Book Name:Fatawa Razawiyya jild 14

رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:

ان الدین النصیحۃ ﷲ ولکتابہ ولرسولہ ولائمۃ المسلمین وعامتھم[1]،رواہ احمد ومسلم وابوداؤد والنسائی عن تمیم الداری والترمذی والنسائی عن ابی ھریرۃ واحمد عن ابن عباس والطبرانی فی الاوسط عن ثوبان رضی اﷲ تعالٰی عنہم۔

بیشك دین یہ ہے کہ اﷲ اور اس کی کتاب اور اس کے رسول سے سچا دل رکھے اور سلاطینِ اسلام اور جملہ مسلمانوں کی خیر خواہی کرے(اسے احمد،مسلم،ابوداؤد اور نسائی نے تمیم داری سے اور ترمذی اور نسائی نے ابوہریرہ سے اور احمد نے ابن عباس سے اور طبرانی نے اوسط میں ثوبان رضی ا ﷲ تعالٰی عنہم سے روایت کیا ہے۔(ت)

سلطنت علیہ عثمانیہ ایدہا اﷲ تعالٰی نہ صرف عثمانیہ ہر سلطنت اسلام نہ صرف سلطنت ہر جماعت اسلام نہ صرف جماعت ہر فرد اسلام کی خیر خواہی ہر مسلمان پر فرض ہے اس میں قرشیت شرط ہونا کیا معنی،دل سے خیر خواہی مطلقًا فرض عین ہے،اور وقت حاجت دعا سے امداد واعانت بھی ہر مسلمان کو چاہئے کہ اس سے کوئی عاجز نہیں اور مال یا اعمال سے اعانت فرض کفایہ ہے اور ہر فرض بقدر قدرت ہر حکم بشرط استطاعت۔

قال تعالٰی"" لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَاؕ[2]،وقال تعالٰی" فَاتَّقُوا اللہَ مَا اسْتَطَعْتُمْ"[3]۔

اﷲ تعالٰی نے فرمایا:اﷲ کسی نفس کواس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔اور اﷲ نے فرمایا:تو اﷲ سے ڈرو جہاں تك ہوسکے۔(ت)

مفلس پر اعانت مال نہیں،بے دست وپا پراعانتِ اعمال نہیں،ولہذا مسلمانانِ ہند پر حکم جہاد وقتال نہیں۔بادشاہ اسلام اگرچہ غیر قرشی ہواگرچہ کوئی غلام حبشی ہوامور جائزہ میں اس کی اطاعت تمام رعیت اور وقت حاجت اس کی اعانت بقدر استطاعت سب اہلِ کفایت پر لازم ہے،البتہ اہلسنت کے مذہب میں خلافت شرعیہ کے لئے ضرور قرشیت شرط ہے اس بارے میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے متواتر حدیثیں ہیں،اسی پر صحابہ کا اجماع،تابعین کا اجماع،اہلسنت کا اجماع ہے،اس میں مخالف نہیں مگر خارجی یا کچھ معتزلی کتب عقائد وکتب


 

 



[1] صحیح مسلم کتاب الایمان قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۴،سنن ابوداؤد کتاب الادب آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۲۰،مسند احمد بن حنبل حدیث تمیم الداری دارالفکر بیروت ۴/ ۱۰۲

[2] القرآن الکریم ۳/ ۲۸۶

[3] القرآن الکریم ۶۴/ ۱۶



Total Pages: 712

Go To