Book Name:Fatawa Razawiyya jild 14

سنۃ اﷲ فیمن مس احدامن الخلفاء بسوء فان اﷲ تعالٰی یقصمہ عاجلا وما ید خرلہ فی الاٰخرۃ من العذاب اشد۔[1]

سنت الٰہیہ ہے کہ جو کوئی کسی خلیفہ سے برائی کرے اﷲ تعالٰی اسے ہلاك فرمادیتا ہے اور وہ جو آخرت میں اسے کے لئے رکھتا ہے سخت تر عذاب ہے۔

پھر اولاد ابن قلادون میں اس کی شامت کی سرایت بیان فرمائی کہ ان میں جو بادشاہ ہواتخت سے اتارا گیا اور قید یا جلاوطن یا قتل کیا گی،خود اس کا صلبی بیٹا کہ اس کے بعد تخت پر بیٹھا دو۲ مہینے سے کم میں اتاردیا گیا اور مصر سے قوص ہی کو بھیجا گیا جہاں سلطان نے خلیفہ کو بھیجا تھا اور وہیں قتل کیا گیا،ناصر نے چالیس۴۰ برس سے زیادہ سلطنت کی اور اس کی نسل سے بارہ ۱۲بادشاہ ہوئے جن کی مجموعی مدت اتنی نہ ہوئی۔

(ح)نیز امام ممدوح کتاب موصوف میں فرماتے ہیں:

اعلم ان مصر من حین صارت دارالخلافۃ عظم امرھا وکثرت شعائرالاسلام فیھا وعلت فیھا السنۃ وعفت عنھا البدعۃ وصارت محل سکن العلماء ومحط الرجال الفضلاء وھذاسرمن اسرار اﷲ تعالٰی اودعہ فی الخلافۃ النبویۃ کمادل ان الایمان والعلم یکونان مع الخلافۃ اینما کانت ولایظن ان ذٰلك بسبب الملوك فقد کانت ملوك بنی ایوب اجل قدراو اعظم قدر امن ملوك جاء ت بعدھم بکثیر ولم تکن مصر فی زمنھم کبغداد وفی اقطار الارض الاٰن من الملوك من ھواشد بأساواکثر جندامن ملوك مصر کالعجم والعراق والروم والھندو المغرب ولیس الدین قائما بلادھم کقیامہ بمصر ولا شعائر الاسلام

یعنی مصر جب سے دارالخلافہ ہوا اس کی شان بڑھ گئی،شعائرِ اسلام کی اس میں کثرت ہوئی،سنت غالب ہوئی بدعت مٹی،علماء کا جنگل فضلاء کا دنگل ہوگیا،اور یہ رازِ الٰہی ہے کہ اس نے خلافتِ نبوت میں رکھا ہے جس طرح حدیث میں آیا کہ خلافت جہاں ہوگی علم وایمان اس کے ساتھ ہوں گے،اوریہ کوئی نہ سمجھے کہ مصر میں یہ دین کی ترقی سلاطین کے سبب ہوئی کہ سلاطین بنی ایوب سلاطینِ مابعد سے بہت زیادہ جلیل القدر تھے اور ان کے زمانے میں مصر بغداد کو نہ پہنچتا تھا اور اب اطراف زمین میں وہ سلاطین ہیں کہ سلاطین مصر سے ان کی آنچ سخت اور لشکر زائد جیسے ایران،عراق،روم،مغرب، ہندوستان۔مگر دین وہاں ایسا قائم نہیں جیسا مصر میں ہے،نہ شعائر اسلام ایسے ظاہر نہ سنت وحدیث وعلم کا ایسا شیوع،یہ سب خلافت ہی کی برکت ہے،دیکھو کیسا جبار وبالاقتدار

 


 

 



[1] حسن المحاضر ۃ فی اخبار مصر والقاہرۃ



Total Pages: 712

Go To