہوتو وکیل کے فوت ہونے کی صورت میں موکل پر رقم کی ادائیگی آئے گی اورمدت ادھار اس کے حق میں منتقل ہوجائے گی۔(ت)

بلکہ وکیل تجارت کو موافق معمول تجارقرضوں بیچنے کا بھی اختیار،درمختار میں ہے اگر تجارت کے طور پر ادھار فروخت کرے تو جائز ہے اگر اپنی حاجت کی وجہ سے ادھار کیا تو ناجائز ہے(ت)

 



[1]    رد المحتا ر کتا ب الشرکۃ دار احیا ء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۳۸

   [2]  درمختار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۷۹

[3]     غایۃ البیان للاتقانی

[4]    الفتاوٰی البزازیۃ علٰی ہامش الفتاوی الہندیۃ کتاب الوکالۃ الفصل الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۴۶۱

[5]    درمختار کتاب البیوع باب المتفرقات مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۵۳و۵۴

[6]    الفتاوی الہندیۃ کتاب الوکالۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۵۶۶

[7]    فتاوٰی قاضی خاں کتاب الوکالۃ نولکشور لکھنؤ ۳/ ۵۷۶

[8]    درمختار کتاب الشہادات باب الوکالۃ بالبیع والشراء مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۰۷



Total Pages: 201

Go To