Book Name:Fatawa Razawiyya jild 14

 

 

 

 

رسالہ

اعلام الاعلام بان ہندوستان دارالاسلام ۱۳۶۵ھ

(علم کے پہاڑوں کا اعلان کہ بیشك ہندوستان دارالاسلام ہے)

 

مسئلہ۳تا۵:                            از بدایوں محلہ براہم پورہ مرسلہ مرزا علی بیگ صاحب                    ۱۲۹۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:

(۱)ہندوستان دارالحرب ہے یادارالاسلام؟

(۲)اس زمانہ کے یہود و نصارٰی کتابی ہیں یانہیں؟

(۳)روافض وغیرہم مبتدعین کہ کفارہ داخل مرتدین ہیں یانہیں؟جواب مفصل بدلائل عقلیہ ونقلیہ مدلل درکار ہے؟ بینوا توجروا۔


جواب سوالِ اول

ہمارے امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ بلکہ علمائے ثلٰثہ رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہم کے مذہب پر ہندوستان دارالاسلام ہے ہرگز دارالحرب نہیں کہ دارالاسلام کے دارالحرب ہوجانے میں جو تین باتیں ہمارے امام اعظم امام الائمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے نزدیك درکار ہیں ان میں سے ایك یہ ہے کہ وہاں احکام شرك علانیہ جاری ہوں اور شریعتِ اسلام کے احکام و شعائر مطلقًا جاری نہ ہونے پائیں اور صاحبین کے نزدیك اسی قدر کافی ہے مگر یہ بات بحمداﷲ یہاں قطعًا موجود نہیں اہل اسلام جمعہ و عیدین واذان واقامت و نماز باجماعت وغیرہا شعائر شریعت بغیر مزاحمت علی الاعلان ادا کرتے ہیں۔فرائض،نکاح،رضاع، طلاق، عدۃ، رجعت،مہر،خلع،نفقات،حضانت،نسب،ہبہ،


 

 



Total Pages: 712

Go To