Book Name:Fatawa Razawiyya jild 14

اذن وپروانہ لینا چاہئے لیکن سمجھا تو اس قریشی خلافت کا محتاج سمجھا تو ہرگز اس کی بناء پر تقدم و تأخر نہ تھی کہ بلکہ وہی ایك اکیلی شرط قرشیت کہ نامقتدری خلیفہ کی حالت میں بھی اپنا رنگ جماتی اور بڑے بڑے اقتدار وجبروت والوں کا سراپنے سامنے جھکاتی تھی۔الحمدﷲ کیسے روشن بیانوں سے ثابت ہوا کہ یہ سارے جلوے شرط قرشیت کے تھے تمام سلاطین کا خودیہی عقیدہ تھا کہ ہم بوجہ عدم قرشیت لائق خلافت نہیں،قرشی کے سوا دوسرا شخص خلیفہ نہیں ہوسکتا کہ ہر وقت وقرن کے علماء انہیں یہی بتاتے رہے۔اور قطعًا یہی مذہب اہلسنت ہے اور اسی پر احادیث مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی متواتر شہادت ہے " فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ ۚۖ "(تو حق کے بعد کیا ہے صرف گمراہی ہے۔ت)

رہا مسئلہ اعانت،کیاآپ لوگوں کے زعم میں سلطانِ اسلام کی اعانت کچھ ضرور نہیں،صرف خلیفہ کی اعانت جائز ہے کہ مسلمانوں کو اعانت پر ابھارنے کے لئے ادعائے خلافت ضرور ہوا یا سلطان مسلمین کی اعانت صرف قادروں پر ہے اور خلیفہ کی اطاعت بلاقدرت بھی فرض ہے،یہ نصوص قطعیہ قرآن کے خلاف ہے،اور جب کوئی وجہ نہیں پھر کیا ضرور ت تھی کہ سیدھی بات میں جھگڑا ڈالنے کے لئے جملہ علمائے کرام کی واضح تصریحات متظافرہ اور اجماعِ صحابہ واجماعِ امت واحادیثِ متواترہ کے خلاف یہ تحریك لفظ خلافت سے شروع کرکے عقیدہ اجماعیہ اہلسنت کا خلاف کیا جائے،خارجیوں معتزلیوں کا ساتھ دیاجائے، دوراز کار تاویلوں،تبدیلیوں،تحریفوں،خیانتوں،عنادوں،مکابروں سے حق چھپانے اور باطل پھیلانے کا ٹھیکا لیا جائے، والعیاذ باﷲ تعالٰی۔

اب ہم بتوفیقہ تعالٰی اس اجمال مفصل کی تفصیل مجمل کے لئے کلام کو ایك مقدمہ اور تین فصل پر منقسم کرتے ہیں:

مقدمہ:خلیفہ وسلطان کے فرق اور یہ کہ کسی عرف حادث سے مسئلہ خلافت مصطلحہ شرعیہ پر کوئی اثر نہیں پڑسکتا۔

فصل اول:احادیث متواترہ واجماع صحابہ وتابعین ومذہب اہلسنت نصرھم اﷲ تعالٰی سے شرطِ قرشیت کے روشن ثبوت۔

فصل دوم:خطبہ صدارت میں مولوی فرنگی صاحب کی پندرہ سطری کار گزاری کی ناز برداری۔

فصل سوم:رسالہ خلافت میں مسٹر ابوالکلام آزاد کے ہذیانات وتلبیسات کی خدمتگزاری۔

وباﷲ التوفیق لارب سواہ،والصلوٰۃ والسلام علٰی مصطفاہ واٰلہ وصحبہ والاہ۔


 

 



Total Pages: 712

Go To