Book Name:Fatawa Razawiyya jild 14

" فَبَشِّرْ عِبَادِ ﴿ۙ۱۷﴾ الَّذِیۡنَ یَسْتَمِعُوۡنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوۡنَ اَحْسَنَہٗ ؕ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ ہَدٰىہُمُ اللہُ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمْ اُولُوا الْاَلْبٰبِ ﴿۱۸"[1]

خوشخبری دو میرے ان بندوں کو جو کان لگا کر بات سنتے پھر سب میں بہتر کی پیروی کرتے ہیں یہی لوگ ہیں جن کواﷲ تعالٰی نے ہدایت فرمائی اور یہی عقل والے ہیں

من وتو کی کیا حقیقت انبیائے کرام علیم الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ معاندین کے چند طریقے رہے ہیں:

اول سرے سے بات نہ سننا کہ:

" لَا تَسْمَعُوۡا لِہٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ الْغَوْا فِیۡہِ لَعَلَّکُمْ تَغْلِبُوۡنَ ﴿۲۶"[2]۔

یہ قرآن سنوہی نہیں اور اس میں بیہودہ غل کرو شاہد تم غالب آؤ۔

دوم سن کر مکابرانہ تکذیب کا منہ کھول دینا کہ:" اِنْ اَنۡتُمْ اِلَّا تَکْذِبُوۡنَ ﴿۱۵"[3] تم تونہیں مگر جھوٹے۔

سوم ہدایت کو معطل بالغرض بتانا کہ:" اِنَّ ہٰذَا لَشَیۡءٌ یُّرَادُ ۚ﴿۶"[4] اس میں تو ضرور کچھ مطلب ہے۔

چہارم حق کا باطل سے معارضہ کرنا:

"  وَ یُجٰدِلُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِالْبٰطِلِ لِیُدْحِضُوۡا بِہِ الْحَقَّ وَ اتَّخَذُوۡۤا اٰیٰتِیۡ وَ مَاۤ اُنۡذِرُوۡا ہُزُوًا ﴿۵۶[5]

کافر باطل کے ساتھ جھگڑتے ہیں کہ اس سے حق کو زائل کردیں اور انھوں نے میری آیتوں اور ڈراؤوں کوہنسی بنالیا ہے۔

مسلمان پر فرض ہے کہ ان سب طُرق سے پر ہیز کرے اور اس پر عامل ہو جو راستہ پہلی آیت بشارت میں اس کے رب نے بتایا ہر تعصب وطرفداری سے خالی الذہن ہو کر کان لگاکر بات سنے اگر انصافا حق پائے اتباع کرے بارگاہ عزت سے ہدایت ودانشمندی کا خطاب ملے ورنہ پھینك دینا توہر وقت اختیار میں ہے واﷲ الھادی وولی الایادی۔

مدارس  کے اقسام اور ان میں امداد لینے کے احکام:

 (۱)۱۰ محرم ۱۳۳۹ھ کی بنارس کچی باغ سے یہ سوال آیا:"مدرسہ اسلامیہ عربیہ


 

 



[1] القرآن الکریم ۳۹/ ۱۸

[2] القرآن الکریم ۴۱/ ۲۶

[3] القرآن الکریم ۳۶/ ۱۵

[4] القرآن الکریم ۳۸/ ۶

[5] القرآن الکریم ۱۸/ ۵۶



Total Pages: 712

Go To