Book Name:Fatawa Razawiyya jild 14

 

 

 

 

رسالہ

رَدُّ الرِّ فضۃ ۱۳۲۰ھ

(تبرائی رافضیوں کا رَد)

 

بسم اﷲ  الرحمن الرحیم

مسئلہ۳۴:                               از سیتا پور مرسلہ جناب حکیم سید محمد مہدی صاحب                        ۲۴ ذیقعدہ۱۳۱۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك بی بی سیّدہ سُنی المذہب نے انتقال کیا اس کے بعض بنی عم رافضی تبرائی ہیں،وہ عصبہ بن کر ورثہ سے ترکہ چاہتے ہیں حالانکہ روافض کے یہاں عصوبت اصلًا نہیں،اس صورت میں وہ مستحق ارث ہو سکتے ہیں یا نہیں؟بینوا تؤجروا۔

الجواب:

الحمد ﷲ الذی ھدانا وکفانا،واواناعن الرفض و الخروج،وکل بلاء نجانا،والصلٰوۃ والسلام علٰی سیدناو مولٰنا و ملجانا و ماوانا محمد واٰلہ و صحبہ الاولین ایماناوالاحسنین احساناوالامکنین ایقانا آمین!

سب حمدیں اس اﷲ تعالٰی کےلئے جس نے ہمیں ہدایت دی اور رفض اور خروج سے کفایت اور پناہ دی اور ہر بلاء سے نجات دی،اور صلٰوۃ و سلام ہو ہمارے آقا،مولٰی،ہمارے ملجا اور ماوٰی محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اور ان کی آل و صحابہ پر جو ایمان لانے میں پہلے اور نیکی،میں احسن اور ایمان و یقین میں پختہ ہیں،آمین!

 


 

 



Total Pages: 712

Go To