Book Name:Fatawa Razawiyya jild 14

کافرہ ہو جب تك سرکار سے اذن نہ ملے تم میرے پاس نہیں آسکتیں۔حضور میں عرض کی،اس پر آیہ کریمہ اتری کہ ان سے ممانعت نہیں،یہ واقعہ زمانہ صلح ومعاہدہ کاہے خصوصًا یہ توماں کا معاملہ تھا ماں باپ کے لیے مطلقًا ارشاد ہے" وَصَاحِبْہُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوۡفًا ۫ "[1]"دنیوی معاملوں میں ان کے ساتھ اچھی طرح رہ۔ظاہرہے کہ قول امام مجاہد پرتو آیہ کریمہ کو کفار سے تعلق ہی نہیں خاص مسلمانوں کے بارے میں ہے اور نہ اب وہ کسی طرح قابل نسخ،اور قول سوم یعنی ارادہ نساءوصبیان پربھی اگر منسوخ نہ ہو ان دوستان ہنود کو نافع نہیں کہ یہ جن سے وداد واتحاد منا رہے ہیں وہ عورتیں اور بچے نہیں،قول اول پر بھی کہ آیت اہل عہد وذمہ کے لیے ہے،اور یہی قول اکثر جمہور ہے آیہ کریمہ میں نسخ ماننے کی کوئی حاجت نہیں،لاجرم اکثر اہل تاویل اسے محکم مانتے ہیں،


 

 



[1] القرآن الکریم ۳۱/ ۱۵



Total Pages: 712

Go To