Book Name:Fatawa Razawiyya jild 15

اس میں ہے کہ میری اور میرے آباء کرام کی آبروئیں عزت محمدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے لئے سپرر ہیں، اللھم اٰمین!

تذکارات

(۱)آپ جانتے ہیں اور زمانہ پر روشن ہے کہ بفضلہٖ سالہا سال سے کس قدر رسائل کثیرہ عزیزہ آپ اور آپ کے اکابر جناب مولوی گنگوہی صاحب وغیرہ کے رد میں ادھر سے شائع ہوئے اور بحمدہٖ تعالٰی ہمیشہ لاجواب رہے۔

(۲)وہ اورآپ صراحۃ مناظرہ سے استعفاء دے چکے

(۳)سوالات گئے جواب نہ ملے،رسائل بھیجے داخل دفتر ہوئے،رجسٹریاں پہنچیں منکر ہوکر واپس فرمادیں،

(۴)اخیر تدبیر کو دیوبندجلسہ میں ان رئیسوں کے ذریعہ سے جن کا جناب پر بارہے تحریك کی،اس پر بھی آپ ساکت ہی

رہے۔

(۵)رئیسوں کا دباؤتھا،ناچار دفعہ وقتی کو وہی چانپوری صاحب آپ کے وکیل بنے،فقیر نے اپنے خط وقلم سے جناب کو رجسٹری شدہ کارڈ بھیجا۔پھر کیا آپ مناظرہ معلومہ پر آمادہ ہوئے،کیا آپ نے چاند پوری صاحب کو اپنا وکیل مطلق کیا؟ سات۷ مہینے سے زائد گزر گئے آپ نے اس کا بھی جواب نہ دیا۔ظاہر ہے کہ اگر آپ واقعی آمادہ ہوئے ہوتے۔واقعی آپ نے وکیل کیا ہوتا تو"ہاں"لکھ دینا دشوار نہ ہوتا۔مردانہ وار اقرار سے فرار نہ ہوتا۔یہ ہے وہ فرضی،لایعنی،غیر واقع،بے بہیقی معاہدہ جس سے عدول کا ادھر الزام لگایا جاتاہے۔سبحان اللہ! اپنے وکیل بالادعا کی وکالت آپ نہ مانیں اور عدول جانب خصم سے جانیں۔ہاں جناب تو نہ بولے،سولہ۱۶ دن بعد انھیں آپ کے موکل صاحب نے لب کھولے کہ ہم جو رؤسا کے سامنے اپنے منہ آپ ہی دعوٰی وکالت کرچکے ہیں۔اب جناب تھانوی صاحب سے دریافت کرنا ذلت اور رسوائی،گردن کا طوق،ناپاك چالیں،بے شرمی کے حیلے ہیں (ملاحظہ ہو ان کا شریفانہ مہذب خط مورخہ ۳۰ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۷ ؁ھ)جو ان کی اعلٰی تہذیبوں سے نمونہ خروارے ہے۔یہ خطاب محض اس جرم پر ہیں کہ تھانوی صاحب سے ہماری وکالت کا کیوں استفسار کیا،ان کے قبول وعدوں پر کیوں موقوف رکھا،ہمارا زبانی اعا کیوں نہ مان لیا،جناب تھانوی صاحب لاکھ نہ مانیں ہم جو ان کے وکیل بن بیٹھے ہیں،اب نہ ماننا بے شرمی کا حیلہ ہے،ناپاك چال ہے،ذلت ہے،رسوائی ہے،طوق وبال ہے،جناب تھانوی صاحب! آپ اپنے موکل یعنی خود ساختہ وکیل صاحب کی بابت خود ہی فیصلہ فرماسکتے ہیں،آج تك ایسی وکالت کسی


 

 



Total Pages: 742

Go To