Book Name:Fatawa Razawiyya jild 14

کافر عــــہ سے خاص ذمی مراد ہے بدلیل قولہ انھم بعقد الذمۃ ولہذا امام اکمل نے عنایہ میں اس کی شرح یوں فرمائی:

وصیۃ المسلم للکافر الذمی وعکسہا جائزۃ [1]۔

مسلمان کا کافر ذمی کے لئے وصیت کرنا اور اس کا عکس جائز ہے.

امام اتقانی نے غایۃ البیان میں فرمایا:

اراد بالکافر الذمی لان الحربی لاتجوز لہ الوصیۃ علی مانبین۔[2]

عبارات ہدایہ میں کافر سے ذمی مراد ہے اس لئے کہ حربی کے لئے وصیت جائز نہیں جیساکہ ہم عنقریب بیان کریں گے۔

ایساہی جوہرہ نیرہ میں ومستصفی میں ہے کفایہ میں فرمایا:

ارادبہ الذمی بدلیل التعلیل وروایۃ الجامع الصغیر ان الوصیۃ لاھل الحرب باطلۃ [3]۔

صاحب ہدایہ نے کافر سے ذمی مراد لیا ایك تو ان کی دلیل ا س پر گواہ ہے کہ فرمایا وہ ذمی ہونے کے سبب معاملات میں مسلمانوں کے برابرہوگئے دوسرے جامع صغیر کی روایت کہ حربیوں کےلئے وصیت باطل ہے۔

اسی کو وافی وکنز وتنویر وغیرہا متون میں یوں تعبیر فرمایا:

یجوز ان یوصی المسلم للذمی و بالعکس [4]۔

جائز ہے کہ مسلمان ذمی کے لئے وصیت کرے اور اس کا عکس بھی ۱۲

تفسیر احمدی میں ہے:

والحاصل ان الایۃ الاولی ان کانت

حاصل یہ ہے کہ پہلی آیت جس میں نیك سلوك کی

 

عــــہ:یہاں سے بعض مفتیان اجہل کی جہالت شدیدہ ظاہر ہوئی جنھوں نے عبارت ہدایہ کو مشرکین ہند پر جمایا طرفہ یہ کہ اپنی ہی نقل کردہ عبارت نہ سوجھی لانہم بعقد الذمۃ سوجھی،کیوں نہیں قصد عوام کو دھوکے دینے کی ٹھہرائی ۱۲۔حشمت علی لکھنوی عفی عنہ۔


 

 



[1] العنایۃ شرح الہدایۃ علی ہامش فتح القدیر کتاب الوصایا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۹/ ۴۵۵

[2] الجوہرۃ النیرۃ(مفہوما) کتاب الوصایا مکتبہ امدادیہ ملتان ۲/ ۴۹۱

[3] الکفایۃ مع فتح القدیر کتاب الوصایا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۹/ ۶۵۵

[4] کنز الدقائق کتاب الوصایا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۴۱۴



Total Pages: 712

Go To