Book Name:Fatawa Razawiyya jild 14

مشہور کالم نگار کو ثر نیازی لکھتے ہیں:

"ایك ایسا مرد مومن جسے انگریزی سامراج سے اتنی نفرت ہوکہ وہ اس کی کچہری میں جانے کو حرام سمجھتاہو، جو مقدمہ قائم ہوجانے کے باوجود اس کی عدالت میں نہ گیا ہو، جو خط لکھتاہو تو کارڈ اور لفافے کی الٹی طرف پتہ لکھتاہو تاکہ انگریز بادشاہ اور ملك کا سرنیچا نظر آئے، جس نے اپنی وفات سے دوگھنٹے پہلے یہ وصیت کی ہو کہ اس دالان سے ڈاك میں آئے ہوئے وہ تمام خطوط جن پر ملکہ اور بادشاہ کی تصویر ہے اور روپے پیسے جن پر یہ تصویریں ہیں سب باہر پھینك دئے جائیں تاکہ فرشتہ ہائے رحمت کو آنے میں دشواری نہ ہو،

جس نے نعت گوئی میں بھی کسی کو نمونہ مانا اور اسے سلطان نعت گویاں قرار دیا تو حضرت مولانا کفایت علی کافی تھے جنھوں نے ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتوٰی دیا۔ اس سلسلے میں باقاعدہ جدوجہد کی اور ۱۸۵۸ء میں مراد آباد کے چوك میں انھیں برسر عام پھانسی دے دی (مقصد یہ کہ امام احمد رضا (علیہ الرحمۃ) انگریز نواز ہوتے تو انگریز کے اتنے بڑے دشمن کو اپنا آئیڈیل نہ بناتے ۱۲ قادری)

اس کے بارے میں یہ کہناکہ وہ انگریزکا حامی تھا ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے سورج ظلمت، پھول بدبو، چاند گرمی، سمندرخشکی، بہار جھڑ، صبا صرصر، پانی حدت، ہوا حبس اور حکمت جہالت کا دوسرانام ہے      ع

پاپوش میں لگائی کرن آفتاب کی

جو بات کی خدا کی قسم لاجواب کی [1]"

امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ کی حیات مبارکہ وہ شفاف آئینہ ہے جس پر انگریز نوازی کا کوئی داغ نہیں ۔ا نھوں نے ان کے صاحبزادوں اور تلامذہ وخلفاء نے کبھی انگریز سے تعلق نہ رکھا، ان میں سے کسی کو انگریز نے شمس العلماء وغیرہ کا خطاب نہ دیا۔ نہ ان میں سے کسی نے انگریز سے جائیداد حاصل کی، آج انڈیا آفس لائبریری کا ریکارڈ اوپن ہوچکا ہے جس کا تعلق پاك وہند کی تحریك آزادی سے ہے، کہیں سے تو انگریز دوستی کا ثبوت ملے۔

اس کے برعکس یہ حقیقت کوئی راز سر بستہ نہیں رہی کہ تحریك ریشمی رومال کا راز کس نے طشت ازبام


 

 



[1] کوثرنیازی: امام احمد رضا ہمہ جہت شخصیت ص۱۶



Total Pages: 712

Go To