Book Name:Fatawa Razawiyya jild 14

ایك وجہ یہ تھی کہ ان تحریکوں میں گاندھی ایسا مشرك لیڈر تھا اورمسلمان لیڈر اس کے مقتدی تھے، اس میل جول اور اتحاد کا اثر ہندوؤں پر تو کچھ نہ ہوتا البتہ مسلمان اپنے دین سے ہاتھ دھو بیٹھتے، اس موقع پر امام احمد رضا بریلوی نے ڈنکے کی چوٹ پر اس اتحاد کی مخالفت کی، اوراتحاد کرنے والے علماء اور لیڈر کو فرقہ گاندھویہ کا لقب دے کر ان کی شدید مخالفت کی ، چونکہ امام احمد رضا بریلوی اور ان کے ہم مسلك علماء اہلسنت کا حلقہ اثر بہت وسیع تھا اس لئے ان کے مخالفین ابوالکلام آزاد وغیرہ کی بڑی کوشش تھی کہ وہ بھی ہمارے ساتھ تحریکوں میں شریك ہوجائیں۔

ایك شوشہ یہ چھوڑا گیا کہ ترکی کی حکومت چونکہ خلافت شرعیہ ہے اس لئے جو اس کی حمایت نہیں کرتا وہ کافر ہے، امام احمدرضا بریلوی سے اس سلسلے میں استفتاء کیا گیا توآپ نے فرمایا کہ جہاں تك خیرخواہی کا تعلق ہے وہ تو دل سے ہر مسلمان کے لئے فرض ہے ، اس میں قریشی ہونا شرط نہیں البتہ خلافت شرعیہ کےلئے دیگر شرائط کے علاوہ ایك شرط قریشی ہونا ہے، اس مسئلے پرآپ نے ایك رسالہ تحریر فرمایا جس کانام ہے:

"دوم العیش فی الائمۃ من قریش۔"

یہ رسالہ آپ کی وفات کے بعد چھپا، اس کی اشاعت سے انگریز کو فائدہ پہنچانا مقصود ہوتا توآپ کی ظاہری زندگی میں شائع کیا جاتا۔

انگریز نوازی کا الزام

یہ وہ حالات تھے جن کی بناء پر مخالفین نے امام احمد رضا پر انگریز نوازی کا الزام لگایا، جس کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

نوائے وقت کے مشہور کالم نویس میاں عبدالرشید رحمۃ الله تعالٰی علیہ لکھتے ہیں:

"ان دنوں چونکہ سارے پریس پر ہندوؤں کاقبضہ تھا اس لئے حضرت احمد رضا خاں بریلوی اور آپ کے ہم خیال لوگوں کے خلاف سخت پروپیگنڈا کیا گیا اوربدنام کرنے کی مہم چلائی گئی۔ لیکن تاریخ نے ان ہی حضرات کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ اب باطل پراپیگنڈے کا طلسم ٹوٹ رہا ہے اور حق کھل کر سامنے آرہاہے۔"[1]


 

 



[1] میاں عبدالرشید: پاکستان کا پس منظر اور پیش نظر (ادارہ تحقیقات پاکستان لاہور) ص۱۲۰



Total Pages: 712

Go To