Book Name:Fatawa Razawiyya jild 14

 

 

 

 

 

انفس الفکر فی قربان البقر۱۲۹۸ھ

(گائے کی قربانی کے بارے میں بہترین طریقہ)

 

مسئلہ ۱۸۴: عجیبہ عــــــہ از مرادآباد شوال ۱۲۹۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین مذہب حنفیہ اس مسئلہ میں کہ گاؤ کشی کوئی ایسا امرہے جس کے نہ کرنے سے کوئی شخص دین اسلام سے خارج ہوجاتاہے،یا اگر کوئی معتقد اباحت ذبح ہو مگر کوئی گائے اس نے ذبح نہ کی ہو یا گائے کا گوشت نہ کھایا ہو،ہر چند کہ اکل اس کاجائز جانتاہے،تو اس کے اسلام میں کچھ فرق نہ آئے گا اور وہ کامل مسلمان رہے گا،گاؤ کشی کوئی واجب فعل ہے کہ جس کا تارك گنہ گار ہوتاہے،یا اگر

عــــــہ: اہم وضاحت:(ذلك فضل اﷲ یؤتیہ من یشاء کا نمونہ ومصداق)۱۲۹۸ہجری کا ربع اخیر ہے شوال مکرم کا ماہ منیر ہے،اس لیے خاتمۃ المحققین امام المدققین والد ماجد حضرت مصنف علام مدظلہ وقدس سرہ الشریف کے وصال کو دس مہینے ہوئے ہیں بضرورت انتظام معاش جانب جائداد چند روز ابتدا میں توجہ کرنی ہوئی ہے اس لئے حضرت مصنف مدظلہ اپنے دیہات میں تشریف رکھتے ہیں کہ وہیں یہ سوال پہنچا اس وقت کھیتوں کامعاینہ تھا آدمی نے وہیں یہ سوال پیش کیا،بنگاہ اولین (باقی برصفحہ آئندہ)


 

 



Total Pages: 712

Go To