Book Name:Fatawa Razawiyya jild 14

موالات کی بحث

 (۷)ترك معاملت کو ترك موالات بنا کر قرآن عظیم کی آیتیں کہ ترك موالات میں ہیں سوجھیں،مگر فتوائے مسٹرگاندھی سے ان سب میں استثنائے مشرکین کی پچر لگالی کہ آیتیں اگرچہ عام ہیں مگر ہندوؤں کے بارے میں نہیں،ہندو تو ہادیان اسلام ہیں،آیتیں صرف نصاری کے بارے میں ہیں اور نہ کل نصاری فقط انگریز،اور انگریز بھی کل تك ان کے مورد نہ تھے حالت حاضرہ سے ہوئے،ایسی ترمیم شریعت وتغییر احکام وتبدیل اسلام کا نام خیرخواہی اسلام رکھا ہے،ترك موالات قرآن عظیم نے ایك دو،دس بیس جگہ تاکید شدید پر اکتفاء نہ فرمائی بلکہ بکثرت جابجا کان کھول کھول کر تعلیم حق سنائی اور اس پر تنبیہ فرما دی کہ:

" قَدْ بَیَّنَّا لَکُمُ الۡاٰیٰتِ اِنۡ کُنۡتُمْ تَعْقِلُوۡنَ﴿۱۱۸"[1]

ہم نے تمھارے لیے آیتیں صاف کھول دی ہیں اگر تمھیں عقل ہو۔

مگر توبہ،کہاں عقل اور کہاں کان،یہ سب تو وداد ہنود پر قربان،لاجرم ان سب سے ہندوؤں کا استثناء کرنے کے لیے بڑے بڑے آزاد لیڈروں نے قرآن عظیم میں تحریفیں کیں،آیات میں پیوند جوڑے،پیش خویش واحد قہار کو اصلاحیں دیں ان کی تفصیل گزارش ہو تو دفتر طویل نگارش ہو۔

آیۃ ممتحنہ کا روشن بیان

ایك آیہ کریمہ کے بیان پر اقتصارکروں کہ وہی ان سب چھوٹے بڑے لیڈروں کی نقل مجلس ہے یعنی کریمہ ممتحنہ لَا یَنْہٰىکُمُ اللہُ ""الایۃ"اس میں اکثر اہل تاویل جن میں سلطان المفسرین سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما بھی ہیں فرماتے ہیں: اس سے مراد بنو خزاعہ ہیں جن سے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ایك مدت تك معاہدہ تھا۔رب عزوجل نے فرمایاان کی مدت عہد تك ان سے بعض نیك سلوك کی تمھیں ممانعت نہیں۔امام مجاہد تلمیذ اکبر حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنھم کہ ان کی تفسیر بھی تفسیر حضرت عبداﷲ بن عباس ہی سمجھی جاتی ہے،فرماتے ہیں:اس سے مراد وہ مسلمان ہیں جنھوں نے مکہ مکرمہ سے ابھی ہجرت نہ کی تھی،رب عزوجل فرماتا ہے ان کے ساتھ نیك سلوك منع نہیں۔بعض مفسرین نے کہا:مراد کافروں کی عورتیں اور بچے ہیں جن میں لڑنے کی قابلیت ہی نہیں۔قول اکثر کی حجت حدیث بخاری ومسلم واحمد وغیرہ ہے کہ سیدتنا اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہماکے پاس ان کی والدہ قتیلہ بحالت کفر آئی اور کچھ ہدایا لائی،انھوں نے نہ اس کے ہدیے قبول کئے نہ آنے دیا کہ تم


 

 



[1] القرآن الکریم ۳/ ۱۱۸



Total Pages: 712

Go To