Book Name:Fatawa Razawiyya jild 14

کیا؟ اور کس کی اطلاع پر جنودربانیہ کے زعماء مولوی محمود حسن وغیرہ کو گرفتار کرکے جزیرہ مالٹا میں قید کیا گیا؟ مولوی تاج محمود امروٹی کے صاحبزادے اور سندھ کے سیاسی لیڈر مولوی محمد شاہ امروٹی نے بستر مرگ پر پڑے ہوئے بیان دیا کہ مولوی اشرف علی تھانوی نے ان تمام منصوبوں کی اطلاع اپنے بھائی مظہر علی کو پہنچائی جو سی آئی ڈی کے افسر اعلی تھے ،انھوں نے انگریز حکومت کو اطلاع پہنچا دی  [1]اور مولوی شبیر احمد عثمانی نے صاف اعتراف کیا کہ بعض لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ تھانوی صاحب کو انگریز حکومت کی طرف سے چھ سو روپے ماہانہ ملاکرتے تھے۔ [2]

کیا یہ ثابت کیا جاسکتاہے کہ امام احمد رضا کے بھی انگریز حکومت کے ساتھ اس قسم کے تعلقات تھے یا انھوں نے حکومت وقت سے مفاد حاصل کیا؟ وہ تو انگریز دورحکومت میں مسلم امّہ کو جگاتے ہوئے فرمارہے ہیں؟

ع             سونے والو! جاگتے رہیو، چوروں کی رکھوالی ہے

تشدّد کا الزام

امام احمد رضا بریلوی اخلاص اور للہیت کا پیکر تھے، انھوں نے قرآن وحدیث اسلام کے ارشادات کی روشنی میں بغٖیر کسی رورعایت کے فتوے صادرکئے، روافض اور قادیانیوں کے خلاف آپ کے فتووں کو دیوبندی مکتب فکر کے لوگ بھی اپنی تائید اور حمایت کے ساتھ شائع کرتے ہیں اورانھیں تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، پھر کیا وجہ ہے کہ علمائے دیوبند کے خلاف ان کے فتووں کو قابل التفات نہ گردانا جائے؟

دراصل بات یہ ہے کہ نبی اکرم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم وتکریم ضروریات دین میں سے ہے اور آپ کی گستاخی اور توہین کفر ہے ، اس پر بریلوی دیو بندی دونو ں متفق ہیں ۔

 مولوی حسین احمد مدنی لکھتے ہیں:

"حضرت مولانا گنگوہی ۔۔۔۔۔ فرماتے ہیں کہ جو الفاظ موہم تحقیر حضور سرورکائنات علیہ السلام ہوں اگر چہ کہنے والے نے نیت حقارت نہ کی ہو، مگر ان سے بھی کہنے والا کافر ہوجاتاہے۔"[3]

اختلاف اس وقت پیدا ہوا جب امام احمد رضا بریلوی نے علماء دیوبند کی بعض عبارات پر گرفت کی


 

 



[1] انجم لاشاری ماہنامہ شوٹائم، کراچی (شمارہ اپریل ۱۹۸۸ء) ص۱۳۱

[2] مکالمۃالصدرین (مطبوعہ دیوبند) ص۱۰۔ ۹

[3] حسین احمد مدنی، مولوی: الشہاب الثاقب ص۵۷



Total Pages: 712

Go To