Book Name:Fatawa Razawiyya jild 14

عاجزین کے ساتھ کچھ مالی سلوك کی رخصت والی آیت سنائیں اور اسے خونخوار مشرکین سخت اعدائے اسلام ومسلمین کے ساتھ اتحاد ووداد بلکہ غلامی وانقیاد کی نہ صرف رخصت بلکہ اعظم فرضیت کی دلیل بنائیں،ان سب کا بیان بعونہ تعالٰی ابھی آتاہے آپ انصاف کرلیں گے کس نے کھینچ تان کی،حاشا نہ صرف کھینچ تان بلکہ کمال جسارت سے احکام الہٰیہ کایا پلٹ کرکے قرآن وحدیث کی عمر بت پرستی پر قربان کی۔

" وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَیَّ مُنۡقَلَبٍ یَّنۡقَلِبُوۡنَ ﴿۲۲۷﴾٪  "[1]

اور اب جاننا چاہتے ہیں ظالم کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔

تعلیم کے  لئے امداد لینا اور لیڈروں کی دینی حالت کہ اسلام ان کو  نہ  جب مد نظر نہ تھا نہ اب ہے:

(۶)اور تعلیم دین کے لئے گورنمنٹ سے امدادقبول کرنا جو مخالف شرع سے مشروط نہ اس کی طرف منجر ہویہ تو نفع بے غائلہ ہے جس کی تحریم پر شرع مطہر سے اصلا کوئی دلیل نہیں۔دین پر قائم رہو مگر دین میں زیادت نہ کرو۔کیا نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وخلفائے راشدین رضی اﷲ تعالٰی عنہم نے سلاطین کفارکے ہدایا قبول نہ فرمائے،جو وجوہ شناعت آپ نے ان مدارس میں لکھیں کہ امور مخالف اسلام حتی کہ توہین حضور سید الانام علیہ ا فضل الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم داخل نصاب ہے بیشك جو اس قسم کے اسکول یا کالج ہوں ان میں نہ فقط اخذا مداد بلکہ تعلیم وتعلم سب حرام قطعی بلکہ مستلزم کفرہے،آپ فرماتے ہیں یہ میں اسلامیہ اسکولوں اور کالجوں کا ذکر کررہاہوں پھر غیر اسلامیہ کاکیا پوچھنا،مگر افسوس اورسخت افسوس یہ کہ آج آپ کو جتنے لیڈر دکھائی دیں گے وہ ان کے بازو اور ان کے ہم زبان عام طورپر انہیں اسکولوں کالجوں کے کاسہ لیس ملیں گے،انھیں سے بڑی بڑی ڈگریاں ایم اے،بی اے کی پائے ہوئے ہوں گے،کیا اس وقت تك ان میں یہ خباثتیں نہ تھیں،ضرور تھیں مگر ان صاحبون کو مقبول اور منظور تھیں،اور اب بھی جو آنکھ کھلی تو صرف ایك گوشہ انگریزوں کی طرف کی اور وہ بھی شریعت پر زیادت کے ساتھ کہ ان سے مجرد معاملت بھی حرام قطعی بلکہ کفر اور مشرکوں کی طرف کی پہلے سے بھی زیادہ پٹ ہوگئی کہ ان سے وداد واتحاد واجب بلکہ ان کی غلامی وانقیاد وفرض انھیں راضی کرلیا تو خدا کور اضی کرلیا تو ثابت ہوا کہ اسلام ان حضرات کو نہ جب مدنظر تھا ورنہ ایسی دین تعلیموں سے بھاگتے،نہ اب مدنظر ہے ورنہ مشرکوں کے اتحاد وانقیاد کے فنتے نہ جاگتے       ع

نہ آغاز بہتر نہ انجام اچھا

لاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔


 

 



[1] القرآن الکریم ۲۶/ ۲۲



Total Pages: 712

Go To