Book Name:Fatawa Razawiyya jild 14

منبروں پر گاندھی ایسے مشرك کو بٹھاکر اس کی تقریریں کرائی جارہی تھیں مختصر یہ کہ ہندو مسلم اتحاد کے لئے پوری طرح راہ ہموار کی جاچکی تھی۔

دوسری طرف لیڈروں کی نگاہ سے یہ حقیقت یکسر پوشیدہ تھی کہ انگریزکے اس ملك سے چلے جانے کے بعد اقتدار لازمی طورپر ہندؤوں کو ملے گا، جو ہندوستان میں غالب اکثریت میں تھے، مسلمانوں کو کیا فائدہ پہنچتا؟ انھیں یہی فرق پڑتاکہ پہلے انگریز حکمران تھے جو اہل کتاب ہونے کا دعوٰی کرتے تھے بعدمیں ہندوؤں کی حکومت ہوتی جو مشرك تھے اور کسی آسمانی کتاب کو نہ مانتے تھے ہندؤوں نے حکومت نہ ہونے کے باوجود شدھی اور سنگھٹن تحریکوں کے ذریعے مسلمانوں کو ہندو بنانے کے لئے ہر حربہ استعمال کرڈالا تھا، جب انھیں حکومت مل جاتی تو وہ کیا کچھ نہ کرتے؟ اس دورمیں اس حقیقت کا ادراك سب سے پہلے امام احمد رضا بریلوی نے کیا اور بستر علالت سے"المحجۃ المؤتمنۃ"کتاب لکھ کر ہندومسلم اتحاد کی کوششوں پر کاری ضرب لگائی اور قوم مسلم میں نئی روح پھونك دی یہ کتاب تحریك پاکستان کی خشت اول کی حیثیت رکھتی ہے، یہ کتاب فتاوی رضویہ کی چودھویں جلد میں شائع کردی گئی ہے، ارباب حکومت، ماہرین تعلیم اورتاریخ پاکستان کے محققین کو اس کا مطالعہ کرنا چاہئے۔

مولانا کوثر نیازی لکھتے ہیں:

"امام رضاگاندھی کے بچھائے ہوئے اس دام ہمرنگ زمین کو خوب دیکھ رہے تھے انھوں نے متحدہ قومیت کے خلاف اس وقت آواز اٹھائی جب اقبال اور قائداعظم بھی اس کی زلف گرہ گیر کے اسیر تھے، دیکھا جائے تو دو قومی نظریہ کے عقیدے میں امام احمد رضا مقتداء ہیں اور یہ دونوں حضرات مقتدی، پاکستان کی تحریك کو کبھی فروغ نہ ہوتا اگر امام احمد رضا سالوں پہلے مسلمانوں کو ہندؤوں کی چالوں سے باخبرنہ کرتے۔"[1]

امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمۃ کا موقف یہ تھا کہ موالات دوستی کو کہتے ہیں، مسلمان کے دل میں کسی بھی کافر کی دوستی نہیں ہونی چاہئے خواہ انگریز ہو یا ہندو، تحریك ترك موالات کے حامی انگریز کی دوستی ہی نہیں اس کے ساتھ معاملات کرنے سے بھی منع کرتے تھے، دوسری طرف ہندو کی دوستی میں اس قدر آگے بڑھ گئے تھے کہ اتحاد کی کوشش کررہے تھے۔

امام احمد رضا بریلوی نے تحریك خلافت اور تحریك ترك موالات کی مخالفت کی اور اختلاف کی


 

 



[1] کوثر نیازی: امام احمد رضا خاں بریلوی ایك ہمہ جہت شخصیت معارف نعمانیہ لاہور ص۱۵۔ ۱۴



Total Pages: 712

Go To